تحریر: رفت رضوی

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو واقعی جسٹس قاضی فائز عیسی کا نہیں پتا !!!

خبر کا کوڈ: 1269881 خدمت: مقالات
چوهدری نثار علی

جسٹس قاضی فائز عیسی یوں بھی عدالت میں کسی سوال پر اٹک جائیں تو جواب لئے بغیر مقدمہ آگے نہیں بڑھنے دیتے، جسٹس قاضی فائز عیسی نے سیکرٹری داخلہ سے کہا: "جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی العالمی خود بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر رہی ہیں پھر بھی حکومت انہیں کالعدم ڈکلیئر کرنے سے کیوں کترا رہی ہے؟"

خبر رساں ادارے تسنیم کو ارسال کئے گئے رفت رضوی کے مقالے کا متن من و عن قارئین کی خدمت میں پیش ہے:

جسٹس قاضی فائز عیسی یوں بھی عدالت میں کسی سوال پر اٹک جائیں تو جواب لئے بغیر مقدمہ آگے نہیں بڑھنے دیتے، جسٹس قاضی فائز عیسی نے سیکرٹری داخلہ سے کہا:

"جماعت الاحرار اور لشکر جھنگوی العالمی خود بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول کر رہی ہیں پھر بھی حکومت انہیں کالعدم ڈکلیئر کرنے سے کیوں کترا رہی ہے؟"

لگتا یوں تھا سیکرٹری داخلہ پہلے سے تیار تھے سو جھٹ سے کندھے اچکا کر کہہ دیا: "ایسی تنظیموں کو کالعدم قرار دینے کے لیے آئی ایس آئی اور آئی بی سے سفارشات لی جاتی ہیں، وہ کوئی جواب نہیں دے رہے"۔

سیکرٹری داخلہ کو شاید معلوم نہیں تھا یہ جسٹس قاضی فائز عیسی ہیں، جج صاحب نے آئی ایس آئی حکام کو بلا لیا۔ آئی ایس آئی کے کرنل صاحب پیش ہوتے ہی گویا ہوئے کہ: "کسی تنظیم کو کالعدم قرار دینا وزارت داخلہ کا کام ہے حکومت کو ہماری سفارش کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں"۔

اب باری سیکرٹری داخلہ کی تھی، پوچھا گیا کہ: "بھائی آئی ایس آئی تو کہتی ہے جماعتوں کو کالعدم قرار دینا وزارت داخلہ کا کام ہے"۔

اب کی بار جج صاحب کو کہہ دیا گیا کہ "جماعتوں کو کالعدم قرار دینا نیشنل کاونٹر ٹیررازم اتھارٹی کا کام ہے"۔

سیکریٹری بھول گئے تھے کہ یہ جسٹس قاضی فائز عیسی ہیں جو جواب لیے بغیر نہیں ٹلتے، سو دوران جرح نیکٹا سے جواب بھی مل گیا کہ انہوں نے وزارت داخلہ کو ان جماعتوں پر پابندی لگانے کے لیے خط لکھا تھا، معاملہ تو چوہدری نثار کے پاس اٹکا ہوا ہے۔

سیکریٹری داخلہ شاید اپنے باس یعنی وزیر داخلہ چوہدری نثار کو بچاتے بچاتے تنگ آگئے تھے، صاف کہہ دیا "مجھے نہیں پتا"۔

یہ مجھے نہیں پتا تو خیر سے چوہدری نثار کا بھی شاید تکیہ کلام ہے، اسی لیے جب کوئٹہ انکوائری کمیشن نے ان سے پوچھا: "نیکٹا کے اجلاس میں کالعدم تنظیموں کے اجتماعات پر پابندی کا فیصلہ آپ نے خود جاری کیا تھا پھر ملک کے دارلحکومت اسلام آباد میں ریڈ زون کے دہانے آبپارہ میں کالعدم سپاہ صحابہ کا اجتماع کیسے ہونے دیا"؟

چوہدری صاحب کا جواب: "مجھے نہیں پتا، یہ میرا کام نہیں"۔

چوہدری صاحب کو تو یہ بھی پتا نہیں ہوگا کہ ریڈ زون کے عین وسط میں واقع پنجاب ہاؤس کے ڈرائنگ روم میں وہ کالعدم سپاہ صحابہ کے احمد لدھیانوی سے ملے۔ مگر کمیشن کی رپورٹ نے سب کو بتا دیا۔

چوہدری صاحب کے اس چائے ٹائم پر کالعدم سپاہ صحابہ کے اور کالعدم جماعت الدعوة کے ایک لیڈر بھی موجود تھے، مگر چوہدری صاحب کی وہی ایک بات "پتا نہیں"۔

انکوائری کمیشن رپورٹ کہتی ہے کہ چوہدری نثار علی خان بم دھماکوں پر اظہار افسوس تو کرتے ہیں مگر اب تک وہ جنداللہ نامی تنظیم پر پابندی لگانے سے گریزاں ہیں۔

کمیشن کے مطابق نیشنل کاونٹر ٹررازم اتھارٹی، نیشنل ایکشن پلان عملدرآمد کمیٹی، نیشنل انٹرنل سیکورٹی، وزارت داخلہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان زیرو کوآرڈینیشن ہے، شاید چوہدری نثار کو یہ بھی پتا کرنے میں دلچسپی نہیں ہوگی۔

سپریم کورٹ انکوائری کمیشن کہتا ہے: "وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نہایت غیر ذمہ دار ہیں"۔

چوہدری نثار نے ساڑھے تین سالوں میں نیکٹا کا صرف ایک اجلاس بلایا، جس کا فیصلہ بھی چوہدری نثار نے ہی قدموں تلے روند دیا۔

چوہدری نثار کالعدم تنظیموں کے سربراہان سے ملتے رہے۔

کالعدم تنظیموں کے کارکنان کے قومی شناختی کارڈ کے اجراء کا مطالبہ چوہدری نثار نے منظور کیا۔

معروف دہشت گرد تنظیموں پر پابندی لگانے کے کام میں رکاوٹ چوہدری نثار بنے۔

شاید چوہدری صاحب کو پتا نہیں مگر ہم بتا دیتے ہیں کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کو اگر آپ اب بھی سمجھ نہیں سکے تو آپ کو واقعی پتا نہیں کہ وہ ایک جرأت مند جج ہیں جن کے والد قائداعظم کے ساتھی رہے، قاضی فائز عیسی سے اس انکوائری کمیشن کی رپورٹ سے کم تو نہیں، مگر زیادہ کی ہی امید رکھیے گا۔

    تازہ ترین خبریں