پاکستان کی وفاقی حکومت کا 18 سال بعد مردم شماری کرانے کا فیصلہ

خبر کا کوڈ: 1286310 خدمت: پاکستان
سرشماری در پاکستان

آئین کے مطاق، پاکستان میں مردم شماری ہر 10 سال بعد ہوتی ہے۔ سب سے پہلی مردم شماری آزادی کے چار سال بعد 1951ء میں ہوئی تھی جبکہ آخری مرتبہ 1998ء میں کرائی گئی۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، وفاقی حکومت نے 15 مارچ سے مردم شماری کرانے کا فیصلہ کرلیا جب کہ چیف شماریات کا کہنا ہےکہ مردم شماری دو مرحلوں میں ہوگی اور حساس علاقوں کو فوج کے حوالے کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان کے آئین کے مطابق، اس ملک میں مردم شماری ہر 10 سال بعد ہوتی ہے۔ سب سے پہلی مردم شماری آزادی کے چار سال بعد 1951ء میں ہوئی تھی۔ پھر 1961،1972،1981 اور 1998 میں ہوئی۔ 1972ء والی مردم شماری اصل میں 1971 میں ہونی والی تھی، مگر بھارت سے جنگ کی وجہ سے ایک سال تاخیر کا شکار ہوئی اور پھر 1991 کی مردم شماری سیاسی گہما گہمی کے باعث موخر ہوئی۔

پاکستان میں آخری بار مردم شماری 1998ء میں کرائی گئی۔

ذرائع کے مطابق، پاکستان بیورو شماریات میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے چیف شماریات آصف باجوہ نے  بتایا کہ مردم شماری کا پہلا مرحلہ چاروں صوبائی دارالحکومتوں سے 15مارچ کو بیک وقت شروع ہوگا، مردم شماری کے دوسرے مرحلے کے اختتام کے بعد 60 روز میں مردم شماری کے ابتدائی نتائج فراہم کردیئے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے لیے 2008 والے فارم استعمال ہوں گے، ان فارمز پر صوبوں کے اعتراض دور کر دیئے گئے ہیں، شمار کنندگی کے لیے فوج کے 45 ہزار اہلکار حصہ لیں گے، شماریات ڈویژن کے ہر شمار کنندہ کے ساتھ ایک فوجی اہلکار ہوگا اور ہر شمار کنندہ دو بلاک میں مردم شماری کرے گا جب کہ ہر بلاک 2 سے اڑھائی سو گھروں پر مشتمل ہے۔

آصف باجوہ نے مزید بتایا کہ مردم شماری میں سیکیورٹی کے لیے فوج کی طلب ایک چوتھائی کردی گئی ہے، سیکورٹی کے لیے فوج کے علاوہ رینجرز، ایف سی اور پولیس بھی حصہ لے گی، ملک کے حساس علاقوں کے لیے صوبوں سے کہا ہے کہ ان کی شناخت کریں، جن حساس علاقوں  کی نشاندہی ہوگی وہ علاقے فوج کے حوالے کر دیئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مردم شماری میں سیکیورٹی کے لیے 7 ارب روپے کے اخراجات ہوں گے۔

چیف شماریات کا کہنا تھا کہ مردم شماری کے پہلے مرحلے میں سندھ کے شہروں کراچی ،حیدر آباد، میر پور خاص، خیبر پختونخوا کے شہروں پشاور اور مردان، پنجاب کے شہروں لاہور، فیصل آباد، سرگودھا اور ڈیرہ غازی خان، پورا صوبہ بلوچستان جب کہ اسلام آباد میں مردم شماری کی جائے گی، دوسرے مرحلے میں فاٹا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور باقی رہ جانے والے علاقے شامل ہونگے۔ آصف باجوہ نے کہا کہ پنجاب ،سندھ اور خیبر پختونخوا کے تحصیل ہیڈ کوارٹر میں مردم شماری کا سامان پہنچا دیا گیا ہے اور ماسٹر ٹریننگ ہو چکی ہے۔

یاد رہے کہ مردم شماری کے لیے بجٹ میں رقم مختص ہوچکی ہے، اس لیے رواں سال مارچ یا اپریل میں مردم شماری ناگزیر ہے۔

دوسری طرف، سابق چیف جسٹس نے عرصہ پہلے کہا تھا کہ مردم شماری نہ کروا کر ملی بھگت کے تحت کام چلایا جا رہا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حکومت پاکستان ملکی آبادی کے بارے میں صحیح اعداد شمار مہیا نہ کرنے پر بین الاقوامی سطح پردباؤ کا شکار ہے۔

    تازہ ترین خبریں