المحمدیہ اسٹوڈنٹس پر امریکی پابندیوں کیخلاف احتجاج؛

لاکھوں انسانوں کا خون بہانے والے امریکہ کو مسلمانوں پر پابندیوں کا کوئی حق نہیں

خبر کا کوڈ: 1292554 خدمت: پاکستان
المحمدیہ اسٹوڈنٹس

مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین، ملک بھر کی طلباء جماعتوں کے صدور، وکلاء اور تاجر رہنماﺅں نے المحمدیہ اسٹوڈنٹس پر امریکی پابندیوں کیخلاف احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی پابندیاں پاکستان کی سلامتی وخودمختاری پر حملہ ہے، شکست خوردہ امریکہ کی پابندیوں کو مسترد اور جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔

خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق، مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین، ملک بھر کی طلباء جماعتوں کے صدور، وکلاء اور تاجر رہنماﺅں نے المحمدیہ اسٹوڈنٹس پر امریکی پابندیوں کیخلاف ناصر باغ مال روڈ پر ہونےو الے احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ المحمدیہ سٹوڈنٹس پر امریکی پابندیاں پاکستان کی سلامتی وخودمختاری پر حملہ ہے۔ شکست خوردہ امریکہ کی پابندیوں کو مسترد اور جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔

امریکی پابندیوں کے خلاف طلباء ملک گیر تحریک چلائیں گے۔ تعلیم پر امریکی حملہ کیخلاف عدالت بھی جائیں گے۔ المحمدیہ سٹوڈنٹس کی تعلیمی سرگرمیوں سے علیحدگی کی تحریکیں اور لسانیت و صوبائیت پرستی دم توڑ رہی ہے۔ ملک بھر کی طلباء تنظیمیں اور سیاسی و مذہبی جماعتیں ان پابندیوں کو تسلیم نہیں کرتیں۔ لاکھوں انسانوں کا خون بہانے والے امریکہ کو مسلم تنظیموں اور رہنماﺅں پر پابندیوں کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ بھارتی خوشنودی کیلئے لگائی گئی پابندیوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ سرزمین پاکستان کے تحفظ کیلئے طلباءہر قسم کی قربانی پیش کرنے کیلئے تیار ہیں۔

ان خیالا ت کا اظہار دفاع پاکستان کونسل اور جماعةالدعوة کے مرکزی رہنما پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، علامہ ابتسام الہی ظہیر، امیر العظیم، محمد راشد، خواجہ جمشید امام، ابوالہاشم ربانی، سہیل چیمہ، غلام عباس صدیقی، عبدالرحمان، عبدالحنان خالد، حافظ محمد محسن، عثمان شفیق، نذیر خاں، علی عمران شاہین، انجینئر محمد طیب، ڈاکٹر عزیر احمد، انجینئر ذیشان وارث، انجینئر احمد قیوم، جنید الرحمان، حنظلہ عماد، احمد حماس، سہیل بشیر، اعجاز احمد و دیگر نے متحدہ طلباء محاذ کے زیر اہتمام منعقدہ احتجاجی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں طلبا موجود تھے۔

مقررین کے خطابات کے دوران امریکہ و بھارت کیخلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔ طلبا کی جانب سے امریکی پابندیاں نامنظور، المحمدیہ سے رشتہ کیا، لاالہ الااللہ، المحمدیہ کے نوجوان، نظریہ پاکستان کے پاسبان اور ظلم کے یہ ضابطے ہم نہیں مانتے جیسے زوردار نعرے لگائے جاتے رہے۔

احتجاجی جلسہ کے اختتام پر امریکی پرچم بھی نذر آتش کیا گیا۔

جماعةالدعوة کے مرکزی رہنما حافظ عبدالرحمن مکی نے اپنے خطاب میں کہاکہ المحمدیہ سٹوڈنٹس ملک بھر کے تعلیمی اداروں میںنوجوانوں کو دفاع پاکستان کیلئے متحد وبیدار اور بیرونی سازشوں سے آگاہ کر رہی ہے۔ ان کے کام کرنے سے بلوچستان میں بھارت و امریکہ کے علیحدگی کے منصوبے، نوجوانوں میں فتنہ تکفیر اور ایک دوسرے کو لڑانے کی سازشیں ناکام ہوئیں تو امریکہ پریشان ہو گیا۔ یہ انڈیا و امریکہ کی شکست ہے۔

انہوںنے کہا کہ امریکہ کی طرف سے جماعةالدعوة کے رہنماﺅں محمد سرور، شاہد محمود اور طلباء تنظیم المحمدیہ سٹوڈنٹس پر پابندی لگائی گئی لیکن اب اس کی پابندیوں کی کوئی حیثیت نہیں رہی۔ اس کا نیوورلڈ آرڈر بکھر رہا ہے۔ امریکہ بھارتی خوشنودی کیلئے پابندیوں کا اعلان کر رہا ہے۔ ہم صاف کہتے ہیں کہ المحمدیہ سٹوڈنٹس پر پابندیاں پاکستان کی سلامتی وخودمختاری پر حملہ ہے۔ پاکستان ایک آزاد ملک ہے۔ طلبا کی ملک گیر تنظیم المحمدیہ سٹوڈنٹس کسی قسم کی منفی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہے بلکہ یہ مظلوم کشمیریوں کی مدد، پاکستانی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ اور بیرونی سازشوں کے توڑ کیلئے بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔

عبدالرحمن مکی نے کہاکہ المحمدیہ سٹوڈنٹس پر پابندیاں ختم نہ ہوئیں تو طلبا ملک گیر احتجاج کریں گے۔ امریکیوں کی یہ جسارت اور پاکستان کی سلامتی پر حملوں کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ ہم پورے ملک کے طلباء ایک مرکزی مقام پر اکٹھا کریں گے۔ عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے اور امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کو عدالتی ذریعہ سے باقاعدہ نوٹس بھیجیں گے اور کہیں گے کہ تمہارے پاس ہمارے رہنماﺅں اور المحمدیہ سٹوڈنٹس پر پابندیوں کا کوئی ثبوت ہے تو لیکر آﺅ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے ہر اقدام سے امریکہ اپنے زوال کے قریب سے قریب تر ہو رہا ہے۔

انہوںنے کہاکہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے۔ امریکہ کی قراردادیں اصل میں نریندر مودی کا واویلا ہے۔ بھارت کو اپنے جرائم کی سزا ضرور ملے گی۔ جمعیت اہلحدیث پاکستان کے ناظم اعلیٰ علامہ ابتسام الہٰی ظہیر نے کہا کہ آج سب طلباء تنظیمیں اور مذہبی و سیاسی قیادت اعلان کرتی ہے کہ ہم المحمدیہ سٹوڈنٹس پر پابندیوں کو مسترد کرتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو دین اسلام کے پرچم کی سربلندی اور نظریہ پاکستان کے تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ اسلام، آئین اور جمہوریت انہیں ایسا کرنے سے نہیں روکتی، امریکہ کون ہوتا ہے ڈکٹیشن دینے والا۔

انہوںنے کہاکہ المحمدیہ کا جرم یہ ہے کہ یہ سکیولرازم،تعلیمی اداروں میں بے حیائی، ملک میں دہشت گردی اور قتل وغارت گری کو نہیں مانتے۔

جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما امیر العظیم نے کہا کہ شہر لاہور میں طلباءنے امریکی پابندیوں کو ہوا میں اڑا دیا ہے۔یہ پیغام ہے کہ پابندی لگانے والے ہمیں پابند نہیں کر سکتے۔ پابندی لگانی ہے تو ان پر لگاﺅ جنہوں نے افغانستان میں مسلمانوں کا قتل عام کیا، عراق میں ایٹمی ہتھیاروں کے نام پر لاکھوں لوگوں کو موت کا تحفہ دیا گیا، شام کے شہروں کو برباد کرنے والوں پر پابندی لگائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بھی طلباءتنظیموں پر پابندیاں لگیں ہم ان کے عزائم جانتے ہیں۔ امریکی پابندیوں کے بعد آج سے میں المحمدیہ سٹوڈنٹس کا طالب علم ہوں۔ ہمیں غزنوی، غوری میزائل بھی چاہئے لیکن غوری اور غزنوی جیسا حکمران بھی چاہئے۔

المحمدیہ سٹوڈنٹس پاکستان کے مسﺅل محمد راشد نے کہا کہ ہم دنیا کو پیغام دے رہے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے بے بنیاد الزامات لگا کر المحمدیہ سٹوڈنٹس پر پابندی لگائی گئی ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔ہم پر امریکہ نے الزام لگایا گیا کہ ہم کشمیر کی تحریک کی حمایت کرتے ہیں۔طلباءکی تربیت کے لئے کورسز کرواتے ہیں۔ ہمارا قصور یہ ہے کہ ہم طلباءکی تربیت کرتے ہیں کہ ہم نے نوکرنہیں بلکہ دنیا کا امام بننا ہے۔ ہم ملک کی حفاظت کے لئے نوجوانوں کو تیار کر رہے ہیں یہی بات امریکہ کو برداشت نہیں وہ پاکستان میں قتل عام ،دہشت گردی دیکھنا چاہتا ہے لیکن المحمدیہ سٹوڈنٹس سب کو متحد کر رہی ہے۔

سینئر کالم نگار و تجزیہ نگارخواجہ جمشید امام نے کہا کہ امریکہ نے المحمدیہ سٹوڈنٹس پر پابندی نہیں بلکہ قرآن کے احکامات پڑھنے اور لکھنے پر پابندی لگائی۔ تعلیم پیدائشی، قرآنی، انسانی حق ہے اس کے لئے میں المحمدیہ سٹوڈنٹس کے ساتھ رہوں گا۔

جماعةالدعوة لاہور کے مسﺅل ابوالہاشم ربانی نے کہاکہ امریکہ نے اپنے قانون اور ضابطے تبدیل کر لئے ہیں۔جس طرح انڈیا کہتا ہے امریکہ اسی طرح کرنا شروع کر دیتا ہے۔ المحمدیہ سٹوڈنٹس پر پابندیوں کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔

مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کے صدر سہیل چیمہ نے کہا کہ امریکی پابندیوں کے بعد حکمرانوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ہم المحمدیہ سٹوڈنٹس پر امریکی پابندیوں کو نہیں مانتے۔طلباءمتحد ہیں اور مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن، متحدہ طلباءمحاذ المحمدیہ سٹونٹس کے ساتھ ہے اور رہے گی۔

جمعیت طلباء اسلام کے صدر عبدالرحمان نے کہا کہ المحمدیہ سٹوڈنٹس پر پابندیاں تعلیمی نظام پر پابندیوں کے مترادف ہے۔ امریکہ نے 2016میں سولہ ہزار میزائل گرائے، امریکہ کا کردار انسانیت کو شرم دلا رہا ہے،المحمدیہ سٹوڈنٹس پر پابندیوں میں ناکامی کا شکار ہوں گے۔اسلامی تحریک طلباءکے چیئرمین غلام عباس صدیقی نے کہا کہ امریکی پابندیوں کو پاﺅں کی ٹھوکر پر رکھتے ہیں۔ طلباءتنظیمیں ایک ہیں اور رہیں گی۔ پاکستانی حکمران المحمدیہ سٹوڈنٹس پر پابندیوں کے حوالہ سے خاموش نہ رہیں۔

تحریک انصاف سٹوڈنٹس ونگ کے رہنما حافظ محمد محسن نے کہا کہ آج طلباءنے پیغام دیا کہ ہم امریکہ سے نہیں ڈرتے اور اسکی پابندیاں نہیں مانتے، تمام طلباء تنظیمیں ایک ہیں، ہم یکجا ہیں اور امریکی پابندیوں کو مسترد کرتے ہیں۔

تحریک نوجوان پاکستان کے رہنما نذیر خاں نے کہا کہ ہم المحمدیہ سٹوڈنٹس پر پابندیوں کی مذمت کرتے ہیں اور اس بات کی یقین دہانی کرواتے ہیں کہ تحریک نوجوانان پاکستان المحمدیہ سٹوڈنٹس کے ساتھ ہے۔ طلباءہی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں۔

المحمدیہ سٹوڈنٹس کے ترجمان حنظلہ عماد نے انگریزی میں پرجوش خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی الزامات بے بنیاد ہیں۔ پابندیاں ہمارا راستہ نہیں روک سکتیں۔ امریکہ خود دہشت گردی کو فروغ دینے والا ملک ہے۔

طلباء رہنماعثمان شفیق نے کہا کہ بیرونی قوتوں کے لبرل پاکستان بنانے کی تمام سازشیں و منصوبے ناکام ہوئے جس کے باعث پابندی لگائی گئی۔ طلباءپابندیوں کوپاﺅں کی ٹھوکر پر رکھتے ہیں۔ المحمدیہ سٹوڈنٹس رابطہ تنظیم کے مسﺅل عبدالحنان خالد ،المحمدیہ پروفیشنل کے رہنما انجینئر طیب، المحمدیہ سٹوڈنٹس کے رہنما ڈاکٹر عزیر احمد، جنید الرحمان، انجینئر ذیشان وارث، انجنیئر احمد قیوم، علی عمران شاہین، احمد حماس، سہیل بشیر، اعجاز احمدنے کہا کہ امریکی پابندیوں سے ہم نہیں ڈرتے۔ پاکستان کے طلباءآج جمع ہیں اور دنیا کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ طلباءامریکی پابندیوں کے خلاف متحد ہیں۔ پاکستان کے نوجوانوں کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔

    تازہ ترین خبریں