پاک ایران گیس پائپ لائن پھر تاخیر کا شکار، وزیر تجارت کا دورہ ایران ملتوی

خبر کا کوڈ: 1279796 خدمت: ایران
خط انتقال نفت و گاز

روزنامہ ایکسپریس نے جہاں ایران کی جانب سے گیس قیمت میں کمی کی پاکستانی تجویز کو مسترد کرنے کی خبر دی ہے وہیں پاکستانی وزارت تجارت کی جانب سے بینکنگ چینل کے قیام اور ایف ٹی اے کے لیے ایران کی طرف سے بھیجے گئے ڈرافٹ پر کسی بھی قسم کا کوئی اقدام نہ اٹھانے سے متعلق بھی آگاہ کیا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے ایکسپریس نیوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے ایک مرتبہ پھر گیس پائپ لائن معاہدے کی طے شدہ گیس قیمت میں کمی کی پاکستانی تجویز مسترد کر دی اور آزاد تجارتی معاہدے کے لیے بینکاری چینل کے قیام، ڈیوٹیز میں ریلیف سمیت دیگر عملی اقدامات کا مطالبہ بھی کر دیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان اور ایران کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے اور گیس پائپ لائن پر مذاکرات اچانک ملتوی کر دیے گئے جس کی تصدیق وزارت تجارت اور وزارت پٹرولیم نے کر دی ہے۔

روزنامے نے وزارت پٹرولیم کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستان کی طرف سے آئی پی گیس پائپ لائن کے معاہدے کو عملی جامہ پہنانے کے معاہدے کی ڈیڈ لائن 2 سال قبل ختم ہوگئی تھی، اس وقت پاکستان نے موقف اختیار کیا تھا کہ ایران پر عالمی پابندیاں ہیں اس لیے گیس پائپ لائن پر عملدرآمد ممکن نہیں۔

روزنامہ ایکسپریس نے لکھا ہے کہ پاکستان نے ایران کی قانونی چارہ جوئی سے بچنے کے لیے معاہدے میں شامل گیس کی قیمتوں میں کمی کی درخواست کی تھی جسے ایران نے ایک مرتبہ پھر مسترد کر دیا ہے جس کی وجہ سے وزارت پٹرولیم کے منگل کو ایران جانے والا وفد کا دورہ ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اسی طرح وزات تجارت کے وفد کو بھی وفاقی وزیر خرم دستگیر کی قیادت میں منگل کو ایران روانہ ہونا تھا یہ دورہ بھی اچانک ملتوی کر دیا گیا ہے۔

’’ایکسپریس‘‘ کے رابطے پر وزارت تجارت کے حکام نے تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایف ٹی اے پر مذاکرات کو ری شیڈول کیا جائے گا، اب یہ مذاکرات آئندہ ماہ کے آخر میں ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق وزارت تجارت نے بینکنگ چینل کے قیام اور ایف ٹی اے کے لیے ایران کی طرف سے بھیجے گئے ڈرافٹ پر کوئی کام نہیں کیا جو مذاکرات معطل ہونے کی وجہ بنی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری