ملی یکجہتی کونسل کے صوبائی سیکریٹری جنرل کی تسنیم سے گفتگو؛

امام خمینی نے اپنی فہم و فراست و تدبر سے ہفتہ وحدت مناکر طاغوت کی تمام تر سازشوں کو ناکام بنا دیا

خبر کا کوڈ: 1271610 خدمت: انٹرویو
قاضی احمد نورانی صدیقی

ملی یکجہتی کونسل کے صوبائی سیکریٹری جنرل اور جمیعت علمائے پاکستان نوارنی کراچی کے صدر نے کہا ہے کہ جناب امام خمینی ؒ نے اپنی فہم و فراست، اپنے تدبر، اپنی دانش مندی اور اپنی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے 21 تا 71 ربیع الاول ہفتہ وحدت مناکر طاغوت کی تمام تر سازشوں کو ناکام بنا دیا اور یہ پیغام دیا کہ ہم جشن میلاد مصطفی کی تقریبات 12 سے 17 ربیع الاول تک منائیں گے۔

تسنیم خبر رساں ادارہ: مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی پاکستان میں سب سے بڑے دینی جماعتوں کے اتحاد ملی یکجہتی کونسل کے صوبائی سیکریٹری جنرل ہیں اس کے علاوہ جمیعت علمائے پاکستان نوارنی کراچی کے صدارت کی ذمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں، مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی پاکستان میں مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے والا ادارہ فلسطین فاؤنڈیشن سے بھی منسلک ہیں، اتحاد امت کیلئے ہمہ وقت کوشاں رہتے ہیں اور سیاسی و مذہبی معاملات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

تسنیم: رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات مقدسہ اتحاد وحدت کا محور ہے، ولادت رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موقع پر عالم اسلام کیلئے آپ کا پیغام کیا ہے؟

مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی: اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رحمت اللعالمین بن کر تشریف لائے قرآن کہتا ہے کہ وما ارسلناک الا رحمۃ للعالمین اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آنے سے اس روحِ زمین پر انقلاب برپا ہوا، سسکتی ہوئی انسانیت کو قرار ملا اور انسان اپنی وقت کی معراج تک پہنچ گیا، زمانے کیلئے پیغام میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہی ہے کہ جہاں جہاں فتنے جنم پا رہے ہیں انکی سرکوبی کی جائے، افتراقِ امت کو اتحاد میں تبدیل کیا جائے، مسلمانوں کا قتل عام جس منظم انداز میں ہو رہا ہے وہاں مسلم سربراہ بیٹھ کر ایک فیصلہ کریں کہ امت کو ہر صورت یکجا کرنا ہے یہی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعلیمات ہے اور اسکے ساتھ ساتھ طاغوتی طاقتیں جو ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور عقیدہ خطِ نبوت پر حملہ آور ہیں تو ان تمام تر کاذبین کا مقابلہ کرنا ہے جو ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تقدیس کو نہیں مانتے اور جو عقیدہ خطِ نبوت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہیں مانتے۔

تسنیم: 12 تا 17 ربیع الاول آج ساری دنیا میں ہفتہ وحدت کے طور پر مناجاتا ہے، ہفتہ وحدت کے حوالے سے امام خمینی کے فرمان میں کیا بصیرت پوشیدہ تھی؟

مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی: صدیوں سے مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ 21 ربیع الاول کو یوم میلاد مناتا رہا اور منا رہا ہے جبکہ ایک طبقہ کے روایتوں کے مطابق میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم 17 ربیع الاول کو ہے، اب ہوتا یہ تھا کہ 21 ربیع الاول کو یا 71 ربیع الاول کو میلاد منانے کا معاملہ نہیں، بسا اوقات طاغوتی طاقتیں اس اختلاف تاریخ کو فتنوں کا سبب بنا دیا کرتی تھی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے میلاد پر بھی بسا اوقات ایک ا عتراضات مختلف قسم کے فتنہ پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی تھی جناب امام خمینی ؒ نے اپنی فہم و فراست، اپنے تدبر، اپنی دانش مندی اور اپنی ذہانت کو استعمال کرتے ہوئے 21 تا 71 ربیع الاول ہفتہ وحدت مناکر طاغوت کی تمام تر سازشوں کو ناکام بنا دیا اور یہ پیغام دیا کہ ہم جشن میلاد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تقریبات کا آغاز 12 سے کریں گے اور اختتام 17 تک کریں گے، تم 12 اور 17 کی تاریخ پر اختلاف پیدا کرکے میلاد کو ختم کرنا چاہتے ہو ہم بارہ کو بھی تیرہ کو بھی چودہ کو بھی پندرہ کو بھی سولہ کو بھی اور سترہ کو بھی کریں گے اور تمہاری اس سازش کو اسطرح ناکام بنائیں گے کہ آئندہ کسی سازش پیدا کرنے کا ارادہ بھی نہیں کروگے۔

تسنیم: مشرق وسطی میں جاری کشیدہ صورتحال کو آپ کس نظر سے دیکھتے ہیں؟

مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی: صیہونیت دنیا کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے، اسرائیل کا وجود دنیا کے سینہ پر ناسور کے مانند ہے اور وہ اپنے وجود کو باقی رکھنے کیلئے کوئی بھی بڑے سے بڑا قدم اٹھا سکتا ہے آج ہم جب آپ سے گفتگو کررہے ہیں تو اطلاع آئی ہے کہ نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس شخص کو امریکی سفیر بنا کر اسرئیل بھیجا ہے جو یہودیوں کے بستیوں کے قیام کا بھی حامی ہے اور جو فلسطین کی ریاست کو کسی طور پر تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے، مشرق وسطیٰ کا امن اور مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کا یکجا ہو کر ترقی کرنا اسرائیل کے وجود کیلئے خطرہ ہے، اس ہی کیلئے کبھی مصر کو نئی نئی سازشوں کا شکار کیا جاتا ہے، کبھی لبنان کے اندر سازشیں کی جاتی ہے اور پھر شام کو ایک ایسی آگ میں جھونک دیا جاتا ہے جسکا کوئی اختتام نظر نہیں آتا جانتے ہیں آپ جغرافیائی اعتبار سے شام اور اسرائیل کی سرحدیں قریب تر ہیں بیچ میں صرف جولان کی پہاڑیاں ہیں اور شام ہی وہ ملک ہے جہاں عظیم جہادی تنظیم حماس کا مرکزی دفتر رہا اور شام ہی وہ ملک ہے جہاں بیٹھ کر حماس سکون کے ساتھ حکمت عملی طے کرتی تھی اور پھر غزہ میں مسلمانوں کی جدوجہد کیلئے تازہ کمک فراہم کرتی تھی تو اصل میں مشرق وسطیٰ میں بدامنی طاغوت کا پلان ہے افسوس کہ مسلم حکمران اس بارے میں صلاحیتوں کا استعمال نہیں کرتے وہ لاشیں وہ خون بربریت مسلمان حکمرانوں کے ماتھوں پر کلنگ کا ٹیکہ ہے عالمی طاقتیں جو صرف اپنا اسلحہ بیچنا چاہتی ہیں کبھی وہ اپنے پرول پر داعش کبھی طالبان کبھی القاعدہ کبھی النصرہ کبھی بوکوحرام اور کبھی دیگر دیگر ناموں سے تنظیمیں کھڑی کردیتے ہیں اور مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ چہرہ اور مہروں والے افراد مسلمانوں کو کاٹے اور تباہ کرے یہ عالم اسلام کی ذمہ داری ہے کہ وہ فوری طور پر اقدامات کرے اور مشرق وسطیٰ کی آگ کو بجھائے ورنہ یہ آگ کسی بھی مسلم ملک کو باقی رہنے نہیں دیگی۔

تسنیم: شام میں جاری جنگ اور حلب شہر میں باطل قوتوں کی شکست، پاکستان میں موجود چند گروہ اسے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کررہے ہیں اور ایک گروہ نے شامی حکومت اور ان دہشتگردوں کی حمایت میں ریلی کا بھی انعقاد کیا ہے اس پر آپ کیا کہیں گے؟

مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی: اصل میں پاکستان میں ایک المیہ یہ رہا ہے کہ ہم بہت جلد پراکسی وار کاحصہ بن جاتے ہیں، میں اس نظریہ کا حامل اور حامی ہوں جمیعت علمائے پاکستان کا نظریہ یہ ہے کہ ہمیں کسی بھی قیمت پر کسی پراکسی وار کا حصہ نہیں بننا چاہیے اگر شام میں چند طاقتوں کے مفادات موجود ہیں اگر شام کے معاملات نازک ترین پہلو پر ہے تو شام کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق شام کے عوام کو ہے نہ کہ باہر بیٹھے ہوئے افراد کو اور ہمیں سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ ایسا نہ ہو کہ اس منظم سازش کے تحت شام کے جنگجو کو افغانستان میں پاکستان کے سرحدوں کے قریب لاکر بسا دیا جائیں اور وہ پھر پاکستان میں دراندازی نہ شروع کردیں تو کسی بھی طور پر ہم اس چیز کے حامی نہیں ہے اور متحمل نہیں کہ کوئی بھی گروہ پاکستان میں کسی ملک کی خانہ جنگی کو ہوا دے یا وہاں کے حالات پر تبصرہ کرے، ہمیں وہاں کے ہر اس انسان کے قتل پر افسوس ہے جو بے گناہ مارا گیا ہمیں ہر اس بچے کے خون پر افسوس ہے جو ماں کے گود سے چھین لیا گیا اصل مسئلہ کسی کی حمایت و مخالفت نہیں اصل مسئلہ شام میں امن و سکون کا قیام ہے اسکے بعد وہاں کے رہنے والے چاہے وہ کسی فکر کے مسلمان ہوں دروزی ہوں یا عیسائی ہوں یا دیگر مذاہب کے لوگ ہوں وہ اپنے ملک کیلئے فیصلہ کریں کہ ہمیں کس طرح رہنا ہے، لبنان کے اندر بڑی تعداد عیسائیوں کی بھی ہے اور مختلف مکاتب کے مسلمانوں کی بھی ہے انہوں نے اپنے ہاں زندگی گزارنے کا طریقہ طے کرلیا ہے کہ انکا صدر جو ہے وہ ایک عیسائی فرد ہوا کرتا ہے انکا وزیر اعظم ایک سنی مسلمان ہوا کرتا ہے اور انکا اسپیکر اسمبلی شیعہ ہوتا ہے تو بہت سے طریقے ہیں کہ مقامی طور پر طے کئے جاسکتے ہیں۔ شام کا اپنا مسئلہ ہے لیکن سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں روس امریکہ کی مداخلت کو روکا جائے اور انکے ساتھ جو دیگر ممالک مداخلت کر رہے ہیں انکو روکا جائے اور شام کی عوام کا فیصلہ شام کی عوام پر چھوڑدیا جائے۔

تسنیم :عراق، شام اور فلسطین میں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں امت مسلمہ باہمی اتحاد کے لئے کس کی طرف دیکھ رہی ہے؟

مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی: عراق، شام اور فلسطین؛ اصل میں عراق کے پاس ایک طاقتور ترین فوج تھی اور وہ فوج بری علاقوں اور ریگستان میں بے پناہ صلاحیت رکھتی تھی، امریکہ کو ہرگز برداشت نہیں تھا کہ کسی بھی مسلم ملک کے پاس ایک بڑی فوج ہو پہلے انکو پڑوسی ملک سے لڑوا دیا گیا آٹھ سال تک ایران اور عراق لڑتے رہے اور مغرب کا اسلحہ بکتا رہا اسکے بعد کوویت سے جارحیت کروادی گئی ایک نیا فتنہ شروع ہوگیا جب یہ کچھ نہ ہوا تو کیمیائی ہتھیاروں کا بہانا بنا کر دراندازی شروع ہوگئی۔ 2002 میں جب امریکہ عراق سے نکل رہا تھا تو عراق بارود کا ڈھیر بن چکا تھا آخر امریکی مداخلت سے پہلے بھی شیعہ سنی اور دیگر مکتب فکر کے لوگ موجود تھے کیوں ایسا نہیں ہوا کہ امریکی مداخلت سے پہلے کربلا میں دھماکہ ہو جائے یا بغداد میں دھماکہ ہوجائے امام حسین علیہ السلام کے مزار پر جانے والے قافلوں پر حملہ ہوجائے یا غوث العظم عبدالقادر جیلانی مزارشریف پر حملہ ہوجائے۔ جو مسلمان امام اعظم ابو حنیفہ کے مزار جانا چاہتے تھے ویزہ لیکر وہاں چلے جاتے جو مسلمان غوث اعظم عبدالقادر جیلانی سے عقیدت رکھتے تھے وہاں چلے جاتے تھے اور جو پہلے کربلا جانا چاہتے اس طرف جا کر وہاں آجایا کرتے تھے تو وہی کربلا وہی نجف وہی بغداد وہی سارے شہر تھے یہ سارے فتنے امریکہ کے آنے کے بعد کیوں پیدا ہوتے ہیں تو اصل میں امریکہ اور دیگر طاغوت جانتے ہیں کہ مسلمانوں کو فرقہ واریت پر لڑواکر اپنے مقصد حاصل کئے جاسکتے ہیں یہی کیفیت شام کے اندر اور دیگر خطوں میں پیدا کی گئی اور یہ سارے جب سے گئے ہیں جو اصل میں امریکہ کے پیدا کردہ ہیں شام ہو امریکہ ہو عراق ہو افغانستا ن ہو وہاں تمام حالات کو بہت تدبر سے حل کرنا ہوگا اور کسی بھی غیر ملکی مداخلت کو روک کر وہاں کے عوام کے ذریعہ انکے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہوگا اس ہی میں مسلمانوں کی بقاء ہے وگرنہ یہ کیفیت جو لیبیا، عراق، شام میں پیدا ہوئی ہے یہ ہر جگہ پید ا کرتے رہیں گے۔

تسنیم: پاکستان میں نیشنل ایکشن پلان اور لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کے نام پر ماہ محرم میں مجالس وجلوس عزاء پر پابندی لگائی گئی اس ہی طرح ماہ ربیع الاول پر عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے محافل پر پابندی لگائی گئی اس پر آپ کیا کہیں گے؟

مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی: ایک طبقہ پاکستان میں ایسا ہے جو پاکستان کو لبرل اور سیکولر بنانے کا خواب دیکھتا ہے وہ طبقہ مذہبی شعرا کا فروغ برداشت نہیں کرتا آپ کو شاید انکی ذہنیت کا اندازہ نہیں ہے۔ وہ رمضان، محرم، ربیع الاول عیدیں اور دیگر ایام کو بطور مذہبی ایام کے میڈیا کا حصہ نہیں بناتے وہ صرف اسے پاکستان کا ایک کلچر کے طور پر ظاہر کرتے ہیں آپ دیکھ لیجئے بڑے چینلز کو وہ محرم میں جلوس عزاء کی تصویر کشی جو کریں گے ایک علم، ایک ذوالجناح، ایک تعزیہ دیکھا کر اپنا حق ادا کردیں گے کسی بھی عالم دین کا فکری خطاب جاری نہیں کریں گے وہ رمضان آنے پر بازاروں میں چوڑیاں پہنتی ہوئی خواتین، کپڑے وغیرہ دیکھا کر جناب عید کی رونقیں بحال ہوگئی، یا وہ دور سے تراویح کا ایک سین لیکر اپنا حق ادا کر تے یہی۔ ربیع الاول میں جلوس کے چند مناظر دیکھا کر ختم کر دیتے ہیں وہ کبھی بھی علماء کی گفتگو کو فکری انداز میں پیش کرنے کی کوشش نہیں کرتے وہ ذہن یہ چاہتا ہے کہ مذہبی شعرا پر پابندی لگائی جائے جب بھی کوئی ایسا فیصلہ پاکستان میں ہوتا ہے جسکے ذریعہ پاکستان میں غنڈہ گردی کو فرقہ واریت کو روکا جائے وہ ان فیصلوں کی آڑ میں مدارس کو مساجد کو مذہبی شخصیت کو نشانہ بناتے ہیں، ایپکس کمیٹی جو بنی اور جو 17ویں ترمیم ہوئی ہم نے اس ہی وقت کہا تھاکہ 71 ویں ترمیم میں جب آپ دہشتگردی کا ذکر کررہے ہیں تو صرف آپ مذہبی دہشتگردی کا کیوں ذکر کررہے ہیں سیاسی دہشتگردی کاکیوں ذکر نہیں کررہے۔ کراچی میں 1986سے آج تک جو پچاس ہزار نوجوان مارے گئے ہیں وہ کسی امام بارگاہ سے فائرنگ نہیں ہوئی ہے نہ کسی مدرسہ سے ہوئی ہے کسی مسجد سے بھی نہیں ہوئی ہے وہ سارے کے سارے مارنے والے سیاسی دہشتگرد تھے، محرم کے آغاز کے ساتھ ہی کراچی پولیس کے سربراہ کے بقول اتنا اسلحہ پکڑا گیا کہ اس سے ایک جنگ ہوسکتی ہے تو وہ اسلحہ کسی مذہبی ادارے یا دفتر سے برآمد نہیں ہوا وہ ایک سیاسی ادارے کے قریب سے برآمد ہوا ہے تو قتل و غارت گردی کرنے والے سارے سیاسی لوگ ہیں ان پر قدغن لگائی جائے ان پر پابندی لگائی جائے انکو روکا جائے کسی بھی قانون کو اگر مذہبی رسومات کے خلاف استعمال کیا جائیگا تو مسلمانان پاکستان بھرپور احتجاج کریں گے جیسا کہ پچھلے دنوں صوبائی اسمبلی نے صوبہ سندھ میں قبول اسلام پر پابندی کی سازش کی اتنے مظاہرے ہوئے کہ بالآخر انکو روکنا پڑا اور وہ اسے برداشت نہیں کرپائے ہم نہیں سمجھتے کہ کبھی بھی یہ سازش کامیاب ہوگی جو یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں اسلام کا راستہ روکیں گے وہ احمقوں کے جنت میں رہتے ہیں، پاکستان کی بنیادوں میں اسلامیان پاکستان نے اپنا لہو پیش کیا ہے اور اسکی بنیادیں توحید و سنت کی بنیاد پر قائم ہے یہاں کبھی بھی لبرلرزم فروغ نہیں پاسکتا۔

تسنیم: پاکستان میں موجود چند کالعدم جماعتوں کو حکومتی سرپرستی رہی ہے اور انہی کی سرپرستی میں الیکشن میں حصہ لیتے اور قانون ساز اسمبلی تک پہنچتے ہیں اس پر آپ کیا کہیں گے؟

مولانا قاضی احمد نورانی صدیقی: کالعدم جماعتوں کے حکمران جماعتوں سے رابطے ہوتے رہتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی ،پاکستان مسلم لیگ(ن) اور دیگر معروف جماعتیں اپنے اپنے علاقائی طور پر کالعدم جماعتوں کے لوگوں سے رابطہ رکھتے ہیں اپنے ووٹوں کیلئے، ان کیلئے ووٹ قیمتی ہیں پاکستان کا امن قیمتی نہیں ہے۔ کبھی یہ لیاری گینگ وار کو سپورٹ کرتے ہیں کبھی یہ کسی چھوٹی گینگ کو سپورٹ کرتے ہیں کبھی ان جماعتوں کے جن کے دہشتگروں کے سروں کی قیمت مقرر کی ہوئی ہوتی ہے انکو سپورٹ کرتے ہیں، انکا مقصد فقط اقتدار کا حصول ہوتا ہے یہ انکی غلط طرز حکمرانی ہے ہرگز ہرگز کسی کالعدم تنظیم کے فرد کو نام بدل کر کام کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے اور کسی بھی کالعدم جماعت کے فرد کو قانون ساز اسمبلی میں پہنچنے سے روکنے کیلئے قانون سازی کی جانے چاہیے اگر وہ لوگ جو اس قوم کے قاتل ہے وہ خود اسمبلی میں پہنچ جائیں گے تو قوم کا اللہ ہی حافظ ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری