تحریک جعفریہ کا کوئی عسکری ونگ تھا، نہ ہے، علامہ ساجد نقوی

خبر کا کوڈ: 1280003 خدمت: پاکستان
ساجد نقوی

شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے معروف صحافی سلیم صافی کے کالم پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تحریک جعفریہ کا فرقہ واریت سے کبھی تعلق رہا اور نہ ہی کوئی عسکری ونگ ہے تو اسے ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے واضح کیا ہے کہ تحریک جعفریہ کا فرقہ واریت سے کبھی تعلق رہا اور نہ ہی کوئی عسکری ونگ ہے تو اسے ختم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

شیعت نیوز کے مطابق، اسلام آباد سے جاری بیان میں انہوں نے صحافی سلیم صافی کے مورخہ 24 دسمبر کو گڈ کالعدم، بیڈ کالعدم کے عنوان سے کالم، 25 دسمبر 2016ء کو جرگہ پروگرام میں موقف کو من گھڑت اور جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ موصوف نے اپنی تحریر و تقریر میں دو بڑے جھوٹ بولے ہیں۔

ایک یہ کہ تحریک جعفریہ فرقہ واریت پھیلانے میں شریک رہی اور دوسرا یہ کہ تحریک جعفریہ نے بھی یہ دعویٰ کیا کہ انھوں نے اپنے عسکری ونگ کے ساتھ تعلق ختم کر دیا ہے۔

شیعت نیوز نے علامہ ساجد نقوی کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ دو کھلے جھوٹ ہیں، تحریک جعفریہ کا فرقہ واریت سے دور کا بھی تعلق نہیں رہا، تحریک جعفریہ کا کبھی کوئی عسکری ونگ نہیں تھا، جس سے تعلق ختم کرنے کا سوال پیدا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ موصوف صحافی تکفیریوں کے کھلے حامی اور ہمیں تکفیریوں کے برابر لانے کی ظالمانہ پالیسی کو بڑھاوا دیتے رہے ہیں۔ ہم موصوف کی افتراء پردازیوں کے پس منظر اور پیش منظر کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس حوالہ سے کسی خیرخواہ کو تبصرہ اور تجزیہ وغیرہ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

    تازہ ترین خبریں