بھارتی فلموں پر پابندی سے پاکستانی سنیماگھروں میں بحران/ ایران اور پاکستان نے کیا کیا؟

خبر کا کوڈ: 1276889 خدمت: ایران
سنیما گھر

گزشتہ چند سالوں میں نہایت تیزی سے پاکستان بھر میں جدید سنیما گھروں نے فلم بینوں کو ایک اچھا ماحول فراہم کرکے سنیما آنے پر مجبور کردیا لیکن پاکستانی فلمیں ان کی ضرورت پوری کرنے میں ناکام رہیں جبکہ پاک ایران کے عوام کی خواہش کے باوجود ایرانی مہذب فلموں کے پاکستان میں داخلے کا بہترین موقع گنوا دیا گیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، جہاں پاکستانی سینما گھروں کے مالکان نے اپنے بزنس کو بچانے کے لئے بھارتی فلموں سے پابندی ہٹانے کا اعلان کردیا وہیں ایرانی سینما نے بھی پاکستان میں جگہ بنانے کے لئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے عوام کی خواہش کے باوجود ایرانی مہذب فلموں کے پاکستان میں داخلے کا بہترین موقع گنوا دیا گیا۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ چند سالوں میں نہایت تیزی سے پاکستان بھر میں جدید سنیما گھر قائم ہوئے اور فلم بینوں کو ایک اچھا ماحول فراہم کرکے انہیں سنیما آنے پر مجبور کردیا۔

کراچی میں گزشتہ چار سال کے دوران 50 سے زائد نئے جدید سنیما گھر بنائے گئے جب کہ چند اور سنیما گھر ابھی زیرتعمیر ہیں لیکن بھارتی ہندو پسند تنظیموں کی جانب سے پاکستانی فنکاروں کیخلاف دھمکیوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہوگئے اور یوں پاکستان میں بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی عائد کردی گئی، اور نتیجتا سنیما انڈسٹری شدید بحران کا شکار ہوگئی۔

پاکستانی فلمیں ان جدید سنیما گھروں کی ضرورت پوری کرنے میں ناکام رہیں اور جو پاکستانی فلمیں ریلیز کی گئیں وہ کامیاب نہ ہو سکیں، سنیما انڈسٹری کا بزنس اس حد تک کم ہوگیا کہ انھیں اپنے اخراجات پورے کرنے مشکل ہوگئے، کراچی میں زیر تعمیر 17 نئے جدید سنیما گھروں کی تعمیر کا کام رک گیا جب کہ ملک کے مختلف شہروں میں سنے اسٹار، سپر سنیما واگ ٹاور، سنے پلیکس سنیما کیساتھ لاہور کے امپوریم مال کی 9 اسکرینوں میں سے 5 بند کردی گئیں، گجرات کا سنے پلیکس سیالکوٹ کا پرنس سنیما بھی بند کردیا گیا، جبکہ دیگر شہروں میں 20 سے زائد سنیما گھر اس بحران کا شکار ہوگئے۔

سنیما انڈسٹری کے اس بحران سے سب سے زیادہ نقصان ان ملازمین کو ہوا جنھیں ملازمت سے فارغ کردیا گیا اور وہ بے روزگار ہوگئے، ان کی تعداد 200 سے زائد ہے۔ دوسری طرف سنیما مالکان نے اپنے بزنس کو بچانے کے لیے بھارتی فلموں کی نمائش کا اعلان کردیا  ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس چھوٹے نقصان کے علاوہ معاشرتی طور پر بہت بڑا نقصان ہوا ہے اور وہ یہ کہ پاکستانی معاشرے میں ایران کی مہذب، اصول پسندانہ، تاریخی، حقائق پر مبنی اور اسلامی حدود و نظریات کے عین مطابق فلموں کے داخلے کا بہترین موقع گنوا دیا گیا۔

نہ ہی حکومت پاکستان نے ایرانی فلموں کی اپنے سنیماگھروں میں نمائش کی خاطر کوئی قدم اٹھایا اور نہ ہی ایرانی حکومت کی جانب سے کوئی حرکت دیکھنے میں آئی۔   

    تازہ ترین خبریں