ایران کا یورینیم افزودگی بڑھانے کے لیے عالمی ادارے سے رابطہ

خبر کا کوڈ: 1272018 خدمت: ایران
پرچم ایران

ایران نے اقوام متحدہ کے جوہری سربراہ یوکیا امانو کے ساتھ جوہری ایندھن سے چلنے والے بحری جہازوں کی تیاری کے اپنے منصوبے اور یورینیم افزودگی کی سطح بڑھانے سے متعلق بات چیت کی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، ایران نے اقوام متحدہ کے جوہری سربراہ یوکیا امانو کے ساتھ جوہری ایندھن سے چلنے والے بحری جہازوں کی تیاری کے اپنے منصوبے سے متعلق بات چیت کی اور افزودگی کی سطح بڑھانے کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، بحری جہازوں کے ایسے انجن (جو بالعموم طیارہ برداربحری بیڑوں میں استعمال ہوتے ہیں) میں اعلیٰ سطح کی افزودہ یورینیم استعمال ہوتی ہے۔

ایرانی ایٹمی توانائی کے ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ یوکیا امانو سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کے ایٹمی ایندھن سے چلنے والے انجن کیلیے 5 سے 90 فیصد تک افزودگی درکار ہوتی ہے مگر ہم معاہدے کے فریم ورک کے اندر رہیں گے۔

انھوں نے 3 ماہ کے اندر اس منصوبے کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔

ادھر مبصرین کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت ایران یورینیم کو صرف 3.67 فیصد تک افزودہ کر سکتا ہے جو کہ اس قسم کے انجن کیلیے کافی نہیں ہے۔

عالمی ادارہ توانائی کے سربراہ امانو نے جوہری ایندھن سے چلنے والے انجنز کی تیاری کے منصوبوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تاہم کہا کہ ایران نے ابتک گزشتہ سال عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پانے والے معاہدوں کے تحت اپنی ذمے داریوں کو پورا کیا ہے۔

ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ علی اکبر صالحی نے کہا کہ ہم نے جوہری پار انجنز کے معاملے پر تفصیلی بات کی ہے ۔ایران کے صدر حسن روحانی نے گزشتہ ہفتے جوہری طاقت کے حامل بحری جہازوں کی تیاری کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری