جرمنی سے افغان مہاجرین کی ملک بدری کا آغاز ہوگیا

خبر کا کوڈ: 1267586 خدمت: دنیا
تظاهرات پناهجویان افغان در آلمان2

جرمن جریدے کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کے ساتھ طے شدہ معاہدے کے تحت آج افغان مہاجرین کا ایک گروہ ملک بدر کیا جارہا ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، جرمن جریدہ اشپیگل نے رپورٹ دی ہے کہ جرمن سے افغان مہاجرین کے 50 افراد پر مشتمل ایک گروہ کو ڈی پورٹ کیا جارہا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جرمن شہریوں میں افغان مہاجرین کے خلاف جذبات اور سیکورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے تارکین وطن کے خلاف احتجاج کیا جارہا ہے۔

جرمن حکومت نے اپنے شہریوں کے خدشات اور جذبات کے پیش نظر افغان تارکین وطن کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

جرمن وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ رواں سال کے آخر تک مختلف پروازوں کے ذریعے مہاجرین کو افغانستان بھیجا جائے گا۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں افغان حکومت کے ساتھ باقاعدہ معاہدہ طے پایا ہے کہ جن تارکین وطن کی سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد کی گئی ہیں ان کو افغانستان واپس بھیجا جائے گا۔

جرمن جریدے کے مطابق افغان تارکین وطن کو  فرینکفرٹ ائیرپورٹ  سے براہ راست کابل پہنچایا جائے گا۔

جریدے نے لکھا ہے کہ آج (بدھ) افغان مہاجرین کو لیکر پہلی پرواز روانہ ہورہی ہے اور آئندہ دنوں میں بھی کابل کے لئے پروازیں چلائی جائیں گی۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں جرمنی کے بڑے بڑے شہروں میں تارکین وطن کے خلاف زبردست مظاہرے کئے گئے ہیں۔

جرمنی کے تارکین وطن کے وفاقی دفتر کے مطابق شام کے بعد افغان تارکین وطن کی ایک بہت بڑی تعداد جرمنی میں روزگار کی تلاش میں ہے۔

برلن میں تعینات افغان سفیر کا کہنا ہے کہ افغانستان سے تعلق رکھنے والے دو لاکھ سے زائد افراد نے سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرائیں ہیں اور جن افراد کی درخواستیں مسترد کردی گئی ہیں ان کو ملک بدر کیا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان میں لاکھوں افغان تارکین وطن آباد ہیں اور پاکستانی حکام، افغان حکومت سے مہاجرین کی باعزت واپسی میں تعاون کا خواہاں ہیں۔

    تازہ ترین خبریں