پاکستان کیخلاف مزید سرجیکل اسٹرائیک کر سکتے ہیں، بھارتی آرمی چیف

خبر کا کوڈ: 1287573 خدمت: دنیا
بپن روات

بھارت کے نئے آرمی چیف جنرل بپن راوت نے گیدڑ بھبکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک ایک ضروری پیغام تھا، مستقبل میں ایسی کارروائیوں کے امکان کومستردنہیں کیا جا سکتا۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، بھارت کے نئے آرمی چیف جنرل بپن راوت نے گیدڑ بھبکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک ایک ضروری پیغام تھا، مستقبل میں ایسی کارروائیوں کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

گزشتہ روزبھارتی "این ڈی ٹی وی" کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ سرجیکل اسٹرائیک میں پیغام زیادہ تھا جودینا ضروری تھا، اگر سرحدپار دہشت گردی کے کیمپ ہیں اور وہاں سے ہماری طرف ایل اوسی پر صورتحال کو خراب کیا جاتا ہے تو پھر ہم دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنیکا حق رکھتے ہیں۔

اپنے انٹرویو میں انہوں نے مزید کہا کہ سرحد پار کے عسکریت پسندوں سے نمٹنے کیلیے بہت سی حکمت عملیاں زیر غور ہیں اور سرجیکل اسٹرائیک کا مظاہرہ ان سے میں صرف ایک ہے، ہم دیگر طریقوں پر بھی کام کر رہے ہیں۔ اگر ضرورت پڑی تو بھارتی فوج سرحد پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے سے ہچکچائے گی نہیں۔

بھارتی آرمی چیف جو کشمیر میں آزادی کی تحریک کو کچلنے اور لائن آف کنٹرول کے معاملات کو دیکھنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں انھیں مودی حکومت کے عقاب صفت وزیر دفاع منوہر پاریکر نے سینئر ترین افسر کو آرمی چیف بنانے کی کئی عشروں کی روایت کو ترجیح دیکر بھارت کا نیا آرمی چیف مقرر کیا ہے۔

دریں اثنا لکھنؤ میں خطاب کرتے ہوئے بھارت کے ریٹائر ہونے والے آرمی چیف نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت بیک وقت چین اور پاکستان کے ساتھ دو محاذوں پر لڑ سکتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں