پاکستان اور افغانستان میں ہونے والی دہشت گردی میں سعودی جنگجوؤں کے ملوث ہونے کا اعتراف

خبر کا کوڈ: 1279837 خدمت: دنیا
منصور الترکی

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ افغانستان اور پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں 31 سعودی باشندے ملوث ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، سعودی عرب کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ 2 ہزار سے زائد سعودی شہری مختلف شدت پسند تنظیموں کے ساتھ مل کر بیرون ملک لڑائی میں مصروف ہیں۔

تفصیلات کے مطابق، سعودی وزارت داخلہ نے بتایا کہ ان میں سے 70 فیصد شہری شام میں موجود ہیں۔

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان جنرل منصور الترکی نے روزنامہ اخبار الحیات کو بتایا کہ تنازعات کا شکار علاقوں میں تقریباً 2 ہزار 93 سعودی شہری موجود ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان میں سے 1540 سعودی شہری شام میں موجود ہیں جہاں 2014 کے وسط میں شدت پسند تنظیم داعش نے مختلف علاقوں کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔

وزارت داخلہ کے مطابق یمن میں 147 سعودی شہریوں کے برسرپیکار ہونے کی اطلاعات ہیں جو جزیرہ نما عرب میں القاعدہ نامی تنظیم کا گڑھ ہے۔

مذکورہ گروپ کو امریکا القاعدہ کی سب سے خطرناک شاخ تصور کرتا ہے۔

جنرل منصور الترکی نے بتایا کہ تقریباً 31 سعودی شہری افغانستان یا پاکستان میں موجود ہیں جبکہ عراق میں صرف 5 سعودی شہریوں کی شدت پسند تنظیموں میں شمولیت کی اطلاع ہے۔

منصور الترکی نے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق الزامات پر بیرون ملک 73 سعودی شہریوں کو گرفتار بھی کیا جاچکا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری