سعودی اتحاد؛ راحیل شریف کی شرکت سے ضیاء الحق کا نفرتوں بھرا دور واپس آسکتا ہے، حامد میر

خبر کا کوڈ: 1292086 خدمت: پاکستان
حامد میر

معروف اینکر پرسن حامد میر نے اس بیان کے ساتھ کہ اگر سابق آرمی چیف سعودی اتحاد کے سربراہ بنتے ہیں تو پاکستان سے مزید ریٹائرڈ فوجی افسران بھیجنے کی توقع کی جائے گی اس صورتحال کی وجہ سے مشرق وسطی کی بھڑکی آگ کے شعلے پاکستان میں آسکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، معروف صحافی حامد میر نے نجی چینل "زیم ٹی وی" کے ایک پروگرام  میں جنرل راحیل شریف کے سعودی فورس کے کمانڈر انچیف بننے کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنرل راحیل شریف اس کولیشن کے کمانڈر انڈر چیف بنتے ہیں تو ان کی اپنی انفرادی طور پر تو کوئی حیثیت نہیں ہے ان کی اہمیت تو آرمی چیف کی وجہ سے ہے، اگر وہ اس کولیشن کے کمانڈر انچیف بنتے ہیں تو ظاہر ہے پاکستان سے یہ توقع کی جائے گی کہ وہ اپنے ریٹائرڈ فوجی وہاں بھیجے۔

حامد میر کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کی وجہ سے مڈل ایسٹ کی بھڑکی ہوئی آگ کے شعلے پاکستان میں آسکتے ہیں۔ جب کہ ہم تو پہلے ہی بہت مسائل میں پھنسے ہوئے ہیں ہمیں قوم کو فرقہ وارانہ آگ سے محفوظ رکھنا چاہئے۔

انہوں نے تاکید کی کہ ایرا ن اور سعودی عرب کو سی پیک میں شامل کرنا چاہئے تاکہ ان دونوں ممالک میں قربتیں بڑھ جائیں  لیکن اگر پاکستان اس فورس میں شامل ہوتا ہے اور راحیل شریف اس کے کمانڈر انچیف بن جاتے ہیں تو ہم کئی سال پیچھے چلے جائیںگے اور جو ضیاء الحق نے نفرتیں پھیلائی تھی وہ دور واپس بھی آسکتا ہے۔

    تازہ ترین خبریں
    خبرنگار افتخاری