خفیہ اداروں کے اکاونٹس عملی طور پر آڈٹ سے مستثنیٰ

خبر کا کوڈ: 1273652 خدمت: پاکستان
روپیہ

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا ہے کہ موجودہ حکومت نے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے اکاؤنٹس کی آڈٹ کے حوالے سے ادارے کو بے بس کردیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کو بتایا ہے کہ موجودہ حکومت نے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) اور انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے اکاؤنٹس کی آڈٹ کے حوالے سے ادارے کو بے بس کردیا ہے۔

ڈان نیوز کے مطابق، آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) رانا اسد امین نے پی اے سی کو بتایا کہ حکومت نے فنانس بل 2014 کے ذریعے آئی ایس آئی اور آئی بی کے اکاؤنٹس کو عملی اور پر آڈٹ سے مستثنیٰ کردیا ہے، ہمیں ان کے اکاؤنٹس کو آڈٹ کرنے کیلئے مذکورہ بل کی شق کے مطابق حکومت سے منظوری درکار ہوتی ہے۔

واضح رہے کہ اے جی پی ایک آئینی ادارہ ہے جسے عوامی پیسے سے ہونے والے اخراجات کی جانچ پڑتال کیلئے با اختیار بنایا گیا ہے۔

2014 میں وزارت خزانہ کے مشیر رہنے والے رانا اسد امین نے سوال اٹھایا کہ 'ہم کسی اور ملک کے آڈیٹرز نہیں، وہ ہم سے اپنے اکاؤنٹس آڈٹ کرانے میں تذبذب کا شکار کیوں ہیں؟'

یہ انکشافات پی اے سی کی اس اجلاس میں کیے گئے جس میں وزارت داخلہ کے نیشنل کرائسسز مینجمنٹ سیل (این سی ایم سی) کے حوالے سے قائم خفیہ اداروں کے فنڈز کے آڈٹ سے متعلق پیرا کی جانچ پڑتال کی جارہی تھی۔

آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پی اے سی کو بتایا کہ 2013 میں سپریم کورٹ کی جانب سے واضح حکم آیا تھا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے تمام فنڈز کا آڈٹ کیا جاسکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جس وقت اے جی پی آفس نے این سی ایم سی کے خفیہ فنڈز کی آڈٹ کا آغاز کیا تو انھیں ریکارڈ فراہم نہیں کیے گئے۔

انھوں نے کہا کہ بعد ازاں جب انھیں ریکارڈ فراہم کیا گیا تو آڈیٹرز نے خفیہ فنڈز کے استعمال میں 47 اعتراضات لگائے۔

پی اے سی کے رکن شفقت محمود کی جانب سے خفیہ فنڈز کی آڈٹ کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں رانا اسد امین کا کہنا تھا کہ 2013 سے مختلف وزارتوں کے خفیہ فنڈز کو جاری کرنے کا سلسلہ ختم کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تاہم آئی ایس آئی اور آئی بی اب بھی خفیہ فنڈز کو استعمال کررہی ہیں اور 2014 کے فنانس بل کے باعث آڈیٹرز کو ان کے اکاؤنٹس آڈٹ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔

پی اے سی کے چیئرمین سید خورشید احمد شاہ نے اس موقع پر سپریم کورٹ کے خفیہ فنڈز کے حوالے سے جاری حکم اور یہ کہ حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے عوامی پیسے کو آڈیٹر جنرل کو بااختیار بنایا گیا ہے کی یاد دہانی کرانے پر رانا اسد امین کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے نے اس مخصوص معاملے پر وزارت قانون سے مشورہ کی کوشش کی تھی.

ان کا کہنا تھا کہ وزارت قانون نے تجویز پیش کی کہ سپریم کورٹ نے فنانس بل 2014 کی متنازع شق کے بارے میں علیحدہ سے حکم جاری نہیں کیا تھا جس کی وجہ سے مذکورہ قانون اب بھی لاگو ہے جس کے باعث آڈیٹرز کو ان ایجنسیوں کے اکاؤنٹس آڈٹ کرنے کیلئے حکومت کے منظوری کی ضرورت ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس موقع پر ادارے نے اٹارنی جنرل سے ان کا نقطہ نظر جاننے کیلئے رابطہ کیا تھا اور انھوں نے گذشتہ ہفتے وزارت قانون کی تجویز کی حمایت کردی ہے۔

رانا اسد امین کا کہنا تھا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان اس صورت حال سے مطمئن نہیں ہیں وہ حکومت سے فنانس بل میں موجود متنازع شق کو ختم کرنے کیلئے درخواست دینے جارہے ہیں۔

اس موقع پر محمود خان اچکزئی نے تجویز پیش کی کہ پی اے سی مذکورہ کیس میں حریف بن سکتی ہے اور سپریم کورٹ میں ایک آئینی پٹیشن دائر کرسکتی ہے تاکہ آڈیٹر جنرل کو انٹیلی جنس کے اکاؤنٹس کی آڈٹ کا اختیار دیا جاسکے تاہم اس تجویر کو کمیٹی نے منظور نہیں کیا۔

تاہم پی اے سی نے یہ تجویز دی کہ آڈیٹر جنرل اس حوالے سے اپنی حیثیت میں ایک آئینی پٹیشن دائر کریں، کمیٹی کا ماننا تھا کہ ریاست کے تمام اداروں کے اکاؤنٹس آڈٹ ہونے چاہیے۔

رانا اسد امین کا کہنا تھا کہ ان انٹیلی جنس ایجنسیز کی وجہ سے فرنٹئر ورک آرگنائزیشن، نیشنل بینک آف پاکستان اور کچھ دیگر ادارے بھی اپنے اکاؤنٹس آڈیٹر جنرل سے آڈٹ کرانے سے گریز کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے واضح حکم کے باوجود نیشنل بینک آف پاکستان نے 2010 میں آڈٹ کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کرلیا تھا، جس کے باعث بینک کی انتظامیہ نے ادارے کو اپنے فرائض انجام دینے نہیں دیے۔

انھوں نے پی اے سی کو مزید آگاہ کیا کہ اے جی پی نے اس حوالے سے نیشنل بینک کے خلاف توہین عدالت کا کیسز دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری