نیوکلیئر سپلائرز گروپ کی رکنیت کا نیا فارمولا مسترد

خبر کا کوڈ: 1282399 خدمت: پاکستان
این ایس جی

پاکستان نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کے سابق چیئرمین رافیل ماریانو گروسی کی جانب سے گروپ میں نئے اراکین کی شمولیت کیلئے بنائے گئے حالیہ فارمولے کو 'امتیازی' اور عالمی عدم پھیلاؤ کے مقاصد کے حصول میں غیر مفید قرار دے دیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، پاکستان نے نیوکلیئر سپلائرز گروپ (این ایس جی) کے سابق چیئرمین رافیل ماریانو گروسی کی جانب سے گروپ میں نئے اراکین کی شمولیت کیلئے بنائے گئے حالیہ فارمولے کو 'امتیازی' اور عالمی عدم پھیلاؤ کے مقاصد کے حصول میں غیر مفید قرار دے دیا۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا کہ 'یہ واضح امتیازی سلوک ہے اور اس سے این ایس جی کے حوالے سے عدم پھیلاؤ کے مقاصد میں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا'۔

خیال رہے کہ ارجنٹینا سے تعلق رکھنے والے سفیر رافیل ماریانو گروسی کو این ایس جی رکنیت کے حوالے سے مذاکرات کیلئے سہولت کار کے طور پر مقرر کیا گیا تھا تاکہ 48 ممالک کے جوہری تعاون گروہ کی رکنیت کیلئے پاکستان اور انڈیا کی جانب سے دی جانے والی درخواست پر کسی نتیجے پر پہنچا جاسکے۔

اس حوالے سے گذشتہ ماہ ویانا میں منعقد ہونے والے اجلاس میں ڈیڈ لاک پیدا ہوگیا تھا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی میڈیا کی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ این ایس جی کے سابق چیئرمین رافیل ماریانو گروسی نے دو صفحوں پر مشتمل دستاویز تیار کی ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ غیر این پی ٹی ممالک جیسے کہ ہندوستان اور پاکستان کس طرح گروپ کی رکنیت حاصل کرسکتے ہیں۔

رافیل ماریانو این ایس جی کے موجودہ چیئرمین سونگ یونگ وان کی جگہ قائم مقام چیئرمین مقرر تھے اور ان کی جانب سے تیار کی جانے والی دستاویزات نیم سرکاری اہمیت رکھتی ہیں۔

ہندوستان کی جانب سے پاکستان کی رکنیت روکنے کے خلاف رافیل ماریانو کی ڈرافٹ کردہ دستاویز میں پیشکش کی گئی ہے کہ غیر این پی ٹی رکن ملک کو دوسرے غیر رکن ملک کی شمولیت کے امکانات کو روکنے سے گریز کرنا چاہیے۔

جس کے بعد گذشتہ ہفتے این ایس جی اراکین کا ایک اجلاس ویانا میں منعقد ہوا جس میں مذکورہ دستاویز پر بات چیت کی گئی۔

دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا نے این ایس جی کے اراکین کو ان کے کاندھوں پر غیر این پی ٹی ریاستوں کے حوالے سے موجود ذمہ داریاں یاد کرائیں۔

انھوں نے کہا کہ 'یہ این ایس جی کی ساکھ اور عدم پھیلاؤ کے مستقبل کیلئے ضروری ہے کہ این ایس جی ایک قانون کے مطابق ادارہ ہو نہ کہ اس میں دھڑے بندیاں ہوں جو اپنے سیاسی اور معاشی مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے ترتیب دی جائیں'۔

پاکستان کی 2016 کے دوران رہنے والی خارجہ پالیسی اور اس کی وجہ سے ملک کو دنیا میں تنہا ہونے کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں نفیس زکریا نے اسے 'مضحکہ خیز' قرار دیا۔

انھوں نے سوال کیا کہ 'آپ کو اس تنہائی کی وضاحت کون کرے گا؟ اگر تنہائی کا مطلب یہ ہے کہ ایک ملک کے آپ سے اچھے تعلقات ہوں اور آپ کے خلاف کی جانے والی مہم آپ کو تنہا کردے گی، کیا آپ واقعی تنہا ہیں؟ ہر ایک کو اس حوالے سے وسیع تناظر میں سوچنا چاہیے'۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں آنے والی غیر ملکی اعلیٰ شخصیات اور ہماری قیادت کی جانب سے دیگر ممالک کے کیے جانے والے اہم دوروں کو دیکھیں۔

ماسکو میں سہہ فریقی مذاکرات

ادھر پاکستان کی سرکاری نیوز ایجنسی اے پی پی کے مطابق ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور معاشی استحکام کیلئے افغانستان اور فلسطین کے عوام کے مقاصد کی سنجیدگی سے حمایت جاری رکھے گا، جو دنیا میں امن قائم کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

پاکستان، چین اور روس کے سہہ فریقی گروپ کے حالیہ ماسکو میں ہونے والے اجلاس پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری اور خاص طور پر پاکستان، افغانستان میں امن اور معاشی استحکام چاہتے ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ 27 دسمبر کو ہونے والے اجلاس میں گروپ میں توسیع کرتے ہوئے افغانستان کی شمولیت کا خیرمقدم کرنے پر مشاورت کے بعد اتفاق کیا۔

    تازہ ترین خبریں