سانحہ آرمی پبلک اسکول میں شہید ہونے والے بچوں کی دوسری برسی کی مرکزی تقریب

خبر کا کوڈ: 1269261 خدمت: پاکستان
ارتش پاکستان

پشاور میں آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) پر دہشت گردوں کے حملے کو 2 برس بیت گئے، اس حوالے سے مرکزی تقریب پشاور میں منعقد کی گئی، جس میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ بھی شریک ہوئے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے ڈان نیوز سے نقل کیا ہے کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول میں شہید ہونے والے بچوں کی دوسری برسی کی مرکزی تقریب پشاور میں منعقد کی گئی جس میں آرمی چیف سمیت اعلیٰ عسکری حکام اور والدین نے شرکت کی۔

یاد رہے کہ 16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک اسکول پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے دہشت گردوں نے حملہ کرکے 140 سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا، جن میں زیادہ تعداد معصوم بچوں کی تھی۔

اے پی ایس سانحے میں جان قربان کرنے والے بچوں اور اساتذہ کی یاد میں دوسری برسی کی مرکزی تقریب آرمی پبلک اسکول پشاور میں منعقد ہوئی۔

تقریب کا آغاز اے پی ایس کے بہادر بچوں نے تلاوت قرآن پاک سے کیا جس کے بعد اسکول پرنسپل نے مہمان خصوصی جنرل قمر جاوید کویادگار شہدا پر پھول چڑھانے کی دعوت دی۔

پاک فوج کے سپہ سالار جنرل جاوید قمر باجوہ نے یادگار شہدا پر سلامی دی، پھول چڑھائے اور شہداء کی بلندی درجات کے لیے ہونے والی دعا کا حصہ بنے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ شہدا کی یاد میں منعقدہ تقریب کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں یاد رہے کہ ہمارا کتنا خون بہا، ان کا کہنا تھا کہ ہم شہدائے آرمی پبلک اسکول کی قربانیوں کو کبھی نہیں بھولیں گے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے شہدا کے والدین اور اہلخانہ کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ تمام قوم، پاک فوج اور ادارے ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کے دکھ میں برابر کے شریک ہیں.

آرمی چیف کا کہنا تھا کہ 16 دسمبر 2014 کے سانحے کا زخم بہت گہرا ہے، اس کا مکمل طور پر بھر پانا ممکن نہیں لیکن ہم اس نقصان کے مداوے کی ہر ممکن کوشش کریں گے اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ جو تعلیم شہید بچے حاصل نہ کرسکے وہ ان کے بہن بھائی حاصل کریں اور معاشرے میں اعلیٰ مقام حاصل کریں۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے مسلح افواج کو قوم کے تحفظ کی ضامن قرار دیتے ہوئے یقین دلایا کہ جو بس میں ہوا وہ کریں گے اور جلد سے جلد دہشت گردوں کے خلاف جاری اس جنگ کا خاتمہ کیا جائے گا.

اس سے قبل آرمی پبلک اسکول کی پرنسپل نے تقریب کے آغاز میں 2014 میں شہید ہونے والے طلبا سمیت 140 سے زائد افراد کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ 'مسز طاہرہ قاضی، اساتذہ اور بچوں کی شہادت نے قوم کو مضبوط اور متحد کردیا، ہم عہد کرتے ہیں کہ انہیں ہمیشہ یاد رکھیں گے اور ان کی شہادت کو اپنے لیے بہادری اور عظمت کا نشان بنا کر رکھیں گے'۔

تقریب میں شہداء کے والدین اور اہل خانہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔

دوسری جانب وزیراعظم نواز شریف نے سانحہ اے پی ایس کی دوسری برسی پر متاثرہ خاندانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ 'پوری قوم دکھ کے اس لمحے میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ہم آج کے دن کے دکھ کو کبھی نہیں بھول سکتے'۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ'ہم نے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پوری قوت استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، چھوٹے فرشتوں کو شہید کرنے والوں پر رحم نہیں کیا جائے گا'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'دنیا نے دیکھا ہم نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو تباہ کردیا اور دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے'۔

وزیراعظم نے قوم کو یقین دلاتے ہوئے کہا کہ 'بقاء کی اس جنگ میں ہم نے بے مثال قربانیاں دی ہیں، دہشت گردوں کے خلاف جاری اس جنگ کو منطقی انجام تک پہنچا کر چھوڑا جائے گا اور آئندہ نسلوں کے لیے پرامن اور مستحکم پاکستان یقینی بنائیں گے'۔

اسلام آباد میں بھی اے پی ایس شہدا کی یاد میں تقریب کا انعقاد کیا گیا، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ 16 دسمبر 2014 کو جس کرب سے شہدا کے والدین اور اہل خانہ گزرے پوری قوم آج تک اسی تکلیف سے گزر رہی ہے۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ہمیں نیشنل ایکشن پلان ملا اور انسداد دہشت گردی پلان کے تحت ایک قومی پالیسی وضع کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف ہم بلاتفریق متحد ہیں۔

وزیر مملکت طارق فضل چوہدری نے شہدا کوخراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیوں کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا، شہدائے اے پی ایس نے اپنے خون سے پوری قوم کو متحد کیا۔

اس موقع پر شہدا کی یاد میں شمعیں بھی روشن کی گئیں۔

    تازہ ترین خبریں