ماسکو میں سینئر روسی سفارت کار قتل

خبر کا کوڈ: 1273657 خدمت: دنیا
روسی سفارتکار

سینئر روسی سفارت کار پیٹر پولشیکوف کو روس کے دارالحکومت ماسکو میں ان کے گھر میں مبینہ طور پر فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے روزنامہ ڈان کے حوالے سے بتایا ہے کہ سینئر روسی سفارت کار پیٹر پولشیکوف کو روس کے دارالحکومت ماسکو میں ان کے گھر میں مبینہ طور پر فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔

ڈیلی میل نے رپورٹ دی ہے کہ 56 سالہ پیٹر سینئر روسی سفارت کار تھے اور وزارت خارجہ کے  محکمہ لاطینی امریکا میں تعینات تھے۔

متعدد رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ پیٹر پولشیکوف وزارت خارجہ سے اپنی ذمہ داریاں چھوڑ چکے تھے تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ ان دنوں حکومت کے کس محکمہ میں کام کررہے تھے۔

پولیس کے مطابق ان کی لاش ماسکو میں ان کے فلیٹ سے برآمد کی گئی ہے اور ان کے سر میں گولی کا نشان تھا۔

پولیس واقعے کے تحقیقات کررہی ہے تاہم فوری طور پر ان کے قتل کے محرکات واضح نہیں ہوسکے۔

پولیس کے مطابق ان کے فلیٹ سے گولی کا خول بھی برآمد کیا ہے، جبکہ ایک گن ان کے واش روم میں موجود سنک کے نیچے سے برآمد کی گئی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے وقت کی مقتول کی اہلیہ بھی فلیٹ میں موجود تھی تاہم وہ محفوظ رہیں۔

گذشتہ روز ترکی میں روسی سفیر آندرے کارلوف کو آف ڈیوٹی پولیس اہلکار میلود میرٹ ایلٹنٹاس نے فن پاروں کی نمائش کی تقریب میں فائرنگ کرکے قتل کیا تھا اور انھیں 9 گولیاں لگی تھیں, اس واقعے کو روس نے 'دہشت گردی کا واقعہ' قرار دیا تھا۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخاروا نے اپنے بیان میں کہا کہ 'آج انقرہ میں ایک حملے کے نتیجے میں روسی سفیر زخمی ہوئے اور بعد ازاں دم توڑ گئے، ہم اس کارروائی کو دہشت گردی قرار دیتے ہیں'۔

ترک ذرائع ابلاغ کے مطابق آندرے کارلوف کے قتل کی تفتیش کے سلسلے میں حملہ آور کے والدین، بہن اور چچا سمیت 6 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

ترک حکام کے مطابق صدر طیب رجب اردوگان نے روسی ہم منصب ولادی میرپیوٹن کو واقعے کے فوری بعد فون کر کے سفیر کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا اور واقعے کے حوالے سے آگاہ کیا۔

انقرہ کے میئر ابراہیم میلیح گوگچک نے بتایا کہ 'حملہ آور ترکش پولیس افسر تھا جس کی شناخت ہوگئی ہے'۔

واضح رہے کہ ترکی میں روسی سفیر پر حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب شام کے شہر حلب کی صورت حال پر ترکی میں احتجاج کیا جارہا ہے تاہم ترکی اور روس اس وقت حلب سے شہریوں کے انخلا کے لیے مل کر کام کررہے ہیں۔

ترکی میں مظاہرین حلب میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا ذمہ دارروس کو ٹھہرا رہے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری