نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی وزیراعظم سے پہلی ملاقات/ کیا عوام کی دہشتگردی کے حوالے سے امنگیں پوری ہوسکتی ہیں؟

خبر کا کوڈ: 1275676 خدمت: پاکستان
نوید مختار اور نواز شریف

پاکستانی عوام کو امیدیں ہیں کہ نئے فوجی اور سیکیورٹی حکام بھی سابقہ حکام کی مانند دہشتگردی کے خاتمے کے لئے سخت اقدامات اٹھاکر مملکت خداد کو اس ناسور سے پاک کرنے کی بھرپور کوششیں کریں گے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے ڈان نیوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان کے اہم ترین خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے نئے سربراہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم نواز شریف سے پہلی ملاقات کی۔

وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں ملکی سلامتی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ کے دوران پاک فوج میں اہم تبادلوں کے تحت سابق کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کو ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) تعینات کیا گیا تھا اور انہوں نے رواں ہفتے ہی اپنے عہدے کا چارج سنبھالا ہے۔

سابقہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹننٹ جنرل رضوان اختر کے صدر نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی مقرر کیے جانے پر یہ عہدہ خالی ہوا تھا جس پر لیفٹننٹ جنرل نوید مختار کی تعیناتی ہوئی۔

ڈان نیوز کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے نئے ڈی جی آئی ایس آئی کو پالیسی گائیڈ لائنز دیں جبکہ حکومت کی نئی پالیسی سے آگاہ کیا، ساتھ ہی ساتھ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں آئی ایس آئی کے کردار کو سراہا۔

اس کے علاوہ ملکی سلامتی، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور بیرونی عوامل کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی گئی۔

یاد رہے کہ 29 نومبر کو جنرل راحیل شریف چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے سے سبکدوش ہوئے تھے جبکہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاک فوج کی قیادت سنبھالی تھی، اس کے بعد فوج میں اعلیٰ سطح پر تبادلے اور تقرریاں کی گئی تھیں۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستان کی طاقتور ترین خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی میں نئے سربراہ کی تقرری سے اپنی ٹیم بنانا شروع کی۔

آئی ایس آئی کا سربراہ بننے سے قبل لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار نے بطور کور کمانڈر کراچی ملک کے سب سے بڑے اور ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے شہر کراچی میں ہونے والے آپریشن میں اہم ترین کردار ادا کیا۔

کراچی میں دہشت گردوں اور جرائم پیشہ عناصر کے خلاف 2013 میں آپریشن شروع کیا گیا تھا، مگر اس آپریشن میں تیزی 2015 میں آئی۔

بطور کور کمانڈر کراچی جنرل نوید مختار نے آپریشن کو 'غیر سیاسی' اور 'بلا امتیاز' قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دہشت گرد، ان کے معاونین اور سہولت کار اس آپریشن کا ٹارگٹ ہیں اور ان اہداف کو حاصل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی۔

جنرل نوید مختار کے دور میں نہ صرف شہر میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی بلکہ ملک کے سب سے بڑے شہر میں انٹیلی جنس معلومات حاصل کرنے میں بھی بہتری دیکھی گئی، رینجرز اور پولیس کے مطابق کراچی آپریشن کے باعث شہر میں جرائم کی شرح میں 70 فیصد تک کمی آئی جب کہ دہشت گردی کے واقعات 60 اور ڈکیتی کی وارداتوں میں 65 فیصد کم ہوئی۔

آپریشن کے دوران کراچی سے بھارتی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ اینالاسز ونگ (را) کے لیے مبینہ طور پر کام کرنے والے ملزمان بھی گرفتار ہوئے تھے، جب کہ رواں برس بلوچستان سے بھی ایک "را" ایجنٹ گرفتار ہوا تھا، اس کے علاوہ اسلام آباد اور لاہور سے بھی بھارتی ایجنٹ گرفتار کیے گئے تھے۔

پاکستانی عوام کو امیدیں ہیں کہ نئے فوجی اور سیکیورٹی حکام بھی سابقہ حکام کی مانند دہشتگردی کے خاتمے کے لئے سخت اقدامات اٹھاکر مملکت خداد کو اس ناسور سے پاک کریں گے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری