افغانستان کا ماسکو اجلاس پر ردعمل؛

افغان طالبان پر پابندیاں ختم کرانا افغانیوں کا کام ہے/ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی سے نمٹ لے

خبر کا کوڈ: 1281598 خدمت: دنیا
صدیق صدیقی

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے روس، چین اور پاکستان کے مابین ہونے والے ماسکو اجلاس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابل حکومت میں افغان طالبان پر پابندیاں ختم کرانے کی طاقت ہے جبکہ پاکستان کو چاہئے کہ خود اپنی سرزمین پر دہشتگردی ختم کرنے کے لئے اقدامات کرے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مابق، افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے ماسکو اجلاس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: افغان طالبان کے اقوام متحدہ کی فہرست سے نام نکالنے کا کام افغانوں کا ہے۔

انہوں نے تاکید کی: پاکستان اپنی سرزمین پر دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے اقدامات کرے جبکہ افغانستان میں اتنی طاقت ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے افغان طالبان پر عائد پابندیوں کو ختم کرائے۔

ترجمان افغان وزارت داخلہ کا پژواک نیوز ایجنسی سے گفتگو کے دوران کہنا تھا: افغان طالبان کیخلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں خود افغان قوم کی توسط سے ختم ہونگے اور یہ کام صرف اس وقت ممکن ہے جب یہ گروہ تشدد اور خونریز کاروائیوں کو ترک کرکے امن عمل میں شامل ہوجائے۔

صدیقی نے ماسکو اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دیگر ممالک کو افغان طالبان پر پابندیوں کے حوالے سے بات چیت کرنے کا حق نہیں ہے۔

ترجمان افغان وزارت داخلہ نے روس، چین اور پاکستان کی افغانستان میں داعش کے حوالے سے تشویش کو بے بنیاد قرار دیا اور کہا: افغان سیکورٹی فورسز نے داعش اور اس کے حامیوں کو شکست دی ہے اور وہ ایک چھوٹے سے علاقے میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔

صدیقی نے کہا: داعش کے حامی پاکستان کے مسلح شہری ہیں جن کا اصل ٹھکانہ وزیرستان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان داعش کے بہانے روس اور چین کو فریب دے کر اپنی خواہش کے مطابق مطالبات منوانا چاہتا ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان میں امن عمل کی کامیابی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں تاہم افغان حکام بھارتی حکومت کی ایماء پر ہرزہ سرائی پہ اتر آیا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری