سات روزہ فارسی کورس برائے مترجمین کی اختتامی تقریب/ فلم و تصاویر

خبر کا کوڈ: 1287491 خدمت: ایران
مترجمین

راولپنڈی میں جاری سات روزہ دورہ آموزش زبان فارسی برائے مترجمین کی اختتامی تقریب سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا: مترجم دو زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان پل کی مانند ہے۔ اگر یہ پل مضبوط ہوگا تو دو اقوام اور ثقافتوں کے مابین رشتہ مضبوط ہوگا۔

خبررساں ادارے تسنیم کے مطابق، مترجم دو زبانوں اور ثقافتوں کے درمیان پل کی مانند ہے۔ اگر یہ پل مضبوط ہوگا تو دو اقوام اور ثقافتوں کے مابین رشتہ مضبوط ہوگا۔ ترجمہ کرنے کے لئے صرف دو زبانوں پر عبور حاصل ہونا کافی نہیں بلکہ متعلقہ ثقافتوں کا علم بھی ضروری ہے۔ غیر معیاری ترجمہ شدہ کتب علم کو پھیلانے کی بجائے شکوک پیدا کرتی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار  راولپنڈی میں جاری سات روزہ  دورہ آموزش زبان فارسی برائے مترجمین کی اختتامی تقریب سے مقررین  نے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

تقریب سے معروف شاعر اور ادیب افتخار عارف، ثقافتی قونصلر قونصلیٹ جمہوری اسلامی ایران اسلام آباد شہاب الدین دارئی، مرکز تحقیقات فارسی اسلام آباد کے سربراہ عیسیٰ کریمی، ڈائریکٹر جنرل خانہ فرہنگ راولپنڈی علی آقا نوری اور مہمان خصوصی اور ایران سے خصوصی طور پر تشریف لائے ہوئے معروف سکالر اور صدر شعبہ اردو تہران یونیورسٹی ڈاکٹر علی بیات نے خطاب کیا۔

افتخار عارف کا کہنا تھا کہ انسانی تاریخ کے ارتقاء میں ترجمہ نے اہم کردار ادا کیا۔ یونانی، لاطینی، عربی، سنسکرت، جیسی زبانوں کے تراجم عالمی تہذیبی سرمائے کا بنیادی نقطہ رہے ہیں۔ وہ تہذیبیں محکم رہیں ہیں جنہوں نے ترجمہ پر توجہ دی ہے۔

اسلامی فقہ ترجمہ کے میدان میں پیچھے رہنے کے باعث ترقی نہ کر سکا۔ دوسری ثقافتوں اور زبانوں کے ساتھ ہمارا ارتباط کم ہونے کی وجہ سے فکری صورتحال متاثر ہوئی ہے۔ ترجمہ کے لئے ضروری ہے کہ زبانوں پر دسترس کے ساتھ موضوع کا علم بھی ہو۔ ہر مترجم ہر موضوع کی کتاب کا ترجمہ نہیں کر سکتا۔ حوزہ علمیہ قم میں ہمارے ہزارہ اور سکردو کے علماء شہید مطہری کی کتب کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ اللہ انہیں جزائے خیر دے۔ لیکن ترجمے بڑے خراب ہیں۔ ایسا ترجمہ ہونے سے نہ ہونا بہتر ہے۔

افتخار عارف نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں ترجمے کی مضبوط روایت موجود ہے۔ تراجم کا کام ایران میں نہایت کامیابی کے ساتھ ہو رہا ہے۔ ایران کی بڑی کامیابی ہے کہ اس نے دین اور فرہنگ کے درمیان مثالی توازن قائم کیا۔ اس سے ہم سیکھ سکتے ہیں اور دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

ڈاکٹر علی بیات کا کہنا تھا کہ انفرادی تراجم کی نسبت گروہی تراجم زیادہ بہتر ثابت ہوتے ہیں۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ فارسی سے اردو اور اردو سے فارسی تراجم کے لئے فارسی کے استادوں پر مشتمل ایک انجمن تشکیل دی جائے جو تراجم کے کاموں کو انجام دے۔

ان کا کہنا تھا کہ افتخار عارف جیسے لوگ اس انجمن کی سربراہی کریں۔ مقام معظم رہبری سید علی خامنہ کے مشیر برائے فرہنگ و ادب اور زبان فارسی حداد عادل تک انجمن زبان فارسی کی تجویز پہنچائی جائے تاکہ فارسی تراجم کا معیار بلند کیا جا سکے۔ تقریب کے اختتام پر سات روزہ کورس میں شرکت کرنے والے فارسی کے استادوں میں اسناد تقسیم کی گئیں۔

نیچے دئے گئے ویڈیو میں ڈاکٹر علی بیات کی گفتگو سنئے:

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری