پاناما اسکینڈل؛ تحریک انصاف کا اپوزیشن جماعتوں کے گرینڈ الائنس میں شمولیت کا عندیہ

خبر کا کوڈ: 1281615 خدمت: پاکستان
عمران خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے پاناما اسکینڈل پر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے گرینڈ الائنس میں شمولیت کا عندیا دے دیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم نے ڈان نیوز کے حوالے سے بتایا ہے کہ بنی گالہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ 'اگر اپوزیشن جماعتیں اس مسئلے پر کوئی اتحاد قائم کرتی ہیں، تو ہم اس کیلئے تیار ہیں لیکن یہ عام انتخابات کیلئے نہیں ہے'۔

پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی وطن واپسی اور ان کے مستقل میں کردار پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے عمران خان نے مستقبل میں پاناما اسکینڈل پر اپوزیشن کے کسی بھی اتحاد میں شامل ہونے کا اظہار کیا۔

آصف زرداری کی جانب سے قومی اسمبلی کیلئے ضمنی انتخابات میں شرکت اور حکومت کو 'مشکل وقت' دینے کے اعلان پر پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ 'جس طرح کرکٹ میں بیٹنگ کے دوران ہر گیند کھیلنے والی نہیں ہوتی میں بھی اس بال کو چھوڑ رہا ہوں'۔

عمران خان، جن کی جماعت نے 2008 کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جس کے باعث پی پی پی نے مرکز میں اپنی حکومت قائم کرلی تھی، کا کہنا تھا کہ 'میں دیکھنا چاہتا ہوں کی پی پی پی، مسلم لیگ نواز کی مخالفت کرے، 2008 اور 2013 کے درمیان دونوں جماعتوں نے مل کر حکومت کی اور اس وقت ملک میں کوئی اپوزیشن نہیں تھی'۔

انھوں نے کہا کہ 'یہاں تک کے پاناما لیکس معاملے کے سامنے آنے سے قبل بھی دونوں جماعتیں ساتھ تھیں'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 2013 کے عام انتخابات سے اب تک پی پی پی سے کم نسشتیں ہونے کے باوجود پی ٹی آئی نے ملک میں اصل اپوزیشن کا کردار ادا کیا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پی پی پی پنجاب نے درست اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی کوشش کی لیکن دیکھتے ہیں کہ زرداری کی واپسی کے بعد ان کی جماعت مخالفت میں اضافہ کرتی ہے یا اس میں کمی آتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ پی پی پی، وزیراعظم کو پارلیمنٹ میں کیسے جوابدہ بناتی ہے۔

قوم انصاف کیلئے بے قرار ہے

مزید ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ نئے چیف جسٹس ثاقب نثار کو کام کرنے کے مکمل اختیارات دیے جانے چاہیے اور وہ چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس عدالتوں پر عوام کا اعتماد بحال کریں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ 'یہ قوم انصاف کیلئے بے قرار ہے'، انھوں نے سپریم کورٹ کے سابقہ بینچ، جس کی سربراہی جسٹس انور ظہیر جمالی کررہے تھے، پر مایوسی کا اظہار کیا کیونکہ انھوں نے کام کی تقریبا تکیمل کے باوجود پاناما کیس مکمل نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کمیشن بنانے کی مخالفت کی تھی کیونکہ ان کو سپریم کورٹ کے بینچ پر اعتماد تھا، لیکن بینچ نے اس وقت کیس چھوڑ دیا جب اس کو مکمل کرنے میں کچھ ہی دن باقی تھے، تمام دلائل مکمل کیے جاچکے تھے اور دستاویزات جمع کرائی جاچکی تھیں۔

عمران خان نے وزیراعظم نواز شریف پر ہر ریاستی ادارہ چلانے کا الزام لگایا۔

انھوں نے الزام لگایا کہ نواز شریف نے فوجی آمروں سے زیادہ ملک کے اداروں کو نقصان پہنچایا ہے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ ان کی پارٹی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی تجویز کی حمایت کرتی ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیف کی تقرری عدالتوں کے ذریعے ہونی چاہیے۔

انھوں نے زور دیا کہ 'ایسی صورت میں جب دونوں پر کرپشن کے الزامات ہیں، نواز شریف اور سید خورشید شاہ کیسے نیب چیئرمین کی تقرری کرسکتے ہیں'۔

آئندہ انتخابات کیلئے اُمیدواروں کا انتخاب

پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے آئندہ انتخابات کیلئے اُمیدواروں کے انتخاب کا عمل شروع کردیا ہے۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ ماضی کے انتخابات میں وقت کی کمی کی وجہ سے ان کی جماعت ملک کے بہت سے حلقوں کیلئے مناسب اُمیداوروں کا انتخاب نہیں کرسکی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ انھوں ممکنہ اُمیداوروں کی پروفائل بنانے کے کام کا آغاز کردیا ہے اور وہ ہر ٹکٹ کے حوالے سے خود فیصلہ کریں گے۔

انھوں نے زور دیا کہ وہ اس مرتبہ انھیں دھاندلی نہیں کرنے دیں گے'، انھوں کہا کہ 2013 کے عام انتخابات اور دھاندلی کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن کے نتائج سے انھیں بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہے۔

انکوئری کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آنے کے باوجود 2013 کے عام انتخابات کو دھاندلی کیوں قرار دیتے ہیں کہ جواب میں عمران خان نے کہا کہ انھوں نے رپورٹ تسلیم کرلی ہے لیکن افسوس کا اظہار کیا کہ کمیشن کی جانب سے انتخابات کے نظام میں موجود کوتاہیوں کو ختم کرنے کے حوالے سے اقدامات نہیں کیے گئے۔

    تازہ ترین خبریں