بھارت خطے میں امن برقرار رکھنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، وزیر داخلہ

خبر کا کوڈ: 1289772 خدمت: پاکستان
چوهدری نثار علی خان

برطانوی اور یورپی پارلیمنٹ کے 3 رکنی وفد سے ملاقات کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ خطے میں امن برقرار رکھنے میں بھارت سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے برطانوی اور یورپی پارلیمنٹ کے 3 رکنی وفد سے ملاقات کرتے ہوئے خطے اور بین الاقوامی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

پاکستانی وزیر داخلہ نے اس موقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو خطے اور عالمی امن کیلئے دی جانے والی قربانیوں کو تسلیم کرنے کے بجائے، تاریخی اور زمینی حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے کچھ عناصر کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ جن کے پاس صرف سطحی معلومات ہیں اور وہ دوسروں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں، تنقید کرنے والوں کی فہرست میں وہ بھی شامل ہیں جن کے اپنے ہاتھ مظلوم لوگوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور وہ خطے میں پائیدار امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کو نہ صرف پاکستان کے موقف کو کھلے دل سے سننا چاہیے بلکہ اس کے درست نقطہ نظر کو بھی سمجھنا چاہیے۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ برطانیہ ان ممالک میں سے ہے جنھوں نے نہ صرف پاکستان کا موقف سنا بلکہ اسے سمجھا بھی ہے۔

چوہدری نثار نے برطانیہ کی جانب سے خطے کے امن اور اداروں کو مضبوط کرنے کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کو سراہا۔

ملاقات کے دوران پاکستان اور برطانیہ کے تعلقات، مختلف حوالوں سے جاری تعاون، دو طرفہ پارلیمانی امور اور خطے کی صورت حال خاص طور پر مسئلہ کشمیر کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چوہدری نثار نے کشمیر اور مسلم دنیا کے حوالے سے برطانوی پارلیمنٹ کی جانب سے کی جانے والی نشاندہی کو سراہا۔

وزیر داخلہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے وفد کے اراکین نے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستانیوں کیلئے ان کے اٹھائے جانے والے اقدامات قابل تعریف ہیں۔

وفد کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ نے ملک میں دہشت گردی کے واقعات کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

انھوں نے وزیر داخلہ کی جانب سے ان اقدامات کی بھی تعریف کی جن کی مدد سے پاکستان میں کسی بھی غیر ملکی کو بغیر درست دستاویزات کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

وفد میں لارڈ نذیر احمد، لارڈ قربان حسین اور یورپی پارلیمنٹ کے رکن افضال خان شامل تھے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری