سال 2016؛ سعودی عرب میں 153 افراد کو سزائے موت/ شیخ النمر بھی شامل تھے

خبر کا کوڈ: 1284233 خدمت: دنیا
اعدام در عربستان

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے سعودی عرب میں سال 2016 کے دوران سزائے موت دئے جانے والوں کی تعداد 153 بتائی ہے جس میں معروف عالم دین شیخ النمر بھی شامل تھے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، سال 2016 کے دوران سعودی عرب میں 153 افراد کو سزائے موت دی گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی جانب سے جاری کیے گئے یہ اعداد و شمار سرکاری طور اعلان کردہ ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تھوڑے کم ہیں۔

رواں سال کے دوران قتل اور منشیات کی اسمگلنگ کے جرائم میں زیادہ تر افراد کے سر قلم کیے گئے۔

تاہم جنوری سعودی عرب کیلئے سال کا ایک ایسا مہینہ تھا  جس کے ایک ہی روز میں دہشت گردی کے الزام میں 47 افراد کے سر قلم کیے گئے۔

ان میں مشہور عالم دین شیخ نمر النمر بھی شامل تھے، جس کے بعد ایران میں مظاہرے پھوٹ پڑے اور مشتعل افراد کی جانب سے تہران میں سعودی سفارتخانے کو نذر آتش کرنے کی بھی کوشش کی گئی، جس کے بعد سعودی عرب نے ایران سے سفارتی تعلقات ختم کردیئے تھے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب میں قتل، منشیات کی اسمگلنگ، مسلح ڈکیتی، ریپ اور اسلامی تعلیمات کے تحت قائم اصولوں سے انکار پر سزائے موت دی جاتی ہے۔

انسانی حقوق کے گروپ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے قبل ازیں جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ سعودی عرب میں سال 2015 کے دوران 158 افراد کو سزائے موت دی گئی۔

    تازہ ترین خبریں