یمن میں بحری جہاز پر سعودی جٹ طیاروں کا دوسرا حملہ، 7 پاکستانی شہید

خبر کا کوڈ: 1275544 خدمت: پاکستان
سمندری جہاز

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ سعودی جٹ طیاروں کا ہی ہوسکتا ہے کیونکہ رواں ماہ کے آغاز میں بھی یمن کے صوبے طائز میں موکھا ساحل کے سعودی جیٹس کی بمباری کی وجہ سے بحری جہاز پر موجود 6 پاکستانی شہید ہوگئے تھے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے کے مطابق، یمن کے قریب بحری کارگو جہاز پر نامعلوم جٹ طیاروں نے حملہ کر کے تباہ کر دیا ہے جس کے نتیجے میں 7 پاکستانی بھی ڈوب کر جان بحق ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، جہاز ایران میں رجسٹرڈ ہوا تھا جبکہ اس کا عملہ پاکستانی تھا۔

ایکسپریس ٹریبون نے انصار برنی ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ انصار برنی کے حوالے سے بتایا ہے کہ کشتی پر جٹ طیارے نے حملہ کیا ہے تاہم وہ حتمی معلومات کے لیے کوششیں کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ یمن کی سمندری حدود میں سعودی فوجی اتحاد کے علاوہ کسی بھی ملک کے جنگی طیارے موجود نہیں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پاکستان سے ایجنٹ شپنگ کمپنی کے ذریعے 8 پاکستانی باشندوں کو بھی نوکری ملی تھی اور وہ اسی وقت جہاز پر موجود تھے کہ حملہ ہوگیا۔ پاکستانی باشندوں کو مذکورہ جہاز پر نوکری دلوانے والی ایجنٹ شپنگ کمپنی نے راکٹ حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے کے نتیجے میں مال بردار جہاز ڈوب گیا صرف شپ آفیسر کبیر خادم نامی شخص بچ سکا۔

کمپنی کے مطابق جہاز پر چیف انجینر محمد شعیب، الیکٹریشن ابراہیم کپتان انیس الرحمان سمیت دیگر پاکستانی سوار تھے۔

ایجنٹ شپنگ کمپنی نے بتایا کہ جہاز پر موجود افراد میں سے 7 پاکستانیوں کے جان بحق ہونے کی اطلاع ہے، یہ اطلاع کل شام کو ملی جس کے بعد عملے کے اہل خانہ کو آگاہ کردیا گیا ہے تاہم جہاز کے کپتان سمیت دیگر افراد کے بارے میں معلومات حاصل کی جارہی ہے۔

معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ جہاز پر 82 افراد موجود تھے، انصار برنی بھی یمن اور پاکستانی سفارت خانے سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

حملے کی ذمہ داری اب تک کسی کی جانب سے قبول نہیں کی گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ سعودی جٹ طیاروں کا ہی ہوسکتا ہے کیونکہ رواں ماہ کے آغاز میں بھی یمن کے صوبے تعز میں موکھا ساحل کے سعودی جیٹس کی بمباری کی وجہ سے بحری جہاز پر موجود 6 پاکستانی ہلاک ہوگئے تھے جبکہ بدقسمت جہاز کے عملے میں شامل 6 دیگر افراد سے متعلق کچھ پتہ نہیں چل سکا تھا۔

تاہم پاک نیوی کے افسر کے بیان میں اس دعوے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ حاصل ہونے والی معلومات کی تصدیق نہیں کی جاسکی جبکہ حملے کے مقام اور تاریخ پر جہاز کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی۔

سماجی کارکن انصار برنی کے مطابق انہوں نے سعودی عرب، ترکی، روس اور ایران سے جہاز کی تلاش اور گمشدہ عملے کو ڈھونڈنے کے لیے مدد طلب کی ہے۔

ان کا بتانا تھا کہ انہوں نے وزیراعظم نواز شریف، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل محمد ذکاء اللہ کو بھی اس حوالے سے خطوط رسال کیے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری