تحریر: شجاع عباس

کیا عرب شیوخ آئندہ بھی سیاسی کھیل میں شیعہ سنی حربہ استعمال کریں گے؟

خبر کا کوڈ: 1268380 خدمت: مقالات
عربستان

ایران میں شاہ کے خلاف انقلاب کی کامیابی کے بعد خلیج کے غیرت مند شیخوں نے عرب و عجم اور شیعہ سنی اختلافات کا مقدور بھر استعمال کیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کو ارسال کئے گئے پاکستانی کالم نگار شجاع عباس کا مقالہ من و عن قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔

ایران میں شاہ کے خلاف انقلاب کی کامیابی کے بعد خلیج کے غیرت مند شیخوں نے عرب و عجم اور شیعہ سنی اختلافات کا مقدوربھر استعمال کیا۔

صدام کے اقتدار کے خاتمے کے لئے عراق پر امریکی حملے اور بہارعرب کہلانے والی سیاسی افراتفری کے بعد منظم طور پر شیعہ دشمنی کی بنیاد پر پروان چڑھائی جانے والی خونریز دہشتگردی عراق اور شام میں اپنے منطقی انجام کی طرف رواں دواں ہے۔

جس فرقہ واریت کو بشارالاسد کے خلاف استعمال کیا گیا اس سے الٹے نتائج برآمد ہوئے۔ جب مؤرخ شام کی حالیہ خانہ جنگی کے نتائج پر قلم اٹھائے گا تو اسے یہ لکھنا پڑے گا کہ بشار کی کامیابی کی وجوہات میں سرفہرست باغیوں کا اس جنگ کو فرقہ واریت کی بنیاد پر لڑنا تھا۔

داعش کھلے عام یہ اعلان کرتے رہے کہ ہم ہر شیعہ کو ذبح کرکے چھوڑیں گے۔ نہ صرف شیعہ کے حساس ترین مذہبی مفادات پر حملہ آور ہونے کے اعلان کئے جاتے رہے بلکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کے اصحاب ابرار کی قبریں کھود کر ان کی باقیات کی توہین کی گئی۔ زینبیہ، نجف اور کربلا کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے نقارے بجائے گئے۔

اس رویے نے ملین کی تعداد میں آباد شامی شیعوں کو آخری دم تک بشارالاسد کے لئے لڑنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ مقامات مقدسہ کے تحفظ کے لئے اپنی جان نثار کرنے کے لئے دنیا بھر سے ہزاروں جواں جوق درجوق شام پہنچنا شروع ہوگئے۔

میری اطلاعات کے مطابق ابھی تک پانچ سے سات سو کے قریب پاکستانی داعش کی حمایت میں لڑتے ہوئے وہاں پر مارے گئے ہیں۔

28 نومبر کو سعودی بادشاہ نے شیعہ اکثریتی صوبہ شرقیہ کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران سعودی سرکاری ذرائع ابلاغ نے بادشاہ کی شیعہ علماء سے ملاقات کوبہت اجاگر کیا۔ بادشاہ کو جن معززین سے خطاب کرتے ہوئے دکھایا گیا ان میں شیعہ علماء کو ان کے مخصوص لباس کے ساتھ پہلی صف میں بٹھایا گیا تھا۔

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

ہمارے خیال میں آئندہ سیاسی کھیل میں شیعہ سنی حربہ استعمال کرنے سے سختی سے اجتناب کیا جائے گا۔ سیاسی اکھاڑے کی دنگل میں فرقہ واریت سے دامن کشاں رہنے سے اس پورے خطے میں صحت مند سیاسی ماحول کے پیدا ہونے کا بہت امکان ہے۔

    تازہ ترین خبریں