وزیراعظم پاکستان کا نمائندہ ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ ملاقات کرنے میں تاحال ناکام

خبر کا کوڈ: 1264599 خدمت: پاکستان
طارق فاطمی

وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی ابھی تک نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کے ساتھ ملاقات کرنے میں ناکامی کا سامنا ہے تاہم کچھ عہدیداروں سے ملاقات کی امید ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے ڈان نیوز سے نقل کیا ہے کہ طارق فاطمی ان دنوں ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم سے تعارفی ملاقاتوں کے لیے امریکی دورے پر ہیں جس کے دوران انہوں نے اب تک صرف سبکدوش ہونے والی اوباما انتظامیہ کے سینیئر عہدیداروں اور امریکی پارلیمنٹ کے ممبران سے ملاقاتیں کی ہیں۔

امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ طارق فاطمی کی اب تک ہونے والی ملاقاتوں سے مختلف مسائل پر پاکستانی نقطہ نظر اجاگر کرنے میں مدد ملی۔

طارق فاطمی کے دورے کے دوران اب تک امریکا کی جانب سے واحد بیان اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے نائب ترجمان مارک ٹونر کی جانب سے دیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ امریکی حکام کی جانب سے طارق فاطمی کے ساتھ باہمی اور علاقائی معاملات سمیت خطے میں دہشت گردی کے خلاف تعاون اور علاقائی سلامتی پر گفتگو کی گئی۔

تاہم اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے نائب ترجمان نے یہ واضح نہیں کیا تھا کہ طارق فاطمی سے ہونے والی ملاقاتوں میں پاکستان اور امریکا کے کشیدہ تعلقات کو بہتر بنانے میں کتنی ملی۔

دوسری جانب تاحال پاکستانی سفارتخانے اور ٹرمپ کی ٹیم کی جانب سے طارق فاطمی کی نئی آنے والی امریکی انتظامیہ کے عہدیداروں سے ملاقاتوں یا ممکنہ ملاقاتوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی ہے۔

رواں ہفتے کے آغاز میں ہی طارق فاطمی نے نیویارک کا دورہ کیا تھا، جہاں نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے کاروبار سے متعلق اجلاس کا انعقاد کیا، مگر پاکستانی سفارتکاروں کے مطابق طارق فاطمی نے وہاں صرف اقوام متحدہ کے سینیئر اہلکاروں سے ملاقات کی، جس کے بعد وہ اسی دن واشنگٹن آ گئے۔

ایک سینیئر پاکستانی سفارتکار نے طارق فاطمی کی جانب سے ٹرمپ ٹیم کے ممبران سے ملاقات نہ کرنے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں بتایا کہ پروٹوکول کے باعث سرکاری حیثیت میں طارق فاطمی ان سے نہیں مل سکتے تھے لیکن سفارتخانہ ان کی غیر رسمی ملاقات کروانے کے لیے کوشاں ہے۔

طارق فاطمی کی آئندہ ہفتے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ میں قومی سلامتی کے مشیر اور ٹرمپ کی منتقلی ٹیم کے اہم ممبر اسٹیفن ہیڈلی سے ملاقات کا امکان ہے جو کہ ٹرمپ انتظامیہ کے کافی قریب ہیں۔

طارق فاطمی تاحال ٹرمپ کی ٹیم کے عہدیداروں سے ملاقات کیوں نہیں کر سکے ہیں کہ جواب میں سفارتکار کا کہنا تھا کہ طارق فاطمی ٹرمپ ٹیم سے ٹیلی فون پر گفتگو میں سرگرم ہیں، ہم ٹرمپ انتظامیہ کے 'ممکنہ' کے بجائے 'بااثر' افراد تک پہنچ رہے ہیں۔

پاکستانی سفارتخانے کے مطابق طارق فاطمی کی ایسے عہدیداروں سے غیر رسمی ملاقات کروانا جو اس وقت حکومت میں شامل نہیں ہے غیرمناسب ہے، دیگر ممالک کے عہدیدار بھی ایسا ہی کر رہے ہیں۔ دنیا بھر سے کئی عالمی رہنما اور سینیئر حکومتی عہدیدار ٹرمپ سے ملاقات کے لیے نیو یارک آئے ہوئے ہیں۔

پاکستانی سفارتخانے کے عہدیداروں کے مطابق وہ بھی ٹرمپ ٹیم سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، مگر وہ طارق فاطمی کی ٹرمپ کی ٹیم سے غیر رسمی ملاقاتیں کروانے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔

پاکستانی سفارتخانے کے رسمی اور غیر رسمی روابط کی وجہ سے کچھ دن قبل وزیر اعظم نواز شریف اور نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فون پر رابطہ ممکن ہوا تھا، مگر دونوں رہنماؤں کا رابطہ اس وقت متنازع بن گیا جب وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی پریس ریلیر جاری کی گئی۔

واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران طارق فاطمی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ آفس کی منظوری کے بعد وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے میڈیا بیان جاری کیا گیا تھا۔ وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری کئے گئے بیان میں منتخب صدر کے لفظ سمیت تمام الفاظ ایمانداری اور سچائی سے بیان کیے گئے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے وزیر اعظم کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کے وقت وہاں موجودگی پر پوچھے گئے سوال کے جواب طارق فاطمی کا کہنا تھا کہ وہ وزیر اعظم کے خصوصی مشیر ہیں،اور صحیح وقت پر صحیح جگہ موجود رہنا ان کی ڈیوٹی ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو سے متعلق جاری کیا گیا میڈیا بیان حیران کن طور پر واشنگٹن میں متنازعہ صورت اختیار کر گیا، یہاں تک وائٹ ہاؤس کو بھی اس میں مداخلت کرنا پڑی کہ ٹرمپ کو عالمی رہنماؤں کے ساتھ گفتگو کے وقت مزید محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔

امریکی میڈیا نے بھی دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کو ذاتی خواہش کے طور پر جاری کرنے پر پاکستان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔

تاہم تنازعات سے بے فکر طارق فاطمی کا اسرار ہے کہ نئی امریکی انتظامیہ پاکستان کو واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنانے کے لیے موقع فراہم کرے گی۔

    تازہ ترین خبریں