امام خامنہ ای سے قم المقدس میں ہزاروں لوگوں کی ملاقات؛

ایک آزاد اور بہادر عدلیہ کی تعریف اور قدر کرنی چاہئے

خبر کا کوڈ: 1291210 خدمت: ایران
دیدار هزاران نفر از مردم قم با رهبر معظم انقلاب

امام خامنہ ای نے قم المقدس میں ہزاروں لوگوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک آزاد، خودمختار اور بہادر عدلیہ کی قدر کرنی چاہئے۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، امام خامنہ ای سے حضرت بی بی فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کی وفات کے موقع پر قم المقدس میں ہزاروں لوگوں نے ملاقات کا شرف حاصل کیا۔

امام خامنہ ای کے خطاب کے اہم ترین عناوین قارئین کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں۔

  • دشمن قومی خود مختاری اور اتھارٹی کی علامت سمجھے جانے والے اداروں پر حملہ کرنے کے درپے ہے۔
  • مجھے حکام کے حالیہ بیانات سے کوئی سروکار نہیں، یہ اختلافات اللہ تعالی کی قدرت و طاقت کے ذریعے ہی ختم ہوں گے، لیکن ایک مستقل، آزاد اور بہادر عدلیہ کی قدر کرنی چاہئے۔
  • ایک چیز جو دشمن کو اپنے اہداف کے حصول میں ناکام بنادیتی ہے، یہ ہے کہ ہم ایک خودمختار عدلیہ اور بہادر حکومت قائم کرسکتے ہیں اور ان کو مزید تقویت بخشا جا سکتا ہے۔
  • آج برطانوی خطے اور ایران کیخلاف منصوبہ بندیاں کر رہے ہیں، جن میں سے ایک منصوبہ خطے کے ممالک کی تحلیل کرنا ہے۔ کہتے ہیں کہ عراق، شام، لیبیا اور یمن کا وقت گزرچکا ہے۔ ایران کا نام زبان پہ نہیں لاتے کیونکہ ایرانی عوام کے افکار سے خوفزدہ ہیں، جیسا کہ محمد رضا نے کہا تھا کہ میرے بعد، ایران ایرانستان میں تبدیل ہوجائیگا، برطانوی بھی یہی چاہتے ہیں۔
  • جب ہم "دشمن" کہتے ہیں تو یہ ایک نعرہ نہیں، امریکہ کے خوش اخلاق وزیرخارجہ اپنے ایک خط میں آنے والی حکومت کو سبق سکھاتے ہیں کہ؛ جتنا ممکن ہو ایران پر دباؤ ڈالے اور پابندیوں کو اسی طرح لاگو رہنے دے، ایران کیخلاف سخت اقدامات سے تمہیں کریڈٹ ملے گا بالکل اسی طرح جس طرح کے پہلے ملا ہے۔ ایٹمی معاہدے کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے ابھی سے جمع ہوگئے ہیں تاکہ غور و فکر کریں کہ ایران کو مزید کس حد تک محدود کیا جاسکتا ہے۔ ان کے خیال کے مطابق، ایٹمی معاہدہ 10 سے 12 سال دوام پیدا کریگا۔
  • اقتصادی پیشرفت اور عوام کے اقتصادی مسائل کا حل اقتدار کے عوامل میں سے ہیں۔ دشمن کا پابندیوں سے مقصد یہ ہے کہ عوام کو اسلامی نظام سے جدا کریں اور ان کو بےروزگاری اور ڈپریشن سے دوچار کریں، ہم ایسے ہی بیانات دیتے رہیں اور عوام کو مشکلات کا سامنا ہو۔ اور پابندیوں کو بھی ایسے انداز میں ختم کرنے کا اعلان کرتے ہیں کہ عوام کے مشکلات حل نہ ہوں۔ ہمارے مقابلے کا راستہ یہی ہے کہ ایسا کام کریں جس سے ہمارا اقتصاد قوی، مقاوم، مستحکم اور پائدار ہو یعنی اقتصاد مقاومتی۔
    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری