تحریر: محمد سلیم

مبارک ہو! اسرائیل مسلمان اور مجاہدین بن گئے۔۔۔ لیکن کیسے؟؟؟

خبر کا کوڈ: 1273387 خدمت: مقالات
اسرائیلی

نام نہاد نیشنل سالویشن فرنٹ کی جانب سے صہیونیوں کا شکریہ ادا کرنا اور اسرائیلیوں کا حلب میں شکست خوردہ تکفیریوں کی حمایت میں مظاہرہ کرنے سے وہابیوں اور یہودیوں کے درمیان روابط آہستہ آہستہ واضح ہوتے جا رہے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کو ارسال کئے گئے کالم میں پاکستانی کالم نگار محمد سلیم نے کہا ہے کہ وہ بات جو زبان زدعام تھی اور ماہرین اور دنیا کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں کے قلم سے بھی لکھی جاتی رہی لیکن شاید پاکستان کے وہابی مکاتب سے پیوند استوار کرنے والوں کے لئے یہ بات قابل قبول نہ تھی، کہ وہ کہہ رہے تھے کہ حلب کے دہشت گرد پاکستان، افغانستان، عراق، بحرین، یمن وغیرہ کے دہشت گردوں اور سعودی، قطری، اماراتی، بحرینی حکمرانوں کی طرح یہودیوں سے رابطہ جوڑ کر اسلام سے اپنا رابطہ توڑ چکے ہیں لیکن کوئی ماننے کو تیار ہی نہ تھا اور اب جب اسرائیلیوں نے حلب کے تکفیریوں کی حمایت میں جلوس نکال کر پاکستانی تکفیریوں کی صدا میں صدا ملا کر ثابت ہوگیا ہے کہ وہ بات صحیح تھی۔

یہودیت سے اہل سنت کی نفرت تاریخی ہے لیکن اب دیکھا جائے گا کہ اگر تحریک مزاحمت کے مجاہدین ـ جو سنی اور شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہیں، یہودیوں کے مقابل قرار پائیں تو  اہل سنت کہلوانے والوں کا فیصلہ کیا ہوگا؟ اور کس محاذ میں کھڑے ہونگے؟

کیا تکفیری اور ان کے حامی حقیقتا اہل سنت ہیں؟ اگر ہیں تو خبر پڑھیں اور اپنا فیصلہ بدل دیں، یہ دعوت قلم و ضمیر بیچنے والوں کے لئے نہیں ہے، بلکہ عام مسلمانوں کے لئے ہے جو گمراہ کن پراپیگنڈوں کی وجہ سے تکفیریوں کی حمایت کررہے ہیں۔

تسنیم نیوز نے "uprootedpalestinians.wordpress" کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ روز اسرائیل میں حلب کے دہشت گردوں کے حق میں یہودیوں نے مظاہرہ کیا۔

یہودیوں نے ایران روس اور حزب اللہ کے خلاف سخت نعرے بازی کی۔

واضح رہے کہ اس مظاہرے سے وہابیوں اور یہودیوں کا لنک آہستہ آہستہ واضح ہوتا جا رہا ہے۔

صرف یہی نہیں، آخر میں دہشت گردوں کے سربراہ کی طرف سے اسرائیلی مظاہرین کو جو پیغام بھیجا گیا تھا وہ اس سے بھی زیادہ واضح تھا؛ اس نے کہا تھا: "ہم مجاہدین اسرائیل کا شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے اس سے پہلے بھی ہماری حمایت کی ہے اور اس کے بعد بھی مدد جاری رکھے گا"۔

خیال رہے کہ یہودیوں اور وہابیوں کی ہمدردیوں کے منظر عام پر آنے کے بعد معلوم ہوگیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف خودکش حملے کیوں نہیں ہوتے اور اسرائیل کے خلاف جہاد کیوں نہیں شروع کیا جاتا؟

ادھر حکومت شام کے خلاف لڑنے والی دہشت گرد تنظیموں بالخصوص نام نہاد نیشنل سالویشن فرنٹ نے فلسطین میں کالونیاں بنانے والے صہیونی غاصبین کا شکریہ ادا کیا ہے جنہیں نے حلب کی آزادی کے موقع پر حکومت شام کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی تھی اور کہا ہے کہ قدس، تل ابیب اور حیفا میں شام مخالف تنظیموں کی حمایت اور حکومت شام کے خلاف ہونے والے مظاہرے میں شرکت کرنے والے صہیونیوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

تکفیریوں کے مشترکہ بیان میں آیا ہے: ہم ان تمام اسرائیلیوں کا شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ہماری ندا کو لبیک کہا اور حکومت شام کے مظالم کی مذمت کی۔

ریڈیو اسرائیل نے شامی تکفیریوں کے حوالے سے کہا: ہم اسرائیلی قوم سے چاہتے ہیں کہ اسد حکومت کے خلاف مظاہرے اور احتجاج پوری دنیا میں جاری رکھیں۔

    تازہ ترین خبریں