راحیل شریف کی سعودی اتحاد کی سرپرستی پاکستان کے مفادات کے منافی، علامہ راجہ ناصر عباس

خبر کا کوڈ: 1290295 خدمت: اسلامی بیداری
راجہ ناصر عباس

مجلس وحدت مسلمین کے سربراہ نے اس بیان کے ساتھ کہ سعودی ریالوں کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے، کہا کہ اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ کی حیثیت سے راحیل شریف کی تقرری پاکستان کے مفادات کے منافی ہے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، اسلامی فوجی اتحاد کے سربراہ کی حیثیت سے راحیل شریف کی تقرری پاکستان کے مفادات کے منافی ہےپاکستان کے عزت و وقار کو داؤ پر لگانے کے لیے سعودی ریال بے دریغ استعمال کیے جا رہے ہیں۔ 39 ممالک کا یہ اتحاد امت مسلمہ کو مسلکی بنیاد پر تقسیم اور تکفریت کے فروغ کے لیے ہے۔

ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی سیکرئٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے سابق جنرل راحیل شریف کا سعودی قیادت میں بننے والے اسلامی عسکری اتحاد کے سربراہ کی خبر پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس الائنس کے اہداف اور اغراض و مقاصد کو خفیہ رکھنا شکوک وشبہات میں اضافے کا باعث ہے۔ داعش کے خلاف جنگ لڑنے والی اسلامی ممالک کو اس اتحاد میں شامل نہ کرنا سعودی بدنیتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ کا دوست امت مسلمہ کا خیرخواہ نہیں ہو سکتا۔ فوجی اتحاد کشمیر و فلسطین میں غیر مسلموں کے وحشیانہ مظالم پر خاموش کیوں ہے۔

انہوں نے کہا پاکستان کو غیر محسوس طریقے سے عالمی تنازعات میں دھکیل کر پاکستان میں داعش کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔

سربراہ ایم ڈبلیو ایم  نے کہا کہ پاکستان کی اہم اور حساس معلومات راحیل شریف کے پاس امانت ہیں، انہیں کسی دوسرے ملک کے لیے پیشہ وارانہ فرائض کی ذمہ داری نہیں لینی چاہیے۔ راحیل شریف قومی ہیرو ہیں، انہیں یہ عہدہ واپس کر کے اپنی ساکھ قائم رکھنی چاہئے۔

    تازہ ترین خبریں