افغانستان؛ شیعہ مساجد پر حملے فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کی دشمن پالیسی ہے، گورنر ہرات

خبر کا کوڈ: 1285298 خدمت: اسلامی بیداری
هرات

گونر ہرات نے شہر میں شیعہ مساجد پر حملوں کو بعض عناصر کی جانب سے افغانستان میں مذہبی فسادات پھیلانے کی بھونڈی کوشش قرار دیا اور کہا کہ بعض عناصر دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ افغانستان میں شیعہ غیر محفوظ ہیں اور حکومت شیعوں کو تحفظ دینے میں بالکل ناکام ہے۔

تسنیم خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، افغانستان کے شہر ہرات میں امام باقر علیہ السلام نامی مسجد میں بم دھماکہ کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم 6 نمازی زخمی ہوگئے ہیں۔

بم محراب والی دیوار میں چھپیایا گیا تھا۔

عینی شاہدین کے مطابق بم دھماکہ اتنا شدید تھا کہ آواز شہر کے دور دراز علاقوں میں بھی سنی گئی۔

دھماکے کے بعد مسجد زہریلے دھوئیں سے بھرگئی اور مقامی لوگوں نے زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا۔

محمد رفیق شیرزی نے تسنیم کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے 6 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

واضح رہے کہ افغان سیکورٹی اداروں نے شیعہ مساجد پر ممکنہ حملوں کی خبر دیتے ہوئے ہوشیار رہنے کی سفارش کی تھی۔

ہرات کے گورنر محمد آصف نے مسجد دھماکے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ دشمن افغانستان میں فرقہ وارانہ فسادات کروانا چاہتا ہے۔

گونر نے مزید کہا کہ بعض عناصر اس قسم کے اقدامات کے ذریعے مذہبی فسادات کروانے کی کوششیں کررہے ہیں، بعض لوگ دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کررہے ہیں کہ افغانستان میں شیعہ غیر محفوظ ہیں اور حکومت شیعوں کو تحفظ دینے میں بالکل ناکام ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہرات میں دو شیعہ ممتاز علما کو بھی گولیاں مار کر شہید کردیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں شیعہ مساجد اس سے پہلے بھی نشانہ بنتی رہی ہیں، گزشتہ ماہ ہرات شہر میں ہی رضائیہ مسجد پر حملہ کیا گیا تھا جس میں کئی نمازی زخمی ہوگئے تھے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری