ملی یکجہتی کونسل کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرہ

شراب کی اجازت لیکن قبول اسلام پر پابندی قابل مذمت ہے

خبر کا کوڈ: 1271405 خدمت: پاکستان
ملی یکجہتی کونسل

ملی یکجہتی کونسل پنجاب کے زیر اہتمام سندھ میں شراب فروخت کرنے کی اجازت اور18سال سے کم عمر افراد پر اسلام قبول کرنے کی پابندی کے خلاف مسجد شہداءمال روڈ پر احتجاجی مظاہرہ و جلسہ عام منعقد کیاگیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، ملی یکجہتی کونسل پنجاب کے زیر اہتمام سندھ میں شراب فروخت کرنے کی اجازت اور18سال سے کم عمر افراد پر اسلام قبول کرنے کی پابندی کے خلاف مسجد شہداءمال روڈ پر احتجاجی مظاہرہ و جلسہ عام منعقد کیاگیا۔

احتجاجی مظاہرے سے ملی یکجہتی کونسل کے رہنماﺅں لیاقت بلوچ، میاں مقصود احمد، سردارمحمد خان لغاری، ذکر اللہ مجاہد، علی عمران شاہین، اشتیاق کاظمی و دیگر مقررین نے خطاب کیاجبکہ انورگوندل، نعیم بادشاہ، سید حسن باری، محمد فاروق چوہان، قاری عطاءالرحمان اور عبدالعزیز عابد نے بھی شرکت کی۔

احتجاجی مظاہرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ملی یکجہتی کونسل کے مرکزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے آئین کی روح سے ملک میں بسنے والی تمام اقلیتوں کو مذہبی آزادی اور بنیادی حقوق کا تحفظ حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ 1973ء کے آئین کے مطابق ریاست کامذہب دین اسلام ہے اس سے انحراف کرتے ہوئے کوئی قانون نہیں بن سکتا۔ دین اسلام ساری دنیا میں تیزی سے پھیلنے والامذہب ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 18سال سے کم عمر افراد کو اسلام قبول کرنے سے روکنا قابل مذمت ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے بھی اس بل کو غیر اسلامی قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ سندھ حکومت کی طرف سے بل پر نظر ثانی کرنا کافی نہیں بلکہ اسے واپس لیاجائے۔

انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی قیادت نے عجلت میں پرائیویٹ بل کو سرکاری بناکر سندھ اسمبلی سے منظور کروایا۔ پیپلزپارٹی میں چند سیکولر ذہنیت کے حامل افراد نے بلاول بھٹو کا گھیراﺅ کیا ہواہے۔ ہم پاکستان کی اقلیت کے حقوق کے پاسبان ہیں۔

ملی یکجہتی کونسل پنجاب کے صدرمیاں مقصود احمدنے کہا کہ ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے سندھ اسمبلی میں 18 سال سے کم عمر افراد کے قبول اسلام پرپابندی کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ حکمران اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات کے خلاف قانون سازی کرکے عذاب خداوندی کو دعوت دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ 16دسمبر تازہ گزرا ہے، قوم پیپلزپارٹی کے زخموں کو بھلانے کی کوشش کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی بل کے حوالے سے قوم کو مایوسی ہوئی ہے۔ پیپلزپارٹی نے ایک مرتبہ پھرہمارے ایمان اور آئین پاکستان پر حملہ کیا ہے۔ نظر ثانی کا اعلان ناکافی ہے اس بل کو فوری طور پر واپس لیاجائے۔ اسلام ہمارادین ہے یہ بل خلاف اسلام ہے۔

انہوں نے تاکید کہ آصف علی زرداری مسلمان ہونے کاعملی ثبوت دیں اور اس خلاف شریعت بل کو واپس لیاجائے۔

احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سردار محمد خان لغاری نے کہا کہ حضرت علی علیہ السلام نے اسلام بچپن میں قبول کیا تھا۔ پیپلزپارٹی یہود و ہنود کی تقلید کررہی ہے۔ یہ لوگ پاکستان کو سیکولر ریاست بناناچاہتے ہیں۔ ہم ملی یکجہتی کونسل کے پلیٹ فارم سے ان کی تمام سازشوں کو ناکام بنادیں گے۔

ملی یکجہتی کونسل لاہور کے صدر ذکر اللہ مجاہد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا آئین کسی بھی ایسی قانون سازی کی اجازت نہیں دیتا جو اسلامی تعلیمات کے منافی ہو۔کچھ قوتیں پاکستان کے اسلامی تشخص کے خلاف سازشیں کررہی ہیں ہم اس کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔

علی عمران شاہین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ منارٹی کے نام پر پاکستان کے اسلامی تشخص کو مجروح کیاجارہا ہے۔ سندھ اسمبلی میں منظور ہونے والے بل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ احتجاجی مظاہرین سے دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔

    تازہ ترین خبریں