راحیل شریف کے بعد جنرل اشفاق ندیم بھی سعودی اتحاد کا حصہ

خبر کا کوڈ: 1287600 خدمت: اسلامی بیداری
راحیل شریف

سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی سعودی اتحاد کی سربراہی سے متعلق غیرمصدقہ اطلاعات کے بعد اب جنرل اشفاق ندیم کو راحیل شریف کا سینئر ترین اور معتمد ترین نائب کی ذمہ داریاں سونپے جانے کی افواہیں گردش کررہی ہیں تاہم اشفاق ندیم کی تاحال ریٹائرمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس بارے میں وثوق سے کچھ کہنا قبل ازوقت ہے ۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف سعودی عرب میں موجود ہیں اور غیرمصدقہ اطلاعات ہیں کہ دہشتگردی کے خلاف 40 ملکی اتحاد کی کمان سنبھالنے سے متعلق راحیل شریف کے معاملات طے پاگئے ہیں اور اب ملتان کے سابق کور کمانڈرز جنرل اشفاق ندیم  کو راحیل شریف کا سینئر ترین اور معتمد ترین نائب کی ذمہ داریاں سونپے جانے کی افواہٰیں گردش کررہی ہیں تاہم اشفاق ندیم کی تاحال ریٹائرمنٹ نہ ہونے کی وجہ سے اس بارے میں وثوق سے کچھ کہنا قبل ازوقت ہے ۔ 

 

ڈیلی پاکستان کے مطابق، دہشتگردی کے خلاف سوات اور وزیرستان میں ضرب عضب کے ریٹائرڈ ہیرو جمع کر کے دہشتگردی کے خلاف اسلامی ممالک کی جائنٹ کمانڈ میں شامل کئے جائیں گے۔

روزنامہ کے مطابق، یہ افواہ بھی عام ہے کہ شاید ملتان کے سابق کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم اور بہاولپور کے سابق کور کمانڈر جاوید اقبال رمدے جو ابھی تک پاک فوج میں موجود ہیں تاہم موجودہ آرمی چیف کے آگے آنے اور ان دونوں سپر سیڈ کئے جانے کے نتیجے میں ایسی افواہیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ اگر انہوں نے پاک فوج سے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کر لیا تو ملتان کے سابق کور کمانڈر جنرل اشفاق ندیم جو جنرل (ر) راحیل شریف کی فوج میں ڈیوٹی کے دوران ان کے چیف آف جنرل سٹاف رہے تھے اور اعلیٰ عسکری صلاحیتوں کے حامل ہیں انہیں دہشتگردی کے خلاف اسلامی ممالک کی فوج میں جنرل (ر) راحیل شریف کا سینئر ترین اور معتمد ترین نائب کی ذمہ داری سونپی جائے گی تاہم اس بارے میں یقین سے کچھ کہنا مشکل ہے کیونکہ لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم ابھی پاک فوج میں موجود ہیں اور پورٹ قاسم سے فوجی فرٹیلائزر مختلف اہم اداروں میں ان کی تقرری کی خبریں بھی گردش کر رہی ہیں۔

روزنامہ ڈیلی پاکستان نے لکھا ہے کہ جنرل (ر) راحیل شریف نے  اگلے ماہ اگر اسلامی اتحاد سے متعلق  اپنی نئی ذمہ داری سنبھالی تو  اعلیٰ اور درمیانے درجے کے ریٹائرڈ افسروں کی بھی ایک بڑی تعداد انتہائی پرکشش معاوضوں اور بہترین سہولتوں کے ساتھ اسلامی امن فوج کی حصہ بن جائے گی۔

واضح رہے کہ پاکستان میں دہشتگردوں کے خلاف تابڑ توڑ آپریشن کا سہرا اپنے سر لینے والے جنرل راحیل شریف کے بارے میں سعودی قیادت میں دہشتگردوں کی حمایت میں بنے والے نام نہاد اسلامی ملٹری الائنس کے باقاعدہ سربراہ مقرر ہونے کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔

اگرچہ کہا جاتا ہے کہ راحیل شریف نے اس اتحاد کی قیادت شرائط کے تحت قبول کی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یمن کیخلاف تقریبا دو سال سے جاری جنگ سے واضح ہوگیا ہے کہ یہ اتحاد سعودی حکومت کے دفاع کیلئے تشکیل دیا گیا ہے نہ کہ امت مسلمہ کی حفاظت اور دہشتگردوں کا قلع قمع کرنے کیلئے کیونکہ اس اتحاد میں شامل افواج یمن کے مظلوم عوام پر مسلسل بمباری کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں ہزاروں عام شہری شہید اور لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں۔

    تازہ ترین خبریں