سندھ طاس معاہدہ؛ ورلڈ بینک ذمہ داریاں پوری کرے

خبر کا کوڈ: 1277591 خدمت: پاکستان
بانک جهانی

پاکستان نے عالمی بینک پر زور دیا ہے کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے ڈان نیوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار کی جانب سے ورلڈ بینک کے صدر جم یانگ کم کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں یہ مطالبہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ 12 دسمبر کو ورلڈ بینک کی جانب سے پاکستان کو ایک خط کے ذریعے آگاہ کیا گیا تھا کہ وہ ثالثی عدالت کا پینل تشکیل دینے کا سلسلہ روک رہا ہے جس کے جواب میں اب اسحٰق ڈار نے خط لکھا ہے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیر خزانہ نے اس بات پر زور دیا کہ ورلڈ بینک کے اس فیصلے سے 1960 میں طے پانے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو حاصل حقوق اور مفادات کو نقصان پہنچے گا۔

ورلڈ بینک کے صدر کو خط تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت اور اتفاق رائے کے بعد بھیجا گیا ہے۔

خط کے ذریعے واضح طور پر یہ پیغام پہنچایا گیا ہے کہ ثالثی عدالت کے چیئرمین کی تقرری میں خلاف دستور تاخیر کی جارہی ہے۔

خط میں ورلڈ بینک پرزور دیا گیا کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے۔

وزیر خزانہ نے خط میں موقف اپنایا کہ ورلڈ بینک گروپ کے صدر کی جانب سے ثالثی عدالت کے چیئرمین کی تقرری موخر کرنے کے فیصلے سے پاکستان اپنے خدشات دور کرنے کے لیے مجاز فورم تک رسائی سے محروم ہوجائے گا۔

واضح رہے کہ رواں ماہ 12 دسمبر کو اپنے خط میں ورلڈ بینک نے سندھ طاس معاہدے پر غیر جانبدار ماہر کی تقرری روکتے ہوئے پاکستان اور ہندوستان کو آبی تنازع جنوری تک حل کرنے کی مہلت دی تھی۔ ورلڈ بینک کے مطابق اگر پاکستان اور بھارت نے آبی تنازع سندھ طاس معاہدے سے ہٹ کر حل کیا تو یہ معاہدہ غیر فعال ہوجائے گا۔

یاد رہے کہ ہندوستان کی جانب سے غیر جانبدار ماہر کا تقرر کرنے کی درخواست کی گئی تھی جبکہ پاکستان نے بھی چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کے تقرر کی درخواست کی تھی۔

ہندوستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ کے حوالے سے مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پاکستان نے رواں برس جولائی میں عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پانی و بجلی کے سیکریٹری محمد یونس ڈھاگا کی سربراہی میں 8 رکنی وفد پانی کے تنازع پر مذاکرات کے لیے ہندوستان گیا تھا، تاہم کوئی پیش رفت نہ ہوسکی تھی، پاکستان نے اسلام آباد سے ملحقہ علاقوں میں ہندوستان کے اہم ہائیڈرو پاور پروجیکٹس کی تعمیر پر سخت تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

خیال رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سندھ طاس معاہدہ 1960 میں ہوا تھا، جس کے تحت بھارت کو تین مشرقی دریاؤں بیاس، ستلج اور راوی جب کہ پاکستان کو تین مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کا کنٹرول دیا گیا تھا۔

سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان پانی اور دریاؤں کے استعمال اور مسائل کے حل کے لیے مستقل انڈس کمیشن بھی بنایا گیا، جس کے لیے دونوں ممالک کے کمشنرز بھی مقرر کیے گئے۔

وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی برائے امور خارجہ طارق فاطمی نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان کو سندھ طاس معاہدے کی دفعات میں کوئی بھی ترامیم یا تبدیلیاں قبول نہیں۔

پاکستان عالمی ثالثی عدالت کے چیئرمین کا تقرر اس لیے چاہتا ہے کیوں کہ مجوزہ عدالت کو متنازع معاملے پر تکنیکی اور قانونی پہلوؤں پر غور کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری