سابق وزیر حامد سعید کاظمی کی سزا کا ریکارڈ طلب

خبر کا کوڈ: 1274681 خدمت: پاکستان
حامد سعید کاظمی

سپریم کورٹ نے سابق وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کو حج کرپشن کیس میں دی جانے والی 6 سال قید کی سزا کا مکمل ریکارڈ طلب کرلیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، سپریم کورٹ نے سابق وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی کو حج کرپشن کیس میں دی جانے والی 6 سال قید کی سزا کا مکمل ریکارڈ طلب کرلیا۔

ڈان نیوز نے رپورٹ دی ہے کہ جسٹس اعجاز افضال خان اور جسٹس دوست محمد خان پر مشتمل سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے 4 جولائی کو ضمانت کی درخواست مسترد کیے جانے کے خلاف دائر کی گئی ایک پٹیشن کی سماعت کی۔

سابق وفاقی وزیر کے وکیل سردار عبدالطیف کھوسہ نے زور دیا کہ ان کا موکل اپنی آدھی سے زائد سزا کاٹ چکا ہے اور اب بھی جیل میں سڑ رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کیس میں نامزد دیگر افراد کی سزا کو اسلام آباد ہائی کورٹ معطل کرچکی ہے، جن میں سابق حج ڈائریکٹر راؤ شکیل اور راجا آفتاب شامل ہیں۔

انھوں نے عدالت کو بتایا کہ ان کے موکل کے خلاف غبن کے چارجز نہیں لائے گئے تھے اور ان پر صرف اختیارات کے غلط استعمال کا الزام تھا۔عدالت نے راولپنڈی میں قائم اڈیالہ جیل کی انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ سابق وفاقی وزیر مذہبی امور کی سزا کا ریکارڈ پیش کریں اور ساتھ ہی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کو بھی نوٹس جاری کردیا گیا۔

خیال رہے کہ 3 جون کو سابق وزیر مذہبی امور حامد کاظمی کو اسلام کے سینٹرل جج نے کرپشن کے الزام میں بدعنوانی کی روک تھام کے ایکٹ 1947 کے تحت 6 سال کی قید اور 14 کروڑ 70 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔

سابق وزیر نے سزا کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی تھی، جس میں سزا کو معطل کرنے کا کہا گیا تھا اور جاری سماعت تک ان کی ضمانت منظور کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی لیکن ایک رکنی بینچ کے جج نے 4 جولائی کو اپیل مسترد کردی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: حج کرپشن کیس: حامد کاظمی کی درخواست ضمانت مسترد

سپریم کورٹ کو دی گئی درخواست میں کہا گیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ کی جانب سے درست کیا جانا چاہیے، کیونکہ راولپنڈی کی جیل کے سپریٹنڈنٹ کے 24 جون کے خط کے مطابق درخواست گزار اپنی 6 سال کی سزا کے 3 سال 8 ماہ اور 4 دن گزار چکا ہے اور یہ اس کی ضمانت کیلئے کافی ہے۔

پٹیشن میں اس بات پر اعتماد کا اظہار کیا گیا کہ حامد کاظمی پر لگائے گئے الزامات سے ان کے بری ہونے کے امکانات روشن ہوگئے تھے تاہم وہ پروپیگنڈے کا شکار ہوگئے۔

پٹیشن میں الزام لگایا گیا ہے کہ 'یہ پروپیگنڈا حامد کاظمی کے جاری ٹرائل پر اثر انداز ہوا تھا اور اس نے ٹرائل کورٹ کی جانب سے ان کو سزا دینے میں اہم کردار ادا کیا تھا، یہ بات نظر انداز کرتے ہوئے کہ ان پر لگائے گئے الزامات کی مدد کیلئے کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔

واضح رہے کہ حامد سعید کاظمی پر الزام ہے کہ وہ حج کرپشن اسکینڈل میں ملوث تھے اور ان کی وجہ سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا، ان پر بدعنوانی کے الزام میں 15 مارچ 2011 کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

2010 سے 2012 کے درمیان حج کرپشن اسکینڈل نے ملک کے سیاسی منظر نامے میں ہلچل مچادی تھی، جس کے بعد وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی اور اُس وقت کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اعظم سواتی کو وفاقی کابینہ سے نکال دیا گیا تھا۔

حامد سعید کاظمی پر بدعنوانی کے الزام میں 30 مئی 2012 کو فرد جرم عائد کی گئی تھی تاہم وہ اپنی بے گناہی پر اصرار کرتے رہے لیکن جون 2016 میں انھیں قید کی سزا سنادی گئی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری