سعودی عرب عراق کے مسائل میں دخل اندازی سے باز رہے، العبادی

خبر کا کوڈ: 1280548 خدمت: دنیا
العبادی

عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی نے آل سعود کے وزیرخارجہ کے حالیہ بیانات کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اپنے مسائل خود حل کرے اور عراق میں دخل اندازی نہ کرے۔

تسنیم خبر رساں ادارے نے الفرات نیوز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ عراقی وزیر اعظم نے تاکید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر سے تین مہینوں کے اندر تمام داعشی تکفیری دہشت گردوں کا صفایا کردیا جائے گا۔

العبادی بغداد میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔

العبادی کا کہنا تھا کہ پچھلے دو ماہ کے دوران عراقی مسلح افواج کے جوانوں نے 900 سے زائد داعشی بکتر بند اور گولہ بارود سے بھری گاڑیوں کو تباہ کیا ہے۔

عراقی وزیراعظم نے مزید بتایا: عراقی فوج کی کاروائیاں موصل میں کامیابی سے جاری ہیں اور نہایت ہوشیاری کے ساتھ آپریشن کررہی ہے۔

عراقی وزیر اعظم کا آل سعود کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہنا تھا: سعودی عرب کی جانب سے حشد الشعبی پر لگائے جانے والے تمام الزامات بے بنیاد اور من گھڑت ہیں، سعودی عرب کو عراقی مسائل میں مداخلت کرنے سے باز رہنا چاہئے۔

واضح رہے کہ آل سعود کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے اردن کے وزیر خارجہ کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عراقی عوامی رضاکار فورس حشد الشعبی کو ایرانی حمایت یافتہ قبائلی عسکری تنظیم قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ حشد الشعبی عراق میں ایران کی مدد سے لوگوں کا قتل عام کررہی ہے۔

    تازہ ترین خبریں