حلب کا انتقام؛ داعش کے حامی ترک پولیس افسر نے روسی سفیر کو جان سے مار دیا + فلم و تصاویر

خبر کا کوڈ: 1272555 خدمت: دنیا
ترور سفیر روسیه

ترکی میڈیا کے مطابق، ترک پولیس افسر نے "حلب کا انتقام" کا نعرہ لگاتے ہوئے انقرہ میں روس کے سفیر آندرے کارلوف کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا جبکہ حملہ آور بھی پولیس کی فائرنگ سے مارا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے روسی ذرائع ابلاغ کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ترکی میں روس کے سفیر اندرے کارلوف کو پیر کے روز فنون لطیفہ کی ایک نمائش کے دوران گولیاں مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔

اندرے کارلوف 2013 سے ترکی میں روس کے سفیر کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے تھے، اندرے کارلوف کی عمر62 سال تھی اور انہوں نے 1980 کی دہائی کا بیشتر حصہ شمالی کوریا میں بطور سفیر گزارا۔

1991 میں سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد انھیں جنوبی کوریا منتقل کر دیا گیا تھا جبکہ 2001 میں شمالی کوریا میں بطور سفیر تعینات کئے گئے تھے۔

فرانسیسی ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق، تصویری نمائش کے دوران روسی سفیر جب تقریر کے لئے آئے تو ایک جوان آدمی  نے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور شامی شہر حلب کا انتقام لے رہا ہوں کہہ کر ان پر پستول سے گولیاں برسائیں۔

ادھر صدر ولادمیر پیوٹن نے اس موضوع پر ہنگامی میٹنگ بلا کر سیاسی ماہرین سے مشاورت کی ہے۔

روسی صدر کا کہنا ہے کہ سفیر پر حملے کا مقصد دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھانے اور شام میں امن کی بحالی کی کوشش کو نقصان پہنچانا ہے۔

روس نے اعلان کیا ہے کہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے گا اور تحقیقات کروائی جائیں گی۔

بتایا جاتاہے کہ روسی سفیر کا قاتل ایک پولیس افسر ہے۔

ترک ذرائع ابلاغ نے خبر دی ہے کہ سفیر کے قاتل کا نام "مِرت آلتین‌تاش" ہے جو کہ انقرہ میں پولیس محمکے کا ملازم تھا۔

قاتل، اپنا پولیس کارڈ دکھا کر نمائش میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ دوسری عالمی جنگ کے بعد ترکی میں ایک غیر ملکی سفیر کا پہلا قتل ہے۔

ایسوسیٹڈ پریس نے اعلان کیا ہے کہ ایک سوٹ پہنے اور ٹائی لگائے ہوئے جوان نے "اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا اور سفیر پر گولیاں چلائیں۔

ترکی میں روس کے سفیر کے قتل  پر ترک صدر طیب رجب اردوغان کا ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اندرے کارلوف پر حملہ، ترک قوم پر حملہ ہے۔

اطلاعات کے مطابق حملے میں کئی دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں جنھیں روسی سفیر سمیت ہسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں روس کے سفیر پر حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب گزشتہ دنوں میں شام میں روسی فوج کی کارروائیوں کے  بدولت حلب شہر آزاد ہوگیا ہے اور دہشت گردوں کو کمرشکن شکست ہوئی ہے۔

حلب کی آزادی سے ترکی کے بعض حلقوں میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے اور روس کے خلاف ترکی میں مظاہرے بھی کئے گئے ہیں۔

یاد رہے کہ مقتول سفیر کے دور میں روس اور ترکی کے درمیان تعلقات میں کشیدگی آئی اور گذشتہ سال شامی سرحد کے قریب ایک ترک طیارے نے روسی جنگی جہازکو بھی ما گرایا تھا۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری