بائیکاٹ ختم؛ عمران خان کا پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ

خبر کا کوڈ: 1267449 خدمت: پاکستان
عمران خان

پاکستان تحریک انصاف (پی آٹی آئی) نے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ ختم کرتے ہوئے وزیراعظم میاں نواز شریف کے خلاف پارلیمنٹ میں تحریک استحقاق اور تحریک التواء پیش کرنے کا اعلان کردیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے ڈان نیوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت بدھ (آج) کو پارلیمنٹ میں وزیراعظم کے خلاف دو تحریکیں جمع کرائے گی۔

عمران خان نے کہا کہ ’وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں دو جھوٹ بولے، پہلا یہ کہ گلف اسٹیل کو بیچ کر جو نفع ملا اس سے مے فیئر کے فلیٹ لیے گئے لیکن ہم نے عدالت میں ثابت کردیا کہ گلف اسٹیل مل تو 26 لاکھ درہم کے نقصان میں چل رہی تھی تو مے فیئر فلیٹ کیسا خریدا گیا‘؟

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ ’اپوزیشن کی جانب سے مئے فیئر فلیٹس اور پانامہ کی کمپنیوں کے حوالے سے جواب طلب کرنے پر حکومت نے کہا تھا کہ ہمارے پاس تمام دستاویز موجود ہیں اور جب چاہیں آمدنی کے ذرائع کی تفصیلات پیش کردیں گے‘۔

عمران خان نے کہا کہ ’اس کے برعکس عدالت میں وزیر اعظم کے وکیل نے کہا کہ پارلیمنٹ میں کی جانے والی تقریر سیاسی تھی‘۔

عمران خان نے استفسار کیا کہ وزیراعظم نے اسمبلی میں کیوں جھوٹ بولا کہ ان کے پاس تمام دستاویز موجود ہیں؟

انہوں نے کہا کہ اسمبلی کے فلور پر پارلیمیٹرینز اور قوم سے جھوٹ بولنے پر پارلیمنٹ میں دو تحریکیں جمع کرائیں گے جن میں سے ایک تحریک التواء اور دوسری تحریک استحقاق ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ’اب پتہ چلے گا کہ پارلیمنٹ جس کے سامنے نواز شریف نے جھوٹ بولا اب ان سے جواب طلب کرے گی یا نہیں‘؟

عمران خان نے کہا کہ کل اپوزیشن اور حزب اقتدار سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی دونوں کا امتحان ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ’جوپارلیمنٹ وزیراعظم سے جواب نہ لے سکے اس کی کیا حیثیت، اب پارلیمنٹ کے اوپر ہے کہ وہ اپنی ساکھ بچائے‘۔

ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ ’ہم اس لیے پارلیمنٹ سے باہر ہیں کیوں کہ وزیراعظم نے وہاں جواب نہیں دیا، ہم ان کے ہمنوا تو نہیں جو وہاں تالیاں بجانے چلے جائیں‘۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر ہماری تحریکوں پر کارروائی ہوتی تو ہم پارلیمنٹ میں واپس آسکتے ہیں ورنہ آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے‘۔

عمران خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپوزیشن کا کام حکومت کو جوابدہ بنانا ہوتا ہے اور اسی مقصد کے لیے وہ پارلیمنٹ میں جاتی ہے لیکن جب حکومت جواب ہی نہ دے اور جھوٹ بولے تو کیا صرف حاضریاں لگانے وہاں جائیں۔

اس موقع پر عمران خان کے ہمراہ شاہ محمود قریشی اور پارٹی کے دیگر عہدے دار بھی موجود تھے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’کل پتہ چل جائے گا کہ یہ پارلیمنٹ ہے یا مجلس شوریٰ ہے‘۔

واضح رہے کہ تحریک انصاف طویل عرصے سے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کیے ہوئے ہے، رواں برس اکتوبر میں بھارتی جارحیت اور کشمیر کے معاملے پر ہونے والے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی پی ٹی آئی نے شرکت سے انکار کردیا تھا۔

اس کے بعد نومبر میں ترک صدر رجب طیب اردگان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھی پی ٹی آئی نے شرکت نہیں کی تھی۔

گزشتہ ماہ چیئرمین پی ٹی آئی نے یہ بھی کہا تھا کہ جب تک سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کا کیس چل رہا ہے تب تک وہ پارلیمنٹ میں نہیں جائیں گے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک مجرم ملک کا وزیراعظم نہیں ہوسکتا۔

صحافیوں کے سوال پر عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ پاناما نے الزامات نہیں ثبوت دیئے تھے، اگر وزیراعظم خود کو سپریم کورٹ کے سامنے بےقصور ثابت کردیتے ہیں تو ہم اسمبلی میں چلے جائیں گے۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں بھی پانامہ لیکس کے معاملے پر سماعت جاری ہے اور آئندہ سماعت جنوری کے پہلے ہفتے میں ہوگی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری