سید حسن نصر اللہ کا یونیورسٹی طلباء سے خطاب:

حلب کی آزادی کےساتھ ہی شامی حکومت کو گرانے کےلئے مغربی پراجیکٹ کا خاتمہ ہوگیا

خبر کا کوڈ: 1276473 خدمت: اسلامی بیداری
سید حسن نصرالله لبنان

حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے حلب کی آزادی کو شامی حکومت کو گرانے کے لئے مغربی و صہیونی پروجیکٹ کا خاتمہ قرار دیا تاہم تاکید کی کہ شام کے دیگر علاقوں میں تخریب کاری کا یہ منصوبہ فی الحال جاری رہیگا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حجۃ الاسلام سید حسن نصر اللہ نے جمعہ کے روز حلب اور خطے کی تازہ ترین صورتحال پر ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ بیروت میں یونیورسٹی کے طلباء سے خطاب کے آغاز  میں سید حسن نصر اللہ نے  مسلم امہ اور مسیحی دنیا کو ولادت با سعادت حضرت محمد (ص) اور امام جعفر صادق علیہ السلام سمیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ولادت کے ایام کی خصوصی مبارک باد ی۔سید حسن نصر اللہ نے غزہ، فلسطین، لبنان، شام اور عراق سمیت دیگر ممالک میں دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما مجاہدین اور ان ممالک کے عوام کو بھی مزاحمت اور استقامت پر خراج تحسین پیش کیا۔

حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ کا کہنا تھا کہ اسلام اورا س کے انبیاء علیہم السلام سمیت مقدسات کی توہین پچھلے سالوں میں جس قدر کی گئی اس سے پہلے تاریخ میں کبھی نہیں کی گئی ،ان کاکہنا تھا کہ پہلے کارٹون بنائے جاتے رہے، قرآن مجید کو شیطانی آیات کے القاب دئیے گئے اور پھر تکفیری گروہوں اور داعش کی صورت میں اسلام کو پیش کیا گیا ، یہ سب اسلام اور اسلام کے مقدسات اور تعلیمات انبیاء علیہم السلام کی توہین کی گئی ہے ۔ان گروہوں نے اسلام کے نام پر لوگوں کا قتل عام کیا، عزتیں پامال کیں ۔انہوں نے کہاکہ یہاں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم ان تکفیری گروہوں کے بارے میں اعلان کریں اور مذمت کریں کہ اسلام کے نام پر قتل و غارت گری کرنے والوں کا اسلام، اہل بیت علیہم السلام اور صحابہ کرام سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ تکفیری دہشت گرداسلام کا نام لے کر عید میلاد النبی کے اجتماعات کو خود کش حملوں کا نشانہ بناتے رہے اور اپنی شدت پسندانہ سوچ کو نافذ کرنا چاہتے ہیں جبکہ القاعدہ نے یہاں تک کہا ہے کہ جو لوگ انتخابات میں حصہ لیتے ہیں وہ کافر ہیں اور ان کے خلاف لڑنا چاہئیے۔ہم نے ان تکفیریوں کی شدت پسندی کا مظاہرہ اس ویڈیو میں کیا ہے کہ جس میں ایک باپ اپنی بچی کو خود کش جیکٹ پہنا کر دمشق میں بم دھماکے کے لئے بھیج رہا ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے یہ پہلے بھی نائیجریا میں بو کوحرام کے ہاتھوں اس طرح کے کام انجام دئیے گئے ہیں اور اب داعش اور القاعدہ اس طرح کے طریقوں کو استعمال کر رہے ہیں۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ تکفیریوں کے ہاتھوں ہونے والا دوسرا سفاک واقعہ ترک فوجیوں کو زندہ جلائے جانے والی ویڈیو میں دیکھا ہے،جبکہ جلانے والا یہ کہتا ہے کہ یہ سب اسلام کے لئے ہے۔سید حسن نصر اللہ نے ان تمام باتوں کے نچوڑ میں کہا کہ آج ہر کسی کو عرب اور مغرب کی طرف سے میڈیا پر جاری نفسیاتی جنگ سے آگاہ ہونا چاہئیے کہ جس میں مغرب اور عرب مل کر اسلام کے ساتھ دہشت گردی کو منسوب کرنے پر تلے ہوئے ہیں، یہ سب صرف مسلمانوں کے خلاف کیا جا رہاہے کہ جبکہ امریکی قابض عیسائی افواج یا اسرائیلی یہودی افواج کے بارے میں یہ نظریات سامنے نہیں آتے۔

حزب اللہ کے سربراہ نے تکفیری گروہوں کی مدد کرنے والوں میں سب سے پہلے اردن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اردن ہی تھا کہ جو ہمیشہ سے ان تکفیری گروہوں کی ہر حوالے سے مدد کر رہا تھا اور پھر اب خود اردن کی پولیس بھی ان دہشت گردوں کے حملوں کی زد پر ہے۔اسی طرح ترکی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا  کہ ترکی کا ان تکفیری گروہوں کو مدد فراہم کرنا کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے بلکہ خود بائیڈن نے بھی اس بات کو اعتراف کیا ہے کہ ترکی شام اور عراق میں انہی اسلام کا چہرہ مسخ کرنے والے دہشت گردوں کی مدد کرتا رہاہے جس کو سیاست کہا گیا ہے۔سید حسن نصر اللہ کاکہنا تھا کہ طیب اردغان ترک عوام تک ان حقائق کو بتانا نہیں چاہتے جو وہ سیاسی کھیل کے طور پر داعش اور تکفیری گروہوں کے ساتھ انجام دیتے رہے ہیں جیسا کہ تکفیری گروہوں کے قبضے میں موجود تیل کی خرید اور ان کے لئے سرحدوں کا کھولنا وغیرہ۔

