جامعہ نعیمیہ لاہور کے ناظم اعلیٰ کا تسنیم نیوز سے خصوصی انٹرویو؛

وہ دن دور نہیں جب عراق اور شام کے تمام علاقوں سے تکفیریوں کو پسپا ہونا پڑےگا

خبر کا کوڈ: 1268366 خدمت: انٹرویو
راغب نعیمی

جامعہ نعیمیہ لاہور کے ناظم اعلیٰ اور شہیدِ پاکستان کے فرزند نے اس بیان کے ساتھ کہ پاکستان میں تکفیریوں کا اثر و رسوخ اس قدر نہیں ہے کہا کہ اسی لئے حلب میں تکفیریوں کو پسپا ہونا پڑا ہے اور اگر معاملات اسی طرح سے چلتے رہے تو وہ دن دور نہیں ہیں جب نہ صرف حلب بلکہ شام اور عراق کے دیگر مقبوضہ علاقوں میں بھی تکفیریوں کو پسپا ہونا پڑے گا۔

تسنیم خبر رساں ادارہ: علامہ راغب حسین نعیمی جامعہ نعیمیہ لاہور کے ناظم اعلی اور شہیدِ پاکستان ڈاکٹر سرفراز نعیمی کے فرزند ہیں۔ ایم اے عربی میں گولڈ میڈلسٹ ہیں۔ جامعہ نعیمیہ سے دینی تعلیم بھی مکمل کی اور آٹھ سالہ درس نظامی یہیں سے مکمل کیا۔ اتحاد بین المسلمین کے لئے سرگرم ہیں۔ والد کی شہادت کے بعد آج کل جامعہ نعیمیہ کے انتظامات کو دیکھتے ہیں۔ سیاسی و مذہبی معاملات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ گذشتہ روز تسنیم نیوز نے ان کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو کیا، جو پیش خدمت ہے۔

تسنیم نیوز:وحدت اسلامی کے فلسفہ سے آپ کیا مراد لیتے ہیں اور شیعہ سنی کے مابین وحدت کیسے ممکن ہے؟

راغب نعیمی: وحدت اسلامی کا بنیادی فلسفہ سے مراد ہے کہ اپنے اپنے مسلک کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے اسلام کے بنیادی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنے کی کوشش کی جائے۔ کسی دوسرے کے ذاتی اور مذہبی معاملہ میں مداخلت نہ کی جائے۔ کوشش یہ ہونی چاہئے کہ ملکی معاملات کو اپنی مذہبی معاملات کے قطع نظر آگے بڑھانا چاہئے۔ ملک کے عالمی دشمن کے خلاف متحد ہونا چاہئے۔

تسنیم نیوز:ہفتہ وحدت کے حوالے سے امام خمینی کے فرمان میں کیا بصیرت پنہاں تھی؟

راغب نعیمی: امام خمینی کا ہفتہ وحدت منانے کا فرمان کہ 12 سے 17 ربیع الاول تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یوم ولادت کی مناسبت سے منایا جائے۔ 12 یا 17 دو دن تک محدود کرنے کی بجائے یہ ایام پورا ہفتہ منانے کا اعلان کیا گیا یوں اہلسنت اور اہل تشیع اپنے رائج طریقوں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی  مدح سرائی اور جشن عید میلاد النبی منا سکتے ہیں۔

تسنیم نیوز: حلب میں تکفیریوں کی شکست کے بعد کیا اس بجھتی آگ کے شعلے پاکستا ن میں آئیں گے؟

راغب نعیمی: میں ہرگز نہیں سمجھتا کہ اس بجھتی آگ کے شعلے پاکستان کے طرف بھی آئے گے جب تک وہ تکفیری عناصر پاکستان کا رخ نہ کرلیں۔ پاکستان میں ان کا اثر و رسوخ اس قدر نہیں ہے اس لئے حلب میں تکفیریوں کو پسپا ہونا پڑا ہے اگر معاملات اسی طرح سے چلتے رہے تو وہ دن دور نہیں ہیں جب نہ صرف حلب، شام کے دیگر علاقے  اور عراق کے مقبوضہ علاقے میں تکفیریوں کو پسپا ہونا پڑے گا۔

تسنیم نیوز:ریاست کا کہنا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے پاکستان میں شدت پسندی ختم ہوگئی ہے! آپ کیا سمجھتے ہیں؟

راغب نعیمی: جی بالکل ایک دو واقعات کے علاوہ پاکستان میں شدت پسندی میں کافی حد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ لیکن ریاست کو مکمل طور پر اطمینان نہیں کرنا چاہئے کیونکہ انتہا پسندی کا تعلق تکفیری سوچ سے منسلک ہے۔ جب تک ملک میں تکفیری سوچ موجود رہے گی دہشت گردی کے واقعات رونما ہوتے رہیں گے۔ انتہاپسندی کے خاتمہ کے لئے وسیع پیمانے پر اقدامات کئے گئے لیکن اس کے اثرات سے بے پرواہ ہونے کی بجائے ہمیں ہر وقت ان عناصر سے نمٹنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

تسنیم نیوز:یمن،عراق شام اور فلسطین میں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں امت مسلمہ باہمی اتحاد کے لئے کس کی طرف دیکھ رہی ہے؟

راغب نعیمی: بہت سے اسلامی ممالک نے مختلف بلاک بنائے ہوئے ہیں انہیں وحدت اسلامی ،دنیا میں اسلام کے نام کو بلند کرنے یہ بلاک توڑنے ہوگے اور ان بلاک کے سربراہان کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ ان کی معیشت زوال پذیرہوچکی ہے اگر اب بھی وہ اپنی حالت کی جانب نہیں دیکھیں گے تو آنے والاوقت پاکستانیوں سمیت عمومی طور پر عالم اسلام کے لئے مشکل وقت ہوسکتا ہے ۔

تسنیم نیوز:عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روز چکوال میں احمدیوں کی مسجد کو جلانے کا واقعہ پیش آیا کیا ایسے واقعات اسلام کے حقیقی چہرہ کو مسخ کرنے کے مترادف نہیں ہیں؟

راغب نعیمی:جب تک حقائق سامنے نہیں آجاتے اس موضوع پر گفتگو کرنا لاحاصل ہے۔ دونوں طرف سے معاملات کو توڑ مروڑکے پیش کیا جارہا ہے حقیقت واضح ہونے تک کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کسی اور کو مسلمانوں پر زیادتی کرنے کا حق ہے نہ ہی مسلمانوں کو کسی غیر مسلم یا مسلک پر زیادتی کرنی چاہئے سب ایک دوسرے کا ایک دائرہ کار میں معاملات کا خیال رکھیں ایک دوسرے کی جائیداد پر بغیر ثبوت اور وجہ کے قبضہ نہ کریں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری