وزیراعظم پاکستان نے سابقہ حکومت کو بجلی بحران کا ذمہ دار قرار دیا

خبر کا کوڈ: 1281611 خدمت: پاکستان
نواز شریف

وزیراعظم پاکستان محمد نواز شریف نے پیپلز پارٹی کی سابقہ حکومت کو ملک میں بجلی بحران کا ذمہ دار قراردیا ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ مسلم لیگ (ن) حکومت خود بھی کئی سال حکومت کرنے کے باوجود اس بحران پر قابو پانے کامیاب نہ ہوسکی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، وزیراعظم نواز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو سابقہ دورِ حکومت میں نتائج پیش کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کے خلاف دھرنوں اور احتجاج کے اعلان کو مسترد کردیا ہے۔

وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے یہ اعلان پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی جانب سے مسلم لیگ نواز کی حکومت کو 'مشکل وقت' دینے کے اعلان اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے حکومت کے خلاف گرینڈ الائنس میں شمولیت کے فیصلے کے بعد سامنے آیا۔

چشمہ تھری نیوکلیئر پاور پلانٹ یا جوہری توانائی کے منصوبے کی افتتاحی تقریب کے موقع پر بظاہر پُراعتماد نظر آنے والے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ سابقہ حکومتوں سے ان کے دور میں کی جانے والی غفلت پر سوال کیا جانا چاہیے کیونکہ انھوں نے ملک کو اندھیروں میں دھکیل دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ 'پاکستان کو اندھیرے کا شکار کرنے اور قوم کو یومیہ 18 گھنٹوں کی لوڈشیڈنگ دینے پر لازمی تحقیقات ہونی چاہیے'۔

ملک کی صنعتوں کیلئے بجلی کی مستقل فراہمی کو اہم قرار دیتے ہوئے انھوں نے زور دیا کہ ملک میں بجلی بحران کی وجہ سے یہ سب سے زیادہ متاثر ہوئی ہیں۔

خیال رہے کہ ملک کی سابق حکومت کی باگ ڈور پیپلز پارٹی کے پاس تھی اور آصف علی زرداری اس وقت کے صدر تھے تاہم وزیراعظم نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔

انھوں نے کہا کہ ترقیاتی کاموں کے جلد مکمل ہونے، بہتر معیشت اور امن او امان کی صورت حال میں بہتری کے باعث ملک مسائل سے نکل گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جب ہر چیز درست سمت کی جانب جارہی ہے تو تمام سیاسی دھرنے اور تحریکیں بے کار ہیں۔

انھوں نے سیاسی مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 'کسی قسم کی رکاوٹیں نہ ڈالی جائیں اور اپنے مفادات پر قومی مفادات کو ترجیح دی جائے'۔

ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کے اقدامات پیش رفت کے سفر کو متاثر کرنے کیلئے ہیں اور ساتھ ہی سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر پاکستان کے مفاد میں کام کریں۔

انھوں ںے کہا کہ ملک میں لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور ساتھ ہی چشمہ تھری نیوکلیئر پاور پلانٹ کی تکیمل کو لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے ایک سنگ میل قرار دیا۔

وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ 'انشاء اللہ 2018 تک ملک سے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا عہد پورا ہوگا، جس کیلئے میں ذاتی طور پر بجلی کے منصوبوں کی نگرانی کررہا ہوں'۔

یاد رہے کہ چشمہ تھری نیوکلیئر پاور پلانٹ چین کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے اور اس سے نیشنل گرڈ میں 340 میگا واٹ بجلی شامل ہونے کا امکان ہے۔

منصوبے کا افتتاح کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ 'ہم نے ملک میں بجلی کی طے شدہ لوڈشیڈنگ سے نجات کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے، جس پر میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں'۔

منصوبے کے افتتاح سے قبل پلانٹ کے منیجر ریاض خالق انصاری نے وزیراعظم کو بتایا کہ چشمہ وان اور چشمہ ٹو منصوبوں نے کام کا آغاز کردیا ہے اور ان سے 325 میگاواٹ اور 340 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے۔

اس کے علاوہ چشمہ فور نیوکلیئر پاور پلانٹ اپریل 2017 میں مکمل ہوجائے گا جبکہ وسطی پاکستان میں دیگر ریکٹر نامعلوم وقت میں اپنے کام کا آغاز کردیں گے۔

کراچی میں 'کے ٹو' اور 'کے تھری' نیوکلیئر پاور یونٹس کے ذریعے 2200 میگاواٹ بجلی کے ساتھ ملک میں جوہری بجلی گھروں سے مجموعی طور پر 2030 تک 8800 میگاواٹ بجلی پیدا کیے جانے کا امکان ہے۔

دوسری جانب پاکستان الیکٹرک پاور کمپنی کی جانب سے 16-2015 کے لیے جاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بجلی کی پیداوار میں 33.9 فیصد ہائیڈرو پاور کی مدد سے جبکہ دیگر 29.9 فیصد فرنس آئل کی مدد سے پیدا کی جارہی ہے۔

اس کے علاوہ گیس کی مدد سے 28.8 فیصد، جوہری توانائی سے 3.8 فیصد، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی مدد سے 1.4 فیصد، ہوا کی مدد سے 0.8 فیصد، بے گیس اور آر ایل این جی یا (Bagas and RLNG) کی مدد سے 0.5 فیصد، شمسی توانائی سے 0.2 فیصد، دیگر چھوٹے بجلی کے منصوبوں سے 0.2 فیصد اور کوئلے سے 0.1 فیصد بجلی پیدا کی جارہی ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری