بھارت کشمیر میں کیمیائی ہتھیار استعمال کررہا ہے، حافظ سعید

خبر کا کوڈ: 1267290 خدمت: اسلامی بیداری
حافظ سعید

امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان حافظ محمد سعید نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر میں کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہا ہے اور پاکستان کو چاہئے کہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے سامنے بھرپور انداز میں اٹھائے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق،  امیر جماعۃ الدعوۃ پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر میں کیمیائی ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ پاکستان اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے سامنے کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کا کیس اٹھائے۔مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کے لئے15دسمبر کو مظفر آباد میں کشمیر کانفرنس ہو گی جس میں شرکت کے لئے سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین کو دعوت دی گئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی تحریک کشمیریوں کی اپنی ہے۔ بھارت پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈہ کرتا ہے۔ بھارتی دھمکیوں پر پاکستان کی خاموشی افسوسناک ہے۔

انہوں نے کہا: کلبھوشن کے بارے سرتاج عزیز کا بیان سیاسی خیانت ہے،کلبھوشن را کا ایجنٹ ہے۔ امریکا،اسرائیل اور انڈیا کے آپس میں معاہدے پاکستان کے خلاف ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر دنیا انڈیا کو کیوں نہیں روک رہی؟ جماعۃالدعوۃ کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ سے متاثرہ افراد کی بھرپور مدد کر رہی ہے۔ پاکستان میں کشمیر کے حوالہ سے عوامی سطح پر تحریک کھڑی کریں گے۔ پاک فوج اپنا کردار ادا کرے۔ قوم کا بچہ بچہ فوج کے ساتھ ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز قبا اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر جماعۃ الدعوۃ کے مرکزی رہنما حاجی جاوید الحسن، مرکزی ترجمان یحییٰ مجاہد بھی موجود تھے۔

حافظ محمد سعید نے کہا کہ اسوقت امت مسلمہ بہت مشکل صورتحال سے د وچار ہے۔کشمیر میں انڈیا کی آٹھ لاکھ فوج جارحیت اور بربریت کی انتہا کر رہی ہے۔ بھارتی فوج نے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنا شروع کر دئے ہیں حال ہی میں شہید ہونے والے نوجوان ماجد کی لاش سب کے سامنے ہے۔ لاش کا کوئی حصہ نظر نہیں آ رہا، پوٹلی میں گوشت کے چند ٹکڑے رکھے گئے ہیں۔کیمیکل کی وجہ سے لاش جو منظر پیش کر رہی ہے وہ دنیا کے لئے ایک تازیانہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ کیمیکل ہتھیاروں کے استعمال کی دنیا بھر میں کہیں بھی اجازت نہیں لیکن انڈیا استعمال کر رہا ہے اور اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی ادارے اور ممالک خاموش ہیں۔ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا مسئلہ اقوام متحدہ سمیت پوری دنیا کے سامنے اٹھائے۔

انہوں نے کہا کہ کوئی بھی انڈیا کو روکنے والا نہیں اور اگر مظلوم کشمیری پتھر لے کر بھارتی فوج کے مقابلے میں کھڑے ہوتے ہیں تو انہیں دہشت گردکہا جاتا ہے۔ کشمیر کی تحریک کشمیریوں کی اپنی ہے، انڈیا نے ہمیشہ اس حوالہ سے پاکستان پر بے بنیاد الزامات لگائے، برہان وانی کی شہادت کے بعد جو صورتحال بنی ہے اب ہر انصاف پسند بندہ یہ کہتا ہے کہ یہ کشمیریوں کی ہی تحریک ہے۔ ماجد کی شہادت مہر ثبت کر رہی ہے، نو ہزار کشمیری بچے گرفتار اور جیلوں میں ہیں، خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا۔ حریت رہنماؤں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی بھی گرفتار ہیں جبکہ ان کے شوہر ڈاکٹر قاسم فکتو 26سال سے جیل میں ہیں اور میاں بیوی کو فون پر بات کرنے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی۔

امیر جماعۃ الدعوۃ نے مزید کہا: کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے جماعۃ الدعوۃ 15دسمبر جمعرات کو مظفر آباد میں کشمیر کانفرنس کا انعقاد کر رہی ہے جس میں انڈیا کی جارحیت دنیا کے سامنے لائیں گے۔ کانفرنس میں سیاسی، دینی و سماجی جماعتوں کو بھی دعوت دی ہے۔ کانفرنس کے ذریعہ کشمیر کے مظلوموں کو حوصلے کا پیغام اور مودی سرکار کو کہیں گے کہ باز آجاؤ، ہر چیز کی حد ہوتی ہے جب انتہا ختم ہو جائے تو حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہتے۔

حافظ محمد سعید نے کہا کہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ کشمیریوں کی تحریک کشمیریوں کی رہے اور ہم ان کی مدد کریں، ان کی آواز دنیا کے سامنے اٹھائیں۔ کشمیر کے حوالہ سے ملک بھر میں تحریک برپا کریں گے تاکہ حکومت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔ جلسے،کانفرنسیں اور لانگ مارچ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ نے کٹھوعہ میں کہا کہ پاکستان کے پہلے دو ٹکڑے کئے تھے اب دس ٹکڑے کریں گے۔ پہلے مودی نے بھی اسی طرح کی دھمکی دی تھی لیکن انتہائی دکھ کی بات ہے کہ اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ مودی سرکار سن لے، یہ اکہتر والا پاکستان نہیں، 2016کا پاکستان ہے،کشمیر انڈیا کے پاس نہیں رہے گا اور انڈیا کے اپنے علاقے بھی اس کے ہاتھ میں نہیں رہیں گے۔ راجناتھ کو بھی کشمیر کانفرنس میں پیغام دیں گے۔ ہم ہراس ہاتھ کو روکنے کی کوشش کریں گے جو مسلمانوں کے قتل کی طرف بڑھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کنٹرول لائن پر فائرنگ سے ہزاروں لوگ نقل مکانی کر چکے ہیں اور سکولوں و دیگر مقامات پر کھلے آسمان تلے سخت سردی میں رہ رہے ہیں۔ جماعۃ الدعوۃ نے بھارتی جارحیت کے متاثرین کی امداد کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ خشک راشن، بستر اور خیمے متاثرین میں تقسیم کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت کو کیسے روکا جائے،کیا لوگ نقل مکانی کرتے رہیں گے۔ کشمیر میں اسی طرح خون بہتا رہے گا، ان سوالوں کا جواب دنیا کو دینا ہوگا۔ امریکا نے انڈیا کو شہہ دینا شروع کر رکھی ہے، انڈیا جو ظلم کی انتہا کو پہنچ چکا ہے اسے امریکی شہہ اور اسرائیلی مدد حاصل ہے۔ امریکا - انڈیا اور اسرائیل - انڈیا معاہدے پاکستان کے خلاف ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرتاج عزیز کو امرتسر میں پریس کانفرنس کی اجازت نہیں دی گئی اور انہوں نے واپس آکر کہا کہ بڑی کامیابی حاصل کی ہے اس کی وضاحت وہی کر سکتے ہیں،کلبھوشن کے بارے میں سرتاج عزیز کا بیان یہ بڑا ظلم ہے، کلبھوشن را کا ایجنٹ ہے، اور بلوچستان سے گرفتار ہوا ہے، سرتاج عزیز نے سیاسی خیانت کی، سرتاج عزیز کا سٹیٹس نہیں کہ وہ کلبھوشن کے بارے میں بیان دے بلکہ کلبھوشن کے بارے میں صرف ان کو بات کرنی چاہئے جنہوں نے اس سے تفتیش کی۔

حافظ محمد سعید نے کہا کہ مشرف کے دور میں بھارت نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیز فائر لائن پر باڑ لگائی، اب مودی نے پاکستان کا پانی بند کرنے کی دھمکی دی، کشمیر میں کیمیکل ہتھیاروں کا استعمال یہ سب بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے لیکن کوئی اسے روکنے والا نہیں۔ پاکستان کی طرف سے ایڈہاک ازم چل رہا ہے اور انڈیا کی طرف سے مسلسل جارحیت ہو رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اپنے مسائل ہیں، افغانستان میں امریکہ نے پندرہ برس میں جو صورتحال پیدا کر دی وہ سب کے سامنے ہے۔ داعش جیسی تنظمیں کھڑی کی گئیں جو پاکستان کے لئے خطرہ ہیں۔ بہت دیر تک پاکستا ن نے برداشت کیا اور افغانستان والے بارڈر پر کوئی باڑ نہیں لگائی جس کے نتیجے میں پاکستان میں دھماکے ہوئے، دہشت گردوں کو انڈیا کی شہہ حاصل تھی اور وہ افغانستان کی زمین استعمال کر کے پاکستان میں تخریب کاری کرواتے تھے۔ پاکستان بڑے حوصلے کے ساتھ یہاں تک پہنچا ہے، افغانیوں کے ساتھ ہمارا دین کا رشتہ ہے لیکن افسوس اسوقت جنگ امریکا کے ساتھ ہے وہ انڈیا کو پاکستان کے خلاف کھڑا کر چکا ہے۔ انڈیا جو مشرقی بارڈر سے نہیں کر سکتا تھا وہ مغربی بارڈر سے کر رہا ہے، دشمنوں کی وجہ سے پاک افغان تعلقات مجروح ہو رہے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بنیادی مسائل کے حل کے لئے کوئی سیاست نہیں کر رہا۔ پاکستان کی عوام کو متحد کر کے مسائل کو حل کیا جائے۔ پاکستان میں کشمیر کے حوالہ سے عوامی سطح پر تحریک کھڑی کریں گے۔ پاکستانی قوم فوج کے ساتھ ہے اور فوج اپنا کردار ادا کرے۔ کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت میں کمی پاک فوج کی جانب سے بھر پور جواب دینے کے بعد ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ دوسرا مودی ہے جس کے الیکشن جیتنے سے انڈیا سمجھتا ہے کہ اسے گرین سگنل مل گیا ہے اور اسے اب کوئی رکاوٹ نہیں وہ جو مرضی کرے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں مسلمان مر رہے ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔ برما میں مسلمانوں کا قتل عام ہو رہا ہے۔ بدھ مذہب کے حکمران مسلمانوں کو مارنا جائز نہیں سمجھتے تھے لیکن آج کوئی ان کو پوچھنے والا نہیں۔ شام میں حلب کی بھی یہی صورتحال ہے، مسلمانوں کے مسئلہ کو کوئی بھی حل کرنے والا نہیں۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و زیادتی کو دنیا کے سامنے رکھے۔ بین الاقوامی پروپیگنڈے کی وجہ سے مظلوموں کو دہشت گرد قرار دے کر دنیا کے میڈیا پر نہ چلیں، ہم کم از کم یہ تو کہیں کہ یہ مظلوم ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری