تصویری رپورٹ/

امام امت سے پاکستانیوں کی الفتیں/ امام خامنہ ای عالم اسلام کے چراغ ہیں

خبر کا کوڈ: 1268791 خدمت: ایران
زوار پاکستانی

جب میں نے مترجم سے کہا کہ ان سے پوچھیں ایران کے رہبر اعلیٰ کو جانتے ہیں کہ نہیں؟ ابھی مترجم نے ترجمہ ہی نہیں کیا تھا اردو زبان میں کہنے لگے، ماشااللہ رہبر کی کیا بات ہے، ماشااللہ امام خمینی، ماشااللہ امام خامنہ ای۔۔۔۔

تسنیم خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، تسنیم نیوز کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ میں نے مترجم سے کہا کہ ان سے پوچھیں ایران کے رہبر اعلیٰ کو جانتے ہیں کہ نہیں؟ ابھی مترجم نے ترجمہ ہی نہیں کیا تھا اردو زبان میں  کہنے لگے، ماشااللہ رہبر کی کیا بات ہے، ماشااللہ امام خمینی، ماشااللہ امام خامنہ ای، اس کے بعد کہنے لگے میں یہاں امام ہشتم کے بارگارہ سے امام خامنہ ای کی خدمت میں سلام پیش کرتا ہوں اور امام خمینی کی ملکوتی روح پر درود سلام بھیجتا ہوں۔

میری حیرت بھری نظروں کو دیکھ کر وہ  فورا سمجھ گیا کہ مجھے زیادہ وضاحت کی ضرورت ہے، میری طرف متوجہ ہوکر کہنے لگا پاکستانیوں کی امام امت اور امام خمینی کے ساتھ مودت و محبت دیکھنا ہے تو ایک بار ضرور پاکستان تشریف لائیں ہم آپ کو ہر پاکستانی کے گھر میں لگی امام خامنہ ای اور امام خمینی کی تصاویر دیکھائیں گے۔

نذیر حسین جو کچھ کہہ رہے تھے  اردو زبان میں ہی بول رہے تھے  جس کی وجہ سے میری سمجھ میں سوائے امام رضا علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام جیسے الفاظ کے علاوہ  اور کچھ نہیں آرہا تھا، بہر حال یہ جو بھی کہہ رہے ہیں وہی کہہ رہے ہیں جو شاعر نامدار سعدی نے اپنے شعر میں کہا ہے:          آب حیات منست خاک سر کوی دوست       گر دو جهان خرمیست ما و غم روی دوست

نذیر حسین اپنی عقیق اور فیروزہ کی انگوٹھیوں کی طرف دیکھتے ہوئے اپنا سفرنامہ بیان کررہے تھے: ایک سال تک زمینداری اور محنت کشی کے بعد کچھ پیسہ جمع کرکے زیارتوں پر آنا وہ بھی بسوں میں بیٹھ کر زائرین کے قافلوں کے ساتھ نہایت مشکل اور سخت کام ہے، لیکن ہم تمام مشکلات اور خطرات کو برداشت کرکے امام رضا علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کو یہ کہنے آئیں ہیں کہ ہمیں دنیا اور آخرت میں تنہا نہ چھوڑیں، ہماری شفاعت کریں۔

جب ہمارا سب کچھ اہل بیت علیہم السلام ہی ہیں تو ہم کئی سالوں کا سرمایہ ان کی زیارت پر خرچ کرنے سے کیوں گھبرائیں؟

جب میں نے ان سے اپنی سفری مشکلات کے بارے میں پوچھا تو کہنے لگے: زیارت کی لذتیں ہی اسی میں ہیں کہ انسان سفری مشکلات کو برداشت کرے، لیکن سچ پوچھو تو پاک ایران بارڈر (تفتان) کی مشکلات ہمارے لئے، خاص کر خواتین اور بچوں کے لئے ناقابل برداشت ہیں، ہمیں چھ چھ دنوں  تک تفتان کے صحرا پر بغیر کسی سہولت کے روکا جاتا ہے جس کی وجہ سے خواتین، بچے اور بوڑھے بیمار ہوجاتے ہیں، ہمیں ایران میں کسی قسم کی کوئی مشکل پیش نہیں آتی ہے مگر جب کوئی بیمار ہوجاتا ہے تو زبان کا مسئلہ ہوتا ہے، ہماری ساری مشکلات تفتان سے کوئٹہ تک ہیں، اگر اسلامی جمہوری ایران کی حکومت ہماری حکومت سے بات کرے اور تفتان سے کوئٹہ اور بارڈر پر زائرسرا وغیرہ کی سہولیات فراہم کی جائیں تو بہت سی مشکلات ٹل سکتی ہیں۔

ہمارے مترجم سید جمیل حسین نقوی نے ہم سے کہا چلیں امام بارگاہ کے اندر چلتے ہیں اور اس بارے میں دوسرے زائرین کی رائے بھی دریافت کرلیتے ہیں، اذان مغرب کےلئے صرف 40 منٹ باقی ہیں اور بہت سے زائرین حرم جانے کی تیاری کررہے ہیں۔

حسینیہ شہید سید عارف حسین الحسینی میں زائرین میں سے ایک شخص جو کرنل کے نام سے جانے جاتے ہیں وہ ہمارے مترجم سے کہتے ہیں کہ ان سے کہئے پاکستان میں 25 فیصد شیعہ بستے ہیں یعنی 60 ملین کے قریب۔ ہماری حکومت ہمیں کچھ نہیں کہتی، حکومت کی طرف سے ہمیں کسی قسم کی کوئی مشکل نہیں ہے لیکن تکفیری دہشت گردوں سے اللہ بچائے۔

وہ اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ لعنت ہو آل سعود پر، لعنت ہو امریکہ اور اسرائیل پر انہوں نے خطے کے امن وامان کو برباد کردیا ہے اور دہشت گردوں کی سرپرستی کررہے ہیں۔

ان کا مقصد اسلام کو نابود کرنا ہے، امریکی دنیا بھر میں دہشت گردوں کی حمایت کرتے ہیں اور اب وہ پاکستان پر بھی قبضہ کرنے کی خاطر ہمارے ملک کو دہشت گردوں کا حامی ملک قرار دے رہے ہیں۔

وہ پاکستانیوں کے درمیان رہبر معظم کی قدر و منزلت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: امام خامنہ ای صرف ایران کے رہبر نہیں ہیں، بلکہ تمام اسلامی ممالک کے لئے ایک ستون کی مانند ہیں، پاکستان کے تمام شیعہ سنی رہبر انقلاب کو مانتے ہیں اور ان کی بات کو حجت سمجھتے ہیں۔

ہمیں رہبر معظم کی ھدایتوں پر عمل کرکے خطے سے ہر قسم کے اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے، میرے خیال میں دہشت گردوں کی شکست ہی اسی میں ہے کہ خطے میں شیعہ سنی ایک ہوجائیں، ہمیں علاقائی اور مذہبی تعصبات کو ترک کرکے امت مسلمہ کی ترقی کے لئے کوشاں رہنا چاہئے جیسے کہ امام خامنہ ای آئے دن اسی بات کی تلقین کرتے رہتے ہیں۔

حرم مطہر سے تلاوت کلام پاک کی آواز آئی اور وہ خدا حافظ کرکے حرم کی طرف دوڑنے لگے تاکہ نماز جماعت میں شریک ہوسکے۔

حسینیہ کے ہال کے آخر میں باورچی خانے کے ایک احاطے میں پاکستانی خواتین دائرے کی شکل میں بیٹھی کھانا پکانے میں مصروف ہیں، ہمارے مترجم نے ہم سے کہا تم خواتین کی طرف مت جانا کیوں کہ پاکستانی خواتین کیمرے کے سامنے بات کرنا پسند نہیں کرتیں، میں نے کہا بس مجھے  صرف ان سے زیارت کے بارے میں ایک دو سوال کرنے ہیں۔

جب ہم کیمرے کے ساتھ ان کے قریب گئے تو انہوں نے منہ موڑ لیا اور چادر سے پورے چہرے کو ڈھانپ لیا۔ میں نے ایک لڑکی سے کہا ہم نامہ نگار ہیں زیارت کے بارے میں ایک دو سوال پوچھنے ہیں تو انہوں نے منہ موڑتے ہوئے صرف اتنا کہا: اب میری آرزو پوری ہوگئی ہے، بس مجھے اور کچھ نہیں کہنا ہے یہ کہہ کر وہ چلی گئی۔

اذان کی آواز سے پورا حسینیہ گونجنے لگا، اکثر زائرین حرم کی طرف چلے گئے تھے اور جو رہ گئے تھے حسینیہ میں موجود نمازخانے کی طرف چلے تاکہ بروقت نماز ادا کرسکیں۔

سید جمیل بھی "لعنت ہو دہشت گردوں پر لعنت ہو تکفیریوں پر" کہتے ہوئے نماز پڑھنے نکل گئے۔

    تازہ ترین خبریں