جسٹس ثاقب نثار پاکستان کے 25 ویں چیف جسٹس بن گئے

خبر کا کوڈ: 1283358 خدمت: پاکستان
ثاقب نثار

صدر ممنون حسین نے جسٹس ثاقب نثار سے سپریم کورٹ کے 25 ویں چیف جسٹس کا حلف لے لیا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، جسٹس ثاقب نثار پاکستان کے 25 ویں چیف جسٹس بن گئے ہیں۔

ڈان نیوز کے مطابق، ایوان صدر میں ہونے والی حلف برادری کی تقریب میں وزیراعظم نواز شریف بھی شریک تھے، تقریب کا آغاز ڈاکٹر اکرام الحق نے تلاوت سے کیا،جس کے بعد میاں ثاقب نثار نے عہدے سے وفاداری کا حلف اٹھایا۔

چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، وفاقی وزرا، ارکان پارلیمنٹ سمیت مسلح افواج کے سربراہان بھی تقریب حلف برداری میں موجود تھے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ 7 دسمبر کو صدر مملکت ممنون حسین نے جسٹس ثاقب نثار کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی منظوری دی تھی۔

18 جنوری 1954 کو لاہور میں پیدا ہونے والے جسٹس ثاقب نثار نے پنجاب یونیورسٹی سے قانون کے ڈگری حاصل کی۔

جسٹس ثاقب نثار نے 1980 میں وکالت کا پیشہ اختیار کیا اور 1982 میں وہ ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ بن گئے جبکہ 1994 میں انہیں سپریم کورٹ کا ایڈووکیٹ بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔

1998 میں جسٹس ثابت نثار کو ہائی کورٹ کے جج کے عہدے پر ترقی دی گئی جبکہ 2010 میں انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کردیا گیا۔

واضح رہے کہ آئین پاکستان کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس 65 سال کی عمر کو پہنچنے پر ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں جبکہ ان کے بعد نیا چیف جسٹس سپریم کورٹ کا سینئر ترین بنتا ہے۔

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی آئین کے مطابق مقرر عمر کو پہنچنے پر ریٹائرڈ ہو گئے ہیں، وہ ستمبر 2015 میں سپریم کورٹ کے منصف اعلیٰ بنے تھے اور ایک سال 3 ماہ تک خدمات انجام دیتے رہے۔

ریٹائرڈ ہونے والے جسٹس انور ظہیر جمالی کا تعلق مشہور صوفی بزرگ حضرت قطب جمال الدین احمد حسنوئی کے گھرانے سے ہے جو پنجاب کے مشہور صوفی بزرگ بابا فرید الدین گنج شکر کے خلیفہ بھی تھے.

چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کے والدین قیام پاکستان کے وقت 1947 میں ہندوستان کے شہر جے پور سے ہجرت کرکے پاکستان آئے، وہ 31 دسمبر 1951 کو حیدر آباد میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے تجارت اور قانون میں بالتریب 1971 اور 1973 میں سندھ یونیورسٹی سے گریجویشن کی ڈگریاں حاصل کیں۔

جسٹس انور ظہیر جمالی چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ بھی رہ چکے ہیں۔

یاد رہے کہ نئے چیف جسٹس کا نام سامنے آنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے مختلف بیانات سامنے آتے رہے تھے۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کا کہنا تھا کہ 'پارلیمنٹ میں خورشید شاہ نے کہا ہے کہ تاثر یہ ہے کہ نئے چیف جسٹس کی ہمدردیاں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہیں جبکہ آرمی میں جو تقرریاں ہوئی ہیں وہ بھی ن لیگ کے لیے ہی ہیں'۔

انہوں نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے ایوان میں دیئے گئے بیان کا حوالہ دیا تھا جس میں خورشید شاہ نے کہا تھا، ’یہ انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے جب ہم سنتے ہیں کہ آنے والے چیف جسٹس ن لیگ کے اپنے آدمی ہیں‘۔

عمران خان کے مطابق انہیں علم نہیں اس بات میں کتنی صداقت ہے، لیکن جب مریم نواز ٹوئیٹ کرکے کہتی ہیں کہ آندھی نکل گئی تو اس کا کیا مطلب ہے؟ وہ خود ہی اس چیز کا تاثر دے رہے ہیں کہ یہ تبدیلیاں ان ہی کے لیے ہیں۔

ان اعتراضات اور بیانات کے جواب میں گذشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے تقرر میں حکومت کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔

اداروں کے سیاسی مقاصد کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا تھا کہ جج منصف ہوتا ہے, اس کا کسی سیاسی جماعت سے تعلق نہیں ہوتا اور اداروں پر انگلی اٹھانا ملک کی قسمت سے کھیلنے کے مترادف ہے۔

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے تقرر میں حکومت کا عمل دخل نہیں ہوتا، اسی طرح فوج کا اپنا نظام ہوتا ہے، اگر حکومت کو سیاسی فیصلہ کرنا ہوتا تو ایک درجہ سینئر جنرل کا پورا خاندان مسلم لیگی تھا، اسے لایا جاتا۔

    تازہ ترین خبریں