سید حسن نصر اللہ نے حلب میں ہونے والی لڑائی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حلب میں ان چند ماہ میں جو کچھ ہوا وہ برسوں کے مشاہدہ کی لڑائی تھی۔ان کاکہنا تھا کہ حلب میں موجود دسیوں ہزار تکفیری دہشت گردوں میں سب شامی نہیں تھے بلکہ ترک اور ازبک تھے جبکہ ان کے درمیان سیکڑوں خود کش بمبار بھی موجود تھے۔ان سب کا مقصد حلب پر قبضہ جمانا تھا ، اسے حلب کی عظیم جنگ کہا گیا ،لیکن اب یہ ختم ہو گیا ہے مگر ہمیں مجاہدین اور مزاحمت کے سپوتوں کا وہ مشکل وقت ہمیشہ یاد رکھنا چاہئیے جو انہوں نے حلب کی اس بڑی جنگ میں گزارا ہے۔انہوں نے کہاکہ حلب میں روزانہ جنگ تھی حتیٰ شہر کے اندر اور شہر کے باہر بھی۔

سید حسن نصر اللہ نے عرب ممالک کی جانب سے داعش اور دیگر تکفیری گروہوں کی جاری رکھی جانے والی مالی و مسلح مدد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ چھ برس میں عرب ریاستوں نے ان داعش اور تکفیری گروہوں کی شام میں اربوں ڈالرز کی مدد کی ہے

جبکہ اگر فلسطین کی طرف دیکھیں تو انہی عرب حکمرانوں نے ساٹھ برس میں بھی داعش کے مقابلہ میں فلسطینیوں کی کچھ مدد نہیں کی۔ سید حسن نصر اللہ نے شام کے بارے میں کہا ہے کہ شام کے پاس عوام ، فوج اور قیادت ہے جو داعش اور القاعدہ سمیت تمام تکفیری دہشت گرد گروہوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا سکتے ہیں۔ شام کے بارے میں جاری منفی پراپیگنڈے کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ سنہ2006ء میں لبنان اورا سرائیل جنگ ، اسی طرح غزہ اور یمن کی تصاویر کو نشر کیاجارہاہے اور ان سب تصاویر کو شام کی طرف نسبت دی جا رہی ہے۔

حزب اللہ کے سربراہ کاکہنا تھا کہ یمن میں ہزاروں بچے عالمی برادری کی آنکھ کے سامنے مارے گئے ہیں جبکہ وہاں ا سپتالوں کو بمباری کی گئی ہے یہ سب کچھ منظر عام پر موجود ہے لیکن یہ کوئی فلم نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ مغربی اور عرب ذرائع ابلاغ حلب میں تین لاکھ افراد محصورین کی بات کر رہے ہیں تو کہاں ہیں یہ تین لاکھ لوگ ؟حلب کوئی ایک چہل قدمی کرنے کا پارک یا تفریحی مقام تو نہ تھا ، بلکہ یہ ایک جنگی علاقہ تھا۔

سید حسن نصر اللہ نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا القاعدہ اور داعش نے شام اور یمن میں جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا کیا وہاں سے لڑنے والوں کو باہر جانے کی اجازت دی تھی؟اسی طرح شام حکومت نے بھی ان دہشت گردوں کا مکمل صفایا کرنے کا عزم کیا ہے او ر یہ صرف حلب ہی نہیں بلکہ حمص اور دیگر مقامات پر بھی کیاجائے گا۔انہوں نے کہاکہ اب دہشت گرد ہتھیار ڈال رہے ہیں اور شہری اپنے گھروں میں مقیم ہیں جبکہ کچھ ادلیب کی طرف ہجرت کرگئے ہیں، جبکہ فوعا کفریہ میں نکلتے وقت ان دہشت گردوں نے شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا ہے۔

سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ ہم پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ ہم خطے کی ڈیمو گرافی کو تبدیل کر رہے ہیں ، آپ جائیں وہاں پر اور دیکھیں کون اس علاقے کی ڈیمو گرافی تبدیل کر رہاہے؟حلب کا معرکہ ختم نہیں ہو ا ہے بلکہ ہمارے دشمن کو بہت بڑی شکست ہوئی ہے،آپ تصور کریں اگر حلب دشمن کے ہاتھ چلا جاتا یا اسی طرح بیروت سنہ2006ء میں ہم اسرائیل کے مقابلے میں کامیاب نہ ہوئے ہوتے ، تو کیا صورتحال ہوتی؟

سید حسن نصر اللہ کاکہنا تھا کہ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ شامی حکومت کو گرانے کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے کیونکہ حکومت کے پاس اب دمشق، حلب اور عوام ہیں۔حلب کی کامیابی ہمارے دشمن کو پیچھے دھکیل گئی ہے او ر اب دشمن سیاسی راستوں سے کوشش کرے گا۔سید حسن نصر اللہ نے شامی عوام اور افواج کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر شام کے عوام اور افواج ثابت قدم نہ رہتے تو یہ فتح ان کے مقدر میں نہ آتی۔ حزب اللہ کے سربراہ نے لبنان کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ لبنان کا مستقبل اب ہم طے کریں گے نہ کہ خطے میں جنگیں مستقبل کا فیصلہ کریں گی۔

    تازہ ترین خبریں