سعودی عرب کو سخت معاشی بحران کا سامنا/ اپنی 6 سو سالہ قدیم روایت کو بدل دیا

خبر کا کوڈ: 1275016 خدمت: دنیا
سلمان - محمد بن سلمان

سعودی حکومت تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث درپیش سنگین معاشی بحران کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات اٹھا رہی ہے۔ معیشت میں بہتری کے لیے اب ریاست کی طرف سے اپنی لگ بھگ 600سال قدیم روایت بدلتے ہوئے اسلامی کیلنڈر کی جگہ عیسوی کیلنڈر کو رائج کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، سعودی حکومت تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث درپیش سنگین معاشی بحران کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات اٹھا رہی ہے۔ معیشت میں بہتری کے لیے اب ریاست کی طرف سے اپنی لگ بھگ 600سال قدیم روایت بدلتے ہوئے اسلامی کیلنڈر کی جگہ عیسوی کیلنڈر کو رائج کرنے کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔

روزنامہ دنیا پاکستان نے اسپوٹنک نیوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ اعلان گزشتہ روز سعودی عرب کے نائب ولی عہد محمد بن سلمان السعود کی طرف سے کیا گیا ہے، جن کا کہنا تھا کہ ریاست جلد اسلامی کیلنڈر ترک کرکے عیسوی کیلنڈر پر منتقل ہو جائے گی۔

ہجری، اسلامی یا قمری کیلنڈر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مکہ المکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کے سال سے شروع ہوتا ہے اور چاند کی زمین کے گرد گردش کی بنیاد پر اس کا تعین کیا جاتا ہے۔ ہجری سال کل 354دن پر مشتمل ہوتا ہے۔ جبکہ عیسوی یا شمسی کیلنڈر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے سال سے شروع ہوتا ہے اور سورج کی زمین کے گرد گردش اس کی تواریخ کا تعین کرتی ہے۔ عیسوی سال میں ہجری سال کی نسبت کم و بیش 11دن زیادہ ہوتے ہیں۔ سعودی ریاست کا عیسوی کیلنڈر پر منتقل ہونے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس سے ملازمین اسی تنخواہ میں سال میں 11دن زیادہ کام کریں گے۔ سالانہ 11دن کی تنخواہ بچ جانے سے ریاست کو مالی فائدہ ہو گا اور اس کی معیشت بہتر ہو گی۔

محمد بن سلمان کے اس اعلان کو دیگر سعودی اتھارٹیز کی طرف سے شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ ریاستی سرپرستی میں چلنے والے ایک اسلامی گروپ نے متنبہ کیا ہے کہ اسلامی کیلنڈر چھوڑ کر عیسوی کیلنڈر پر منتقلی ریاست کے عوام کو اسلام سے دور کر دے گی۔ اس کے علاوہ اسلامی تہواروں، بالخصوص ماہ رمضان کے تعین میں بھی مشکلات پیدا ہوں گی اور اسلامی روایات متاثر ہوں گی۔

واضح رہے کہ شہزادہ محمد بن سلمان اپنے جدت پسندانہ خیالات اور فیصلوں کے باعث ملک میں کافی متنازعہ شخصیت قرار دیئے جاتے ہیں۔ اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں انہوں نے سعودی عرب کے مستقبل کے بارے میں اپنے خیالات کچھ یوں بیان کیے ہیں کہ "ہمارا ویژن یہ ہے کہ ہم سعودی عرب کو تحمل پسند اور روادار ملک بنانا چاہتے ہیں جس میں تنوع ہو اور جس کی معیشت کی بنیاد پرائیویٹ سیکٹر پر ہو۔ ہم اسے ایک ایسا ملک بنانا چاہتے ہیں جس کا آئین اسلام ہو اور اس کا طریق اعتدال پسندی ہو۔

یہ ایسی حالت میں ہے کہ محمد بن سلمان نے تقریبا دو سال قبل اسلام کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یمن پر فضائی اور پھر زمینی حملہ کرتے ہوئے مسلمانوں کا قتل عام شروع کیا ہے اور دوسری جانب دعویٰ کرتا ہے کہ ہمارا ملک کا آئین اسلام کے عین مطابق ہونا چاہئے۔

    تازہ ترین خبریں