مشیر خارجہ:

ایران سعودی کشیدگی کو پاکستان کے شیعوں اور سنیوں کی کشیدگی میں بدلنے کے متحمل نہیں ہو سکتے

خبر کا کوڈ: 1266799 خدمت: پاکستان
سرتاج عزیز

مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا کہنا ہے کہ یمن کے خلاف جنگ فرقہ وارانہ پہلو کی حامل ہے جس کے باعث اس جنگ میں فرقہ و اریت کا عنصر غالب ہے، یمن کی جنگ کی فرقہ وارانہ پہلو کی بنیاد پر سامنے آنیوالی وجوہات نے ہی اس جنگ میں ہمارے ملک کو حصہ لینے سے روک رکھا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، پاکستان کے وزیر اعظم کے خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ یمن کے خلاف جنگ فرقہ وارانہ پہلو کی حامل ہے جس کے باعث اس جنگ میں فرقہ و اریت کا عنصر غالب ہے ،یمن کی جنگ کی فرقہ وارانہ پہلو کی بنیاد پر سامنے آنیو الی وجوہات نے ہی اس جنگ میں ہمارے ملک کو حصہ لینے سے روک رکھا ہے۔

اللؤلؤة ٹی وی کی اردو سروس کے مطابق وزیرا عظم کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کا منامہ ڈائیلاگ کے سیشن کے دوران خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان کی 20 فیصد آبادی شیعہ مسلک سے تعلق رکھتی ہے اور ہم ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی کو پاکستان کے شیعوں اور سنیوں کی کشیدگی میں بدلنے کے متحمل نہیں ہو سکتے لہذا دونوں ممالک کے ساتھ ہمارے جو تعلقات ہیں ان میں احتیاط برت رہے ہیں۔

سرتاج عزیز نے اس موقع پر سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے مذاکراتی عمل شروع کئے جانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ ہمارے سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں لیکن ایران ہمارا ہمسائیہ برادر ملک ہے اور ہمارے اس کے ساتھ کاروباری تعلقات بھی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان 11 ستمبر کے واقعات کے بعد افغان جنگ میں حصہ لینے کی وجہ سے گزشتہ 20 سال سے دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے یہ اس بات کی نشاندہی کرتا تھا کہ یمن کے معاملے میں ہماری شرکت پاکستان کے اندر فر قہ واریت کے مسائل پید اکر دے گی اور یہی وجہ ہے کہ یمن کی جنگ میں اتحادی عمل میں ہم حصہ دار نہیں بنے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ یمن کے معاملے میں اقوام متحدہ کے واضح فیصلے کی غیر موجودگی میں فرقہ وارانہ افق کے پیش نظر کسی غیر ملکی مداخلت کو ایک اچھا منصوبہ نہیں سمجھا جائے گا۔

سرتاج عزیز نے کہاہے کہ ہم خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے ساتھ فوجی تربیت اور دیگر چیزوں سمیت دفاعی تعاون آگے بڑھانے کے لئے تیار ہیں لیکن ہم اپنے فوجیوں کو شام یا یمن کے معاملات میں ملوث نہیں کر سکتے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری