سانحہ کوئٹہ؛ پیپلز پارٹی نے کمیشن رپورٹ پر چوہدری نثار سے استعفے کا مطالبہ کردیا

خبر کا کوڈ: 1269918 خدمت: پاکستان
خورشید شاه

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے سانحہ کوئٹہ پر جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا جب کہ پیپلزپارٹی نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تحریک التوا بھی جمع کرادی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، خورشید شاہ نے سپریم کورٹ کے سانحہ کوئٹہ پر بنائے گئے انکوائری کمیشن کی رپورٹ پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے چار مطالبات میں پہلے ہی نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کا مطالبہ شامل ہے اور ہم نے یہ مطالبہ اس لیے رکھا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عملدرآمد نہیں کیا جارہا ہے اور اب عدالت عظمیٰ کے کمیشن کی انکوائری رپورٹ نے ہمارے مطالبے کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق، انہوں نے کہا کہ ہم کئی بار کہہ چکے ہیں کہ نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد نہیں ہورہا اور اس معاملے میں وزیرداخلہ تذبذب کاشکار ہیں اور اب عدالت عظمیٰ کے کمیشن کی رپورٹ سے ثابت ہوگیا ہے کہ وزیرداخلہ غلط بیانی کرتے ہیں، وزارت داخلہ میں قیادت کا فقدان ہے اور وزارت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کنفیوژن کا شکار ہے، افسر شاہی وزیرداخلہ کی خوشامد میں لگی ہوئی ہے، اب ان حقائق کے بعد وزیرداخلہ کا اپنے عہدے پر براجمان رہنا دہشت گردی کے شکار عوام کے ساتھ بھونڈا مذاق ہوگا اس لیے ضروری ہے کہ چوہدری نثار اپنے عہدے سے مستعفی ہوجائیں۔

قائد حزب اختلاف نے کہا کہ ہماری قوم نے دہشت گردی کے خلاف جانیں دیں، اپنامال لٹایا اور گھر بار چھوڑا لیکن یہ بات نہایت قابل افسوس اور قابل مذمت ہے کہ وزیرداخلہ اور ان کے ماتحت اداروں کی ناقص کارکردگی، غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے ہم کھربوں روپے خرچ کرنے کے باوجود بھی تسلی بخش نتائج حاصل کرنے سے قاصرہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بات توسب پہ عیاں ہے کہ وزارت داخلہ کالعدم تنظیموں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے سے قاصر رہی اور کالعدم تنظیموں کے لوگ کبھی ایک روپ میں اور کبھی دوسرے روپ میں آزاد گھوم رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیرداخلہ اور ان کی وزارت کی اگر یہی کارکردگی رہی تو پھر خدشہ ہے کہ ضرب عضب میں سول و ملٹری اداروں نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ بھی ضائع ہوجائیں۔

دوسری جانب پیپلزپارٹی نے سانحہ کوئٹہ پر جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ میں افشاء ہونے والے انکشافات کے بعد قومی اسمبلی اور سینیٹ میں تحریک التوا جمع کرادی ہے۔

ایم کیو ایم نے بھی اسی معاملے پر سینیٹ میں تحریک التوا جمع کرائی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی نفیسہ شاہ، سید نوید قمر، عذرا فضل پیچوہو، عبدالستار بچانی اور شاہدہ رحمانی کی جانب سے تحریک التوا جمع کرائی گئی ہے جس میں دہشت گردی کے حوالے سے غفلت کی نشاندہی کی گئی ہے۔

تحریک میں کہا گیا ہےکہ انکوائری کمیشن کے جج کے انکشاف کے بعد ہمارے مؤقف کو تقویت ملتی ہے کہ وزیر داخلہ نااہل ہیں اور دہشتگردی کے مقابلے میں اپنا کردار ادا نہیں کر پا رہے اس لیے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر مستعفی ہو جائیں۔

ایم کیو ایم کی جانب سے جمع کرائی گئی تحریک میں کہا گیا ہےکہ سانحہ کوئٹہ کے حوالے سے سپریم کورٹ کی رپورٹ آئی ہے یہ اہم معاملہ ہے اس پر ایوان میں بحث کرائی جائے۔

    تازہ ترین خبریں