جھنگ کی انتخابی جنگ اور فرقہ وارانہ فساد کی تاریخ

خبر کا کوڈ: 1268004 خدمت: مقالات
جھنگ

1980 کی دہائی سے لے کر اب تک جھنگ کے زیادہ تر حلقوں کے انتخابات میں دو رحجانات مدمقابل نظر آتے ہیں: یعنی اس علاقے کی روایتی شیعہ- بریلوی یکجہتی کی باقیات اور اس کے خلاف ایک شہری ردِ عمل، جس کے مطابق یہ طبقہ حاوی اور منحرف ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے ڈان نیوز سے نقل کیا ہے کہ جھنگ کی صوبائی اسمبلی کی نشست پی پی-78 کے لیے ہونے والے حالیہ ضمنی انتخابات میں مسرور نواز جھنگوی نے مسلم لیگ ن کے امیدوار کو شکست دے دی ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مسلم لیگ ن کے امیدوار اس حلقے میں ایک بار پھر اپنی پارٹی کو کامیاب کروانے کے لیے میدان میں اترے تھے کیوں کہ 2013 کے انتخابات میں اس نشست پر کامیاب ہونے والے مسلم لیگ ن ہی کے امیدوار کو نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔

قومی اسمبلی کی نشستوں کے مقابلے میں صوبائی اسمبلی کے ضمنی انتخابات انتہائی کم اہمیت کے حامل ہوتے ہیں تاہم مسرور کی کامیابی نے میڈیا میں ایک شور برپا کر دیا جس کی اہم وجہ یہ تھی کہ وہ حق نواز جھنگوی کے بیٹے ہیں، جو کہ ایک شعلہ بیاں خطیب اور متنازع فرقہ وارانہ مبلغ ہونے کے ساتھ ساتھ سپاہِ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی) کے بانی رکن بھی تھے۔

1996 میں ایس ایس پی سے ایک دھڑا الگ ہوا جس نے اپنا نام لشکرِ جھنگوی (ایل جے) رکھا۔ اس دھڑے کے مطابق ایس ایس پی حق نواز جھنگوی کا (شیعہ مخالف) سخت گیر مؤقف ترک کر چکی تھی۔ ایس ایس پی سے کہیں زیادہ شدت پسند بننے اور انتخابی سیاست کو مسترد کرنے کے باوجود لشکرِ جھنگوی اپنی ابتدائی پارٹی سے قریب رہی۔

2001 میں لشکرِ جھنگوی پر پابندی عائد کردی گئی اور قریب ایک سال بعد ایس ایس پی کو بھی کالعدم قرار دے دیا گیا۔ ایس ایس پی نے مختلف ناموں اور تنظیموں کی صورت میں دوبارہ متحرک ہونے کی بار بار کوششیں کیں مگر ان تمام تنظیموں کو ریاست اور حکومت پاکستان کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

دوسری جانب لشکرِ جھنگوی ایک خفیہ شدت پسند تنظیم کے طور پر متحرک رہی، اسی وجہ سے مسرور نے ضمنی انتخابات میں ایک 'آزاد' امیدوار کے طور پر حصہ لیا۔

اس لحاظ سے ان کی کامیابی کا شہ سرخیوں میں آنا یقینی تھا۔ وہ پاکستان کے قومی دھارے کی تین بڑی جماعتوں، اعتدال پسند مسلم لیگ ن، بائیں بازو کی لبرل پیپلز پارٹی اور دائیں بازو کی اعتدال پسند پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو شکست دینے میں کامیاب رہے۔ مگر چند مبصرین مسرور کی کامیابی کو غیر معمولی انتخابی بے قاعدگی سے تعبیر کر رہے ہیں۔

قطعی طور پر ایسا نہیں

ایس ایس پی 1980 کی دہائی کے اواخر سے جھنگ کے چند حلقوں میں ایک متاثر کن ووٹ بینک بنانے میں کامیاب رہی ہے، خاص طور پر ایسا تب ہوا جب یہ خطہ پاکستان میں شیعہ سنی تنازع کا مرکز بنا۔

جھنگ میں صدیوں سے ایک کثیر شیعہ آبادی موجود تھی اور یہاں فرقہ وارانہ تنازع کی شروعات 1980 کی دہائی میں رجعت پسندانہ سنی گروپس اور شیعہ اکثریتی ملک ایران میں 1979 میں آنے والے اسلامی انقلاب سے متاثر شیعہ تنظیموں کے ابھرنے سے ہوئی۔

مَرّے ٹائٹَس اپنی کتاب 'اسلام ان انڈیا اینڈ پاکستان' میں لکھتے ہیں کہ جب 11 صدی میں غزنہ کے حکمران، محمود غزنوی ہندوستان پر حملہ آور ہوئے اور جنوبی پنجاب پہنچے تو انہوں نے اس خطے کے شیعہ نواب کو ہٹا دیا۔

محمود غزنوی کا دعویٰ تھا کہ نواب 'زندیق' ہے، چنانچہ انہوں نے اس کی جگہ ایک سنی نواب کو تخت پر بٹھا دیا۔ اس طرح جھنگ کی تاریخ میں پہلی بار شیعہ سنی فسادات برپا ہوئے۔

1947 میں قیامِ پاکستان کے وقت جھنگ میں اہلِ تشیع کی اکثریت تھی۔ وہ علاقے کی زرعی معیشت پر نمایاں انداز میں چھائے ہوئے تھے۔ حکومتِ پاکستان بڑی حد تک جھنگ کی شیعہ برادری کے اہم افراد کے اقتصادی وسائل پر منحصر تھی۔ چنانچہ علاقے میں اس برادری کی زمیندار اشرافیہ کے معاشی اور نتیجتاً سیاسی اثر و رسوخ میں بھی اضافہ ہوا۔

مگر آبادی کا یہ منظرنامہ تقسیمِ ہند کے بعد جلد ہی تبدیل ہو گیا۔ روہتک، حصار، گورگاؤں اور پانی پت جیسے ہندوستانی شہروں سے سنیوں کی ہجرت کے باعث جھنگ میں سنی مسلمانوں کی آبادی میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔

حمزہ حسن، "فرام دی پلپٹ ٹو اے کے 47" (منبر سے کلاشنکوف تک) میں 1970 کی دہائی کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں بتاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جھنگ کے بااثر شیعہ گھرانوں کی زمینوں پر کام کرنے والے اکثر مزارع اور کسان سنی مسلمان تھے جو تمام کے تمام 'بریلوی' تھے۔

بریلوی ایک ذیلی سنی فرقہ ہے جو متحدہ ہندوستان میں 19ویں صدی کے اواخر میں خطے کے صوفی ازم اور 'لوک اسلام' کے ایک امتزاج کے طور پر ابھرنا شروع ہوا۔ حسن مزید کہتے ہیں کہ 1970 کی دہائی کے اوائل تک جھنگ میں محرم کے جلوس میں شیعہ اور سنی ایک ساتھ حصہ لیتے تھے۔

اکثر مہاجرین نے جھنگ کے شہری علاقوں میں سکونت اختیار کی اور تاجر یا دکانوں کے مالکان بنے۔ حسن لکھتے ہیں کہ زیادہ تر مہاجرین اپنے آبائی علاقوں کی سخت گیر مذہبی تحاریک سے متاثر تھے اور اسی لیے اہلِ تشیع کی جانب مخاصمت کے ساتھ ساتھ وہ اس علاقے کے دیہی سنیوں کے طور طریقوں کو بھی درست نہیں سمجھتے تھے۔

جھنگ میں موجود شیعہ برادری اور بریلوی سنیوں کے درمیان صدیوں پرانے سماجی، اقتصادی اور سیاسی روابط نے شہری مہاجرین کی سیاست کے لیے مشکلات کھڑی کیں، اور 1970 کے انتخابات میں جھنگ کی تینوں قومی نشستوں پر بریلوی اکثریتی جماعت جمعیت علماءِ پاکستان کامیاب ہوئی۔

حسن لکھتے ہیں کہ 1970 کے انتخابات سے فرقہ وارانہ اور ذیلی فرقہ وارانہ تناؤ، جنہیں شیعہ بریلوی یکجہتی نے قابو میں رکھا ہوا تھا، کو ایک حد تک ہوا تو ملی مگر پنجاب میں 1974 کی احمدیہ مخالف تحریک کے باعث یہ کشیدگی شدت نہیں اختیار کر سکی.

احمدیہ مخالف تحریک میں جھنگ ایک اہم جگہ تھی جہاں سنی اور شیعہ گروہوں نے ساتھ مل کر احمدیوں کو دائرہ اسلام سے باہر کرنے کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ جھنگ کی شہری مہاجر آبادی میں موجود کئی سنی مبلغین نے اس سے متاثر ہوتے ہوئے انتہا پسندانہ روش اختیار کر لی۔ ان میں سے ایک حق نواز جھنگوی تھے۔

1977 کے انتخابات کے دوران پی پی پی نے جھنگ کے اہم شیعہ گھرانوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو ٹکٹ دیا جبکہ دوسری جانب دائیں بازو کے اتحاد پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) نے جھنگ کے مہاجر طبقے کے بااثر افراد کی حمایت کی۔ پی پی پی اس علاقے کی تمام پانچوں قومی نشستوں پر کامیاب ہوئی۔

ساجد ارجمند اپنی کتاب "سوشل چینج اینڈ موومینٹ آف ریوائیٹلائزیشن" میں نشاندہی کرتے ہیں کہ 1970 کی دہائی میں جب مشینوں سے کھیتوں کو جدید بنائے جانے کا آغاز ہوا تو کھیتوں میں کام کرنے والے زیادہ تر بریلوی سنی اپنا روزگار کھو بیٹھے اور کام کی خاطر جھنگ کے شہری علاقوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے۔

دربدری اور مایوسی سے دوچار یہ لوگ مہاجر مبلغین کے زیر اثر آئے جنہوں نے ان لوگوں کو اس بات پر قائل کر لیا کہ وہ ایک 'عقیدے کی بگڑی ہوئی شکل' کی پیروی کر رہے ہیں۔

ان حالات میں شہری مہاجر مبلغین جاگیردار مخالف بیانیے کو شیعہ مخالف تقاریر میں بدل دیتے۔ حسن لکھتے ہیں کہ کئی سابق دیہی بریلوی اس نظریے پر اعتبار کرنے لگے کہ وہ اسلام کی ایک بگڑی ہوئی صورت کی پیروی کر رہے تھے اور جھنگ کی زمین دار اشرافیہ (جو کہ اتفاق سے شیعہ تھی) کے جبر کا شکار بن چکے تھے۔

دوسری جانب ایران میں 1979 کے انقلاب سے شیعیت کی ایک نئی شاخ ابھری جو حسن کے مطابق جھنگ کے اہل تشیع کی روایتی رسومات کی سخت ناقد تھی۔

نتیجتاً جھنگ کی سنی اور شیعہ برادریوں کے بڑے حصوں کے درمیان تجدیدی رجحانات سے ان کے روایتی مزاج میں تبدیلی رونما ہوئی۔ اس تبدیلی نے (1985 میں تشکیل پانے والی) ایس ایس پی جیسی عسکریت پسند تنظیموں کو جنم دیا۔

جھنگ میں 'نئے نظریات سے متاثر ہونے والے' سابقہ دیہی سنیوں میں ایس ایس پی کی بڑھتی ہوئی حمایت کو دیکھتے ہوئے حق نواز نے 1988 میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 68 سے انتخاب لڑا مگر عابدہ حسین انہیں شکست دینے میں کامیاب رہیں.

حق نواز نے جمیعت علماءِ اسلام فضل (جے یو آئی ایف) کے ٹکٹ پر انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ ان کے بیٹے مسرور نے بھی انتخابات کے بعد جے یو آئی (ف) میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔

1990 کی دہائی میں جھنگ میں شدید فرقہ وارانہ فسادات کی لہر اٹھی جس نے دونوں فرقوں کے درمیان مزید دوریاں پیدا کر دیں۔ حق نواز کو قتل کر دیا گیا اور اعظم طارق سپاہِ صحابہ کے سربراہ بن گئے۔ 1993 کے انتخابات میں وہ ایس ایس پی کے پہلے فرد تھے جو منتخب ہوئے۔ وہ جھنگ کے حلقہ این اے 68 سے 55,004 ووٹ لے کر فتح یاب ہوئے، تاہم 1997 میں مسلم لیگ ن کے امیدوار کے ہاتھوں یہ نشست کھو بیٹھے۔

2002 کے انتخابات میں جھنگ کے حلقہ این اے 89 کی نشست جیت کر اعظم طارق ایک بار پھر قومی اسمبلی میں لوٹ آئے۔ انہوں نے طاہر القادری کو شکست دی تھی جو بریلوی اکثریتی جماعت پاکستان عوامی تحریک (پی اے ٹی) کے سربراہ ہیں۔

ایک سال بعد اعظم طارق کو بھی قتل کر دیا گیا۔ ایس ایس پی اور تحریکِ جعفریہ پر پابندی عائد کر دی گئی اور جھنگ میں 1990 سے 2002 تک جاری رہنے والی شورش، جس نے 700 سے زائد جانیں لیں، پر قابو پا لیا گیا۔

سپاہِ صحابہ کے سربراہ احمد لدھیانوی کو 2013 کے انتخابات (این اے 89) میں شکست ہوئی مگر وہ 71,598 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ بھلے ہی جھنگ میں 2000 کی دہائی کے اوائل سے کوئی بڑا فرقہ وارانہ ٹکراؤ نہیں ہوا ہے مگر فرقہ وارانہ کشیدگی قائم ہے۔

1980 کی دہائی سے لے کر اب تک جھنگ کے زیادہ تر حلقوں کے انتخابات میں دو رحجانات مدمقابل نظر آتے ہیں: یعنی اس علاقے کی روایتی شیعہ- بریلوی یکجہتی کی باقیات اور اس کے خلاف ایک شہری ردِ عمل، جس کے مطابق یہ طبقہ حاوی اور منحرف ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری