کیا راحیل شریف کی سعودی اتحاد کی سرپرستی کے لئے ریاض کے ساتھ موافقت ہو سکتی ہے؟

خبر کا کوڈ: 1285225 خدمت: پاکستان
راحیل شریف

اگرچہ سابق آرمی چیف راحیل شریف کے ریٹائرمنٹ سے چند ماہ پہلے سے ہی ان کی سعودی اتحاد کی سرپرستی کے حوالے سے خبریں گردش کر رہی تھیں، لہذا وہ نئے فوجی سربراہ کے ریاض دورے کے فورا بعد آل سعود کی خصوصی دعوت پر ان کے خصوصی طیارے کے ذریعے ریاض پہنچ گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، سابق آرمی چیف جنرل (ر) راحیل شریف شاہی مہمان کے طور پر سعودی عرب پہنچ گئے۔

راحیل شریف نے مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نوافل ادا کیے اور وہ عمرہ بھی ادا کریں گے، اس کے علاوہ ان کی سعودی شاہ سلمان اور وزیر دفاع سمیت دیگر شخصیات سے ملاقاتوں کا بھی امکان ہے۔

انھیں سعودی حکومت کی جانب سے مکمل پروٹوکول دیا گیا۔

انہیں لیجانے کیلئے سعودی حکومت نے خصوصی طیارہ پاکستان بھیجا تھا جس میں وہ شاہی مہمان کی حیثیت سے روانہ ہوئے۔

پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ر ) راحیل شریف کے اعزاز میں سعودی عرب میں خصوصی تقریب بھی منعقد کی جائے گی۔

واضح رہے کہ راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کے بعد بعض مبصرین انکا نام عرب اتحاد کی سربراہی سے جوڑ رہے تھے مگر اس بارے میں تاحال کوئی مستند خبر سامنے نہیں آسکی۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سابق آرمی چیف راحیل شریف ایسے موقع پر اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد پہلے دورے پر سعودی حکومت کی خصوصی دعوت پر ریاض روانہ ہو گئے ہیں کہ نئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ حال ہی میں سعودی عرب کا پہلا دورہ کر چکے ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی حکومت نے جنرل (ر) راحیل شریف کو ریٹائرمنٹ کے بعد یمن کیخلاف سعودی اتحاد کی کمان سنبھالنے کی پیشکش کی تھی تاہم سابق چیف آف آرمی سٹاف نے دہشت گردی کے خلاف بننے والے نام نہاد اسلامی فوجی اتحاد کی سربراہی قبول کرنے پر مشروط آمادگی ظاہر کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق، جنرل راحیل شریف نے شرط عائد کی تھی کہ انہیں متحارب گروپوں کے درمیان مصالحت کرانے کا اختیار بھی دیا جائے تو وہ اسلامی فوجی اتحاد کی کمان سنبھالنے کے لئے تیار ہیں، اگر انہیں مصالحتی کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی تو وہ محض کسی ایک فریق کی حمایت میں لڑنے والی فوج کو کمان کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔

ذرائع نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی حکومت نے اپنے پاکستانی سفارتکاروں کے ذریعے جنرل راحیل شریف کو تحریری پیغام بھجوایا ہے کہ اگر وہ مصالحتی اختیار کے ساتھ اسلامی فوجی اتحاد کی کمان سنبھالتے ہیں تو ایران نہ صرف یمن کی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے ان کا ساتھ دے گا بلکہ حوثیوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے بھی تیار ہے۔

اس سلسلے میں ایرانی حکومت نے عندیہ دیا تھا کہ یمن کے معاملہ پر پاکستان کے ثالثی کردار کو بھی قبول کرلیا جائے گا۔

ذرائع کے مطابق، جنرل راحیل شریف سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کے دوران اپنی اس خواہش کا اظہار کرچکے ہیں جبکہ ترک حکومت تک بھی یہ پیغام پہنچا چکے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں