تحریر: علی ناصر زادہ

پاک ایران تعلقات کی موجودہ صورت حال/ نادیدہ سعودی دباؤ گیس پائپ لائن کی عدم تکمیل کی بڑی وجہ

خبر کا کوڈ: 1285462 خدمت: مقالات
علی ناصر

پاکستان کی موجودہ حکومت پاک ایران گیس پائپ لائند پر بوجوہ کام آگے نہیں بڑھا سکی جس کی بظاہر وجوہات میں جہاں عالمی قوتوں سے معاہدے کے باوجود ایران پر عائد پابندیوں کے حوالے سے امریکی منافقانہ پالیسیاں ہیں وہیں پاکستانی حکومت یا بعض پاکستانی بااثر شخصیات پر نادیدہ سعودی دباؤ بھی ہوسکتا ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کو ارسال کئے گئے کالم میں پاکستانی تجزیہ نگار علی ناصر زادہ نے کہا ہے کہ ایران اورپاکستان کے تعلقات اتار چڑھاؤ کا شکار رہنے کے باوجود مثالی رہے ہیں مختلف ادوار میں ان کی نوعیت میں ردوبدل کی وجہ مختلف حکومتوں کی ترجیحات، حکمرانوں کے اتحادیوں کے مزاج اور اپنے اپنے مقاصد رہے ہیں لیکن یہ دونوں اطراف سے ہوتا ہے۔

افغانستان میں ایک عرصہ ایران اور پاکستان کی پالیسیاں مختلف دھاروں کا شکار تھیں مگر اب دونوں ایک سمت کے مسافرہیں، داعش کے خطرات دونوں کیلئے درد سر ہیں، ایران میں شمالی اتحاد کے عبداللہ عبداللہ اور اشرف غنی کو پذیرائی حاصل ہے تو پاکستان میں طالبان کو اور اب حالیہ کانفرنس میں اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ ویٹو پاورکی حامل دو بڑی طاقتیں چین اور روس مل کر طالبان رہنماؤں کو اقوام متحدہ کی دہشت گردی کی صف سے نکلوانے کیلئے اپناکردار ادا کریں گی۔

ایران نے اگر 1947 میں پاکستان کی آزادی کے بعد سب سے پہلے پاکستان کو آزاد ملک تسلیم کیا تو 1979 میں انقلاب اسلامی ایران کے بعد پاکستان نے بھی انقلاب کو تسلیم کرنے اور امام خمینی کی سربراہی میں تبدیل شدہ ایران کے ساتھ روابط مستحکم کرنے میں ذرا تاخیر نہیں کی اگرچہ اس وقت پاکستان میں فرقہ واریت اور عصبیت کو پروان چڑھانے کے حوالے سے سب سے زیادہ بدنام حکمران فوجی آمر ضیاء الحق کی حکومت تھی لیکن پاکستانی اور ایرانی خارجہ امور کی وزارتوں میں تعلقات معمول پر رہے اور روابط میں کوئی غیرمعمولی تبدیلی نہیں آئی۔

دونوں حکومتوں کے علاوہ بین المذاہب ہم آہنگی کے حوالے سے پاکستان میں جماعت اسلامی کے روحانی پیشوا سیدابوالاعلی مودودی کے امام خمینی کے ساتھ مثالی روابط تھے جو ابھی تک تسلسل کے ساتھ جاری ہیں لیکن بدقسمتی سے پاکستان اور ایران کے کچھ مذہبی طبقات کے دانستہ و نادانستہ غیر دانشمندانہ اقدامات نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو خراب کرنے کے علاوہ ملکوں کی سطح سے نیچے لا کر فرقہ وارانہ سطح پر تشہیر کی غیر ضروری کوشش کی جس سے نہ صرف تعلقات کے حوالے سے شہرت متاثر ہوئی بلکہ کئی اقتصادی و تجارتی معاملات رخنہ اندازی کا شکار ہوئے اور اس کے اثرات بعض مکاتب فکر کو بھی بھگتنا پڑے۔

ایران پاکستان گیس پائپ لائن معاہدے پر اگرچہ پیپلزپارٹی کے دور اقتدارمیں دونوں حکومتوں کے مابین ایک معاہدہ ہوا جس پر اس وقت کے صدور آصف علی زرداری اور احمدی نژاد نے دستخط کئے لیکن اس پر پاکستان میں موجودہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت بوجوہ کام آگے نہیں بڑھا سکی اور نہ ہی موجودہ دور حکومت میں کام بڑھتا نظر آتا ہے اس کی بظاہر وجوہات میں جہاں عالمی قوتوں سے معاہدے کے باوجود ایران پر عائد پابندیوں کے حوالے سے امریکی منافقانہ پالیسیاں ہیں وہیں پاکستانی حکومت یا بعض پاکستانی بااثر شخصیات پر نادیدہ سعودی دباؤ بھی ہوسکتا ہے۔

پاکستان کے معاشی مبصرین اس بات سے متفق ہیں کہ تاپی منصوبہ پاک ایران منصوبے کا متبادل ہوسکتا ہے اور نہ ہی افغانستان میں مستقل قیام امن تک اس پر عمل درآمد ممکن ہے، عجیب اتفاق ہے کہ اس معاہدے کی بازگشت نوازشریف کے ہر دور اقتدارمیں سنائی دیتی ہے، ان کے پچھلے عہد اقتدار میں بھی یہ تاثر دیا گیا تھا کہ صبح کہ شام، تاپی منصوبہ مکمل ہوا چاہتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہنوز یہ منتظر فردا ہے لیکن افغانستان کے معاملے پر روس چین حالیہ پیش رفت کی کامیابی کی صورت میں شاید افغانستان میں امن قائم ہوجائے کیونکہ پاکستان، چین، روس اور ایران بدلتی ہوئی عالمی ترجیحات کے باعث نہ صرف خطے میں امریکی اثرورسوخ کم کرنا چاہتے ہیں بلکہ طالبان کی شراکت اقتدار کے باعث داعش کے خطرات کو بھی روکنے کے خواہاں ہیں، افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کے باعث امریکی فوجوں کے قیام کی توسیع بھی خطے کے ان تمام ممالک کیلئے درد سرہے۔

پاکستان اور ایران اقتصادی تعاون تنظیم کے بھی رکن ہیں جو 1985 میں تہران میں قائم کی گئی جس میں اول الذکر ممالک کے علاوہ ترکی بھی شامل ہے، اس تنظیم کا مقصد تینوں ممالک کے مابین تجارتی تعلقات کوبڑھانا، یورپی یونین کی طرز پر اقتصادی روابط قائم کرنا اور سرمایہ کاری کے ممکنات کی تلاش تھی، اسے بناتے ہوئے ذہن میں یورپی یونین کی طرح کا سنگل مارکیٹ کا پیمانہ بھی تھا، اس کا سیکرٹریٹ اور ثقافتی مرکز تہران، اقتصادی بیورو ترکی اور سائنٹیفک بیورو اسلام آباد میں قائم کئے گئے لیکن اس کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ 2017 کے شروعات میں بھی پاکستان اور ایران کا تجارتی حجم پاک افغانستان تجارتی حجم سے بھی کم یعنی صرف اسی ملین ڈالر ہے جبکہ ایران کے صدر حجۃالاسلام حسن روحانی کے حالیہ دورہ کے دوران یہ حجم پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف طے کیا گیا ہے جس پر بدقسمتی سے ابھی تک دونوں طرف سے کوئی سنجیدہ اور قابل ذکر پیش رفت دکھائی نہیں دیتی۔

اس تجارتی ہدف کا حصول صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر دونوں ملکوں کے درمیان ٹیکس فری آزادانہ تجارت کا معاہدہ ہوجائے جو 1999 سے توجہ کا منتظر ہے البتہ ایرانی صدر کے حالیہ دورہ پاکستا ن کے بعد ایک بڑی پیش رفت دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست بینکاری کا آغاز ہے، براہ راست بینکاری شروع ہونے سے تاجروں کے مسائل کم ہی نہیں ہوں گے امید کی جاسکتی ہے کہ باہمی تجارت کی پرواز بھی قابل دید ہو جائے گی اسی طرح ایک طویل تعطل کے بعد دونوں ممالک کے مابین دفاعی شعبوں میں تعاون اور ایک دوسرے کی افواج کی تربیت کاعمل بھی دوبارہ شروع ہوچکا ہے جو یقیناً مستحسن عمل ہے۔

تجارت اور اقتصادی معاملا ت کے علاوہ پاک ایران بارڈر پر سیکورٹی کی صورت حال، سمگلنگ کی روک تھام اور بلوچستان کی صورت حال پر دونوں ممالک کا تعاون مثالی ہے، پاکستان میں ایران کے موجودہ سفیر مہدی ہنردوست دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط اور مستحکم کرنے کیلئے شبانہ روز کوشاں ہیں، وہ پاکستان میں تجارت، صنعت، ادب، صحافت، تعلیم، زراعت اور دیگر مختلف شعبوں سے براہ راست رابطے میں ہیں، وہ پاکستان اور ایران کے مابین ان شعبوں کے باہمی روابط بڑھانے کیلئے بھرپور محنت کررہے ہیں اسی طرح ایران میں پاکستان کے سفیر آصف علی خان درانی بھی اپنے حصے کاکام بخوبی انجام دے رہے ہیں، براہ راست بینکاری، اسلام آباد تہران براہ راست پروازوں کے اجراء اور ایران کی پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں شرکت سے دونوں ممالک کے تعلقات میں نہ صرف تجارت اور سرمایہ کاری میں مزید وسعت اور استحکام پیدا ہوگا بلکہ زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی قربت بڑھے گی۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری