بھارت تخریبی سرگرمیوں سے باز رہے اور سی پیک کا حصہ بنے، کمانڈر سدرن کمانڈ

خبر کا کوڈ: 1273891 خدمت: پاکستان
لیفٹننٹ جنرل عامر ریاض

کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹننٹ جنرل عامر ریاض نے بھارت کو پاکستان کے خلاف تخریبی سرگرمیوں کے بجائے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ بن کر مستقبل میں ترقی کے ثمرات حاصل کرنے کی تجویز دے دی۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے ڈان نیوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹننٹ جنرل عامر ریاض نے بھارت کو پاکستان کے خلاف تخریبی سرگرمیوں کے بجائے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا حصہ بن کر مستقبل میں ترقی کے ثمرات حاصل کرنے کی تجویز دے دی۔

بلوچستان فرنٹیئر کورپس (ایف سی) کی تقسیمِ ایوارڈز کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل عامر ریاض کا کہنا تھا کہ انڈیا کو ایران، افغانستان، چین اور وسط ایشیائی ریاستوں کی طرح سی پیک کے ثمرات سے مستفید ہونا چاہیئے۔

انہوں نے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ ذاتی طور پر جلاوطنی اختیار کیے ہوئے رہنماؤں کے بہکاوے میں نہ آئیں، ان کے خیال میں یہ رہنما دشمنوں کی جانب سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کا کام سرانجام دے رہے ہیں۔

دوران خطاب لیفٹننٹ جنرل عامر ریاض کا کہنا تھا کہ ان افراد کے متاثر کن نعرے اب کام نہیں کریں گے کیونکہ لوگ ان کے مقاصد جان چکے ہیں اور اب گمراہ نہیں ہوں گے۔

دہشت گردوں اور تخریبی کارروائیوں کے خلاف لڑتے ہوئے اپنی جان قربان کرنے والے 700 ایف سی اہلکاروں کی قربانی کو سراہتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو گذشتہ 10 سالوں سے اس قسم کی کارروائیوں کا سامنا ہے لیکن ایف سی کے جوانوں نے ان دشمنوں کو شکست دے کر بھاگنے پر مجبور کردیا۔

کمانڈر سدرن کمانڈ کا مزید کہنا تھا کہ عسکریت پسند بندوق کی نوک پر لوگوں کو ڈرا دھمکا کر اور ہراساں کرکے اپنے نظریات ان پر تھوپتے رہے اور بہتر اور خودمختار بلوچستان کے قیام کو متاثر کیا۔

انھوں نے کہا کہ دبئی، لندن اور جینیوا میں بیٹھے عسکریت پسندوں کو ملک دشمنوں کی جانب سے پاکستان کو نقصان پہنچانے کے لیے بھاری فنڈنگ کی جارہی تھی۔

لیفٹننٹ جنرل عامر ریاض کا کہنا تھا کہ ایف سی اہلکار بہادری سے ان دشمنوں کے خلاف لڑتے رہیں گے جو بلوچستان کی ترقی کے خلاف ہیں اور عسکریت پسندوں کو فنڈز فراہم کررہے ہیں۔

انہوں نے تعمیری، سماجی اور تہذیبی سرگرمیوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مزید سڑکیں اور شاہراہیں قائم کی جائیں گی اور گوادر بندرگاہ کو فعال کیا جائے گا جس میں مختلف خطوں کے لیے الگ الگ معاشی زون مقرر ہوں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور اس کے ہمسایہ ممالک سی پیک منصوبوں سے مستفید ہوسکتے ہیں جبکہ لوگ ایف سی اہلکاروں کے ساتھ تعاون کرکے امن کے قیام کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری