وحدت اسلامی کانفرنس کے شرکاء سے امام خامنہ ای کا خطاب:

مسلم فسادات اور اختلافات کے پیچھے برطانوی شیعیت اور امریکی سنییت کا ہاتھ ہے

خبر کا کوڈ: 1270423 خدمت: ایران
ایرانی طلبا و طالبات کا امام خامنہ ای سے ملاقات

امام خامنہ ای نے میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام، مشرقی ایشیا سے لیکر نائیجیریا میں ہونے والے فسادات اور قتل وغارت گری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ سب کچھ دشمنان اسلام کی سازشوں سے ہورہا ہے دشمن مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے، مسلم فسادات اور اختلافات کے پیچھے برطانوی شیعیت اور امریکی سنییت کا ہاتھ ہے یہ گروہ مسلم امہ کو ہر روز اختلافات اور جنگ کی طرف دھکیلنے میں مصروف ہے۔

تسنیم خبررساں ادارے نے مقام معظم رہبری کے دفتر کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ امام خامنہ ای نے وحدت اسلامی کانفرنس کے تیسویں اجلاس کے مہمانوں، اسلامی ممالک کے سفرا اور عام لوگوں کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تاکید کے ساتھ فرمایا ہے کہ برطانیہ، مغربی ایشیا کے لئے ہمیشہ سے  خطرہ، فتنہ و فساد اور مصیبتوں کی بنیاد بنا رہا ہے۔

امام خامنہ ای نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آج خطے میں دو نظریے پائے جاتے ہیں اور ایک دوسرے سے متصادم ہیں، ان میں سے  ایک نظریہ اتحاد کا ہے اور دوسرا تفرقہ و اختلاف کا ہے اور ان حساس حالات کے پیش نظر قرآن کریم اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی الہی تعلیمات ہی عالم اسلام کی وحدت کے لئے کارساز اور مشکلات کا حل ہیں-

رہبر معظم نے میلاد پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امام جعفر صادق علیہ السلام کی مناسبت سے ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے فرمایا: پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اللہ تعالی قرآن مجید میں عالم انسانیت پر احسان اور منت جتا رہا ہے، اس عظیم ہستی کو عالم بشریت کے لئے رحمت بنا کر بھیجا اور پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالی کی طرف سے عالم انسانیت کے لیے ایک انمول تحفہ ہیں۔

امام خامنہ ای نے قرآن کی آیت وَما اَرْسَلْناكَ اِلّا رَحْمَةً لِلعالَمینَ کی تلاوت کرتے ہوئے فرمایا: پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات عالم انسانیت کے لئے نجات کا ذریعہ ہیں، عالم انسانیت کے دشمن اور صاحبان مال و طاقت پیغمبراکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان مبارک تعلیمات سے متفق نہیں ہیں، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالی پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حکم دیتا ہے کہ کفار اور منافقین کے ساتھ جہاد کرے اور ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ کرنے سے پرہیز کرے۔

رہبر معظم نے مزید کہا: اسلام اور انسانیت کے دشمنوں سے جہاد کرنا ضروری ہے البتہ جہاد کی شرائط کو ملحوظ خاطر رکھ کر کبھی سیاسی، کبھی عسکری، اور کبھی علمی طور پر مقابلہ کرنا چاہئے۔

امام خامنہ ای کا کہنا تھا کہ مسلم اقوام خاص کر دینی مبلغین اور نوجوانوں کو چاہئے کہ پیغمبر اکرم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی الہی تعلیمات کا زیادہ سے زیادہ مطالعہ کرکے دوسروں تک پہنچائیں۔

رہبر انقلاب اسلامی نے تاکید کرتے ہوئے فرمایا: عالمی استکباری طاقتیں مسلمانوں کے درمیان تفرقہ اور اختلافات کو بڑھا کر مسلم اقوام کو کمزور کرنے کے درپے ہیں، عالم اسلام کو اس وقت بہت ساری مشکلات اور مصیبتوں کا سامنا ہے، ان تمام مشکلات اور مصیبتوں کا واحد حل، اسلامی مشترکات پر عمل کرکے ہر قسم کے اختلافات کو دور کرنے میں ہے۔

رہبرمعظم کا کہنا ہے کہ اگر مسلم ممالک اختلافات کو بھلا کر وحدت اور اتفاق کا مظاہرہ کریں تو امریکہ اور اسرائیل مسلمانوں پر اپنے ناپاک عزائم اور خواہشات کو مسلط کرنے کی طاقت کھو دیں گے اور فلسطین پر قبضہ کرنے کی تمام تر سازشیں ناکام ہوجائیں گی۔

امام خامنہ ای نے میانمار میں مسلمانوں کے قتل عام، مشرقی ایشیا سے لیکر نائیجیریا میں ہونے والے فسادات اور قتل وغارت گری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ سب کچھ دشمنان اسلام کی سازشوں سے ہورہا ہے دشمن مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہا ہے، مسلم  فسادات اور اختلافات کے پیچھے برطانوی شیعیت اور امریکی سنییت کا ہاتھ ہے یہ گروہ مسلم امہ کو ہر روز اختلافات اور جنگ کی طرف دھکیلنے میں مصروف ہے۔

امام خامنہ ای نے حالیہ دو صدیوں میں  برطانیہ کی پالیسیوں اور اقدامات کو علاقے کی قوموں کے لئے شر، اختلاف و تفرقہ اور مصیبتوں کی بنیاد قرار دیتے ہوئے فرمایا: کہ حالیہ دنوں میں برطانیہ نہایت بے شرمی سے مظلوم ایران کو خطے کے لئے خطرہ قرار دے رہا ہے لیکن سب جانتے ہیں کہ ان الزامات کے برخلاف خود برطانیہ  ہی ہمیشہ خطرہ، فتنہ و فساد اور مصیبتوں کی بنیاد رہا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈر کا مزید کہنا ہے کہ دشمنان اسلام کی سرگرمیوں میں اسلامی انقلاب کے بعد بہت تیزی آئی ہے، دشمن کامیاب اسلامی نظام کو دیکھ کر بوکھولاہٹ اور وحشت کا شکار ہوا ہے، دشمن ظاہری طور پر اپنے آپ کو رحم دل دکھانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن حقیقت میں وحشی اور سخت دل ہے لہذا مسلم امہ دشمن کی چالوں سے باخبر رہ کر مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہے۔

امام خامنہ ای  نے مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے اور انھیں کمزور کرنے کی سامراج کی بڑھتی ہوئی کوششوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس وقت عالم اسلام کو بہت سے مسائل، مشکلات اور مصائب کا سامنا ہے کہ جس کا واحد حل مذہبی و نظریاتی اختلافات کو پس پشت ڈال کر باہمی اتحاد و تعاون کو بڑھانے میں ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے اتحاد کو عالم اسلام کی سب سے بڑی ضرورت قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ تمام اسلامی فرقے چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی، اختلاف پیدا کرنے سے پرہیز کرتے ہوئے قرآن کریم، رسول اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور خانہ  کعبہ کو اتحاد و یکجہتی کا محور قرار دے کر ایک ہوجائیں۔

امام خامنہ ای نے مسلم ملتوں اور حکومتوں کو ہوشیار رہنے کی تلقین کی اور بعض اسلامی ممالک کے حکمرانوں سے مخاطب ہوکر سوال کیا کہ کیوں بعض اسلامی ممالک دشمن کی دھمکیوں اور عالم اسلام کے ساتھ کی جانے والی دشمن ساز پالیسیوں  کی پیروی کرتے ہیں؟

رہبرمعظم نے اپنی تقریر کے آخر میں ایرانی قوم سے مخاطب ہوکر فرمایا: امام و انقلاب کے راستے پر گامزن رہنا، دشمن کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرنا اور حق وحقیقت کے دفاع میں پیش پیش رہنا جبکہ ایسا کرنا انسان کو بغیر کسی شک و شبہے کے دنیا و آخرت میں سرخرو کرے گا۔

ترجمہ: غلام مرتضی جعفری

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